متعدد اہم امور پر تبادلے خیال ، مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
ریاض:سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جمعہ کی شب جدہ کے السلام پیلس میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا استقبال کیا۔اس موقع پر دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کی غرض سے مذاکرات کا دور بھی ہوا، جس کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اعلیٰ رابطہ کونسل تشکیل دینے کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔ ملاقات میں دونوں ملکوں کے گہرے تعلقات اور انہیں وسعت دیتے ہوئے مختلف شعبوں میں باہمی رابطے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ دونوں ملکوں کو علاقائی اور بین الاقوامی محاذ پر مسائل کے حوالے سے تبادلہ خیال پر بھی زور دیا گیا تاکہ خطے کے امن واستحکام کو مضبوط بنایا جا سکے۔اسلامی وحدت کے فروغ میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم نے علاقائی اور بین الاقوامی امن کے فروغ اور امت مسلمہ کو درپیش مسائل کے حل میں سعودی قیادت کی کوششوں کو سراہا۔سعودی ویژن 2030 کی روشنی میں سرمایہ کاری کے مختلف مواقع کی نشاندہی پر دونوں ملکوں کی قیادت نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات مضبوط بنانے کے سلسلے میں بھی مذاکرات کیے۔جدہ کے السلام پیلس میں ہونے والی ملاقات میں دونوں ملکوں نے اسلامی دنیا کی طرف سے انتہا پسندی، تشدد اور فرقہ واریت کے خاتمے کی کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ بین الاقوامی سطح پر امن کے فروغ کی سنجیدہ کوششوں پر بھی مذاکرات میں زور دیا گیا۔ اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے فتنے کے انسداد کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنا ہوگی۔ دہشت گردی کا کسی مذہب سے تعلق ہے نہ کسی نسل اور نہ ہی کسی رنگ سے۔ ہر طرح کی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔ فریقین نے فلسطینی عوام کے تمام جائز حقوق کی مکمل حمایت کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کو خصوصاً حق خود ارادیت، 1967 سے ماقبل کی سرحدوں میں خودمختار ریاست قائم کرنے اور مشرقی القدس کو اس کا دارالحکومت بنانے کا حق ہے۔ عرب امن فارمولے اور اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں میں یہ حقوق تسلیم کیے ہیں۔پاکستان اور سعودی عرب نے شام اور لیبیا کے بحرانوں کے سیاسی حل اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ اور اس کے ایلچیوں کی کوششوں کی حمایت کا بھی اظہار کیا۔


اپنی رائے یہاں لکھیں