پاکستان کے صوبہ پنجاب کے پہاڑی علاقے مری میں شدید برف باری میں پھنس کر عورتوں اور بچوں سمیت 22 افراد کی ہلاکت کے بعد امدادی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے جن میں سول اداروں کے علاوہ فوج اور نیم فوجی اداروں کے اہلکار بھی شریک ہیں۔

ریسکیو 1122 کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق مرنے والوں میں 10 مرد، دو خواتین جبکہ 10 بچے شامل ہیں۔

زیادہ تر ہلاکتیں کلڈنہ کے علاقے میں سڑک پر پھنسی چار گاڑیوں میں ہوئیں۔ ان میں اسلام آباد پولیس کے اہلکار نوید اقبال اور ان کے خاندان کے آٹھ افراد کے علاوہ مردان سے تعلق رکھنے والے چار رشتہ دار اور ایک اور خاندان کے چار افراد بھی شامل ہیں۔

ہلاک شدگان کی میتوں کو سنیچر کی رات مری سے اسلام آباد اور راولپنڈی منتقل کر دیا گیا ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے مری میں سنو ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور تحصیل کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فی الحال مری میں برفباری نہیں ہو رہی تاہم اگلے کچھ گھنٹوں میں مزید بارش اور برفباری کی پیشگوئی ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے سیاحوں کی اموات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر معمولی برفباری اور لوگوں کی جانب سے موسم کا جائزہ لیے بغیر وہاں پہنچنے کی وجہ سے انتظامیہ تیار نہ تھی۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا ’مری کے راستے میں سیاحوں کی المناک اموات پر نہایت مضطرب اور دلگرفتہ ہوں۔ ضلعی انتظامیہ خاطرخواہ تیار نہ تھی کہ غیر معمولی برفباری اور موسمی حالات کو ملحوظِ خاطر رکھے بغیر لوگوں کی بڑی تعداد میں آمد نے آ لیا۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان ہلاکتوں کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے اور وہ ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے کڑے قواعد لاگو کرنے کے احکامات صادر کر چکے ہیں۔

وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ اسلام آباد سے تو مری کی جانب جانے والے راستے جمعے کی رات بند کر دیے گئے تھے تاہم خیبرپختونخوا سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا اور اس جانب سے راستہ بند نہیں کیا جا سکا۔

صحافی زبیر خان کے مطابق جھیکا گلی کے علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وہاں سنیچر کی شب بھی راستے مکمل طور پر صاف نہیں کیے جا سکے اور وہاں اب بھی گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ مری کو ایبٹ آباد سے ملانے والی شاہراہ پر بھی گاڑیاں موجود ہیں۔

امدادی سرگرمیوں کی صورتحال
پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی جانب سے سنیچر کی شام ٹوئٹر پر جاری کردہ پیغام میں بتایا گیا ہے کہ ’مری کےعلاقوں میں پھنسے تمام خاندانوں اور شہریوں کو سرکاری ریسٹ ہاؤسز اور ہوٹلوں میں پہنچا دیا گیا ہے اور ادویات، خوراک، گرم کپڑوں سمیت ان کی ضروریات پوری کی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پولیس ریکارڈ کےمطابق جمعے کی رات تک مری میں 33,745 گاڑیاں موجود تھیں جن میں سے 33,373 گاڑیوں کا انخلا ہو چکا ہے۔‘

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق مری اور آس پاس کے علاقوں میں پھنسی تمام گاڑیوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ مری اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں پانچ ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں متاثرین کو خوراک اور گرم ملبوسات اور کمبل فراہم کیے جا رہے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فوج کے انجینیئرز اور جوان بلڈوزروں کی مدد سے جھیکا گلی اور کلڈنہ اور کلڈنہ اور باڑیاں کو ملانے والی سڑکوں سے برف صاف کرنے میں مصروف ہیں۔

اس سے قبل وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے کہا تھا کہ کلڈنہ اور باڑیاں کے علاقوں میں امدادی کارروائیاں اب بھی مکمل نہیں کی جا سکی ہیں اور زیادہ تر ہلاکتیں بھی وہیں ہوئی ہیں۔

اپنی ٹویٹ میں فواد چوہدری نے لکھا کہ ’کمشنر مری کے مطابق انتظامیہ کی انتھک کوششوں سے مری ایکسپریس وے اب کلیئر کر دی گئی ہے اور سینکڑوں گاڑیوں کو واپس کر دیا گیا ہے۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ باڑیاں اور گلڈنہ کے علاقوں میں مشکلات زیادہ ہیں۔ بجلی کی ترسیل میں جہاں خرابی ہوئی اسے ٹھیک کرنے کا کام جاری ہے اور صورتحال میں مسلسل بہتری ہو رہی ہے۔

دوسری جانب آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی فوج کے انجینئیرز نے جھیکا گلی گھڑیال روڈ کو کھول دیا ہے جبکہ ابھی وہ جھیکا گلی گلڈنہ روڈ کو کھولنے میں مصروف ہیں۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ پھنسے ہوئے سیاحوں کو آرمی پبلک سکول گلڈنہ میں عارضی رہائش اور خوراک فراہم کی جا رہی ہے۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے اعلان کیا تھا کہ اسلام آباد اور دیگر علاقہ جات سے مری کی طرف جانے والے راستے بند کر دیے گئے ہیں اور صرف خوراک اور امدادی سامان لے جانے والی گاڑیوں کو ہی داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق مری جانے والے راستے اتوار کی رات نو بجے تک بند رہیں گے۔

’اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو سنبھالنا ممکن نہیں‘
وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے سنیچر کی شام پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکومت پوری طرح الرٹ ہے، وزیرِ اعظم نے اس صورتحال کا نوٹس لے لیا ہے جبکہ فوج کی پانچ پلاٹونز اور ایف ڈبلیو او کی مشینری امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ اتنے کم وقت میں اگر کسی جگہ پہنچ جائیں تو انتظامیہ کے لیے اتنی بڑی تعداد کو سنبھالنا ممکن نہیں ہوتا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’ایک ہفتے سے انتظامیہ کہہ رہی تھی کہ وہاں نہیں جائیں‘ اور وہ ایک مرتبہ پھر کہیں گے مری سمیت تمام بالائی علاقوں میں اس وقت بے پناہ رش ہے، چنانچہ لوگ وہاں جانے سے گریز کریں۔

واضح رہے کہ فواد چوہدری نے چند دن قبل اپنی ایک ٹویٹ میں مری میں لوگوں کے بے پناہ اضافے کو خوش آئند قرار دیا تھا۔

اُنھوں نے لکھا تھا کہ ’مری میں ایک لاکھ کے قریب گاڑیاں داخل ہو چکی ہیں ہوٹلوں اور اقامت گاہوں کے کرائے کئی گنا اوپر چلے گئے ہیں، سیاحت میں یہ اضافہ عام آدمی کی خوشحالی اور آمدنی میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔‘

اپنے اس بیان کے باعث فواد چوہدری اپنی پریس کانفرنس میں سوالات کی زد میں رہے تاہم اُن کا کہنا تھا کہ جب حکومت کہتی ہے کہ سیاحت بڑھے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ’48 گھنٹوں میں لاکھوں کروڑوں لوگ وہاں پہنچ جائیں، کیونکہ ایسے نظام منہدم ہو جائے گا۔‘

ایک صحافی کے سوال میں اُنھوں نے دوبارہ اپنے اس بیان کو دہرایا اور کہا کہ پاکستان میں معاشی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور لوگوں کا سیاحت کے لیے نکلنا خوش آئند ہے۔ تاہم اُنھوں نے کہا کہ جتنا بڑا یہ واقعہ ہوا ہے اس سے سیکھ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ ملک کے شمالی علاقہ جات کے سیاحتی مقامات میں برفباری اور بارشوں کے باعث جمعے کی دوپہر کو پہلے خیبر پختونخوا کے علاقے گلیات میں سیاحوں کا داخلہ بند کرنے کا اعلان کیا گیا اور شام کے وقت مری کو بھی سیاحوں کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔

اس سے قبل ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر یہ خبر جاری کی گئی تھی کہ ایک ہزار گاڑیاں اس وقت بھی مری میں پھنسی ہوئی ہیں جبکہ 23 ہزار گاڑیوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔

ڈی ایس پی مری نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ چار فٹ تک برفباری ہو چکی ہے اور درجنوں درخت سڑک پر گر چکے ہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے کہا جا رہا کہ مشینری ایک حد تک کام کر سکتی ہے اور درختوں کے گرنے کی وجہ سے ہمیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یاد رہے کہ گلیات میں شدید برفباری کی وجہ سے جمعے کو کم از کم دو مقامات پر برفانی تودے گرے جبکہ بجلی کے تین کھمبے گرنے سے بھی سڑک کی صورتحال انتہائی خطرناک ہو چکی ہے۔

حکام کے مطابق فیصلے کا مقصد مری اور گلیات سے واپس آنے والے سیاحوں کے لیے سہولت فراہم کرنا ہے اور یہ کہ سیاحوں کو مری اور گلیات سے باحفاظت واپس لانا ہے۔

ساتھ ہی ساتھ حکام نے مری میں موجود لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹریفک پولیس اور دیگر حکام کے ساتھ تعاون کریں، غلط پارکنگ نہ کریں، گاڑیاں راستے میں پارک کر کے سیلفیاں نہ لیں اور ڈبل لین بنانے سے اجتناب کریں۔

مری میں موجود ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول کو بتایا ہے کہ رات کو مری میں برف کا ایک شدید طوفان آیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت مری میں مواصلات کی صورتحال بھی شدید خراب ہے۔

گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ترجمان احسن حمید کے مطابق برفباری کے سبب زمینی حالات اس بات کی اجازت نہیں دے رہے کہ مزید سیاح گلیات میں داخل ہوں چنانچہ گلیات میں اتوار تک سیاحوں کے داخلے پر پابندی رہے گی۔

’ایک روز میں تین فٹ برف‘
گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ترجمان احسن حمید نے صحافی زبیر خان کو بتایا کہ جمعے کو ہونے والی برف باری انتہائی شدید تھی۔ اُن کے مطابق گلیات میں صرف ایک روز میں تین فٹ برفباری ہوئی ہے جبکہ دوسرے سپیل کے دوران جمعے سے پہلے چار روز تک ہونے والے برفباری مجموعی طور پر اڑھائی فٹ تھی جس نے نظام زندگی تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ برفباری اتنی شدید تھی کہ نہ صرف یہ کہ روڈ صاف کرنے کا کام متاثر ہوا ہے بلکہ توحید آباد سے دروازہ کش کے مقام پر تین بجلی کے کھمبے گر گئے ہیں اور یہ تینوں بجلی کی مرکزی لائن کے تھے۔ حکام کے مطابق واپڈا کو ان کی مرمت کے لیے کم از کم 24 گھنٹوں کی مہلت درکار ہے۔

احسن حمید کے مطابق جمعے کو دوپہر کے وقت گلیات میں پہلے ایک مقام پر برفانی تودہ گرا تھا اور شام کے بعد ایک اور مقام پر برفانی تودا گرا ہے جس سے ایبٹ آباد کو مری سے ملانے والا روڈ مکمل طور پر بلاک ہو چکا ہے، جس وجہ سے روڈ سفر کے قابل نہیں رہا ہے۔

مری پولیس کے مطابق یہی نہیں، بلکہ سیاحوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے جمعے کے روز مری کا رخ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ’اس وقت موسمی حالات بھی اچھے نہیں ہیں اور شدید برفباری کے سبب روڈ صاف نہیں ہو سکتا کیونکہ اس وقت دو دو فٹ برف گِر چکی ہیں۔‘

پولیس کے مطابق گاڑیاں پھسلن کی شکار ہیں اور کئی گاڑیاں روڈ پر کھڑی ہیں جن کو مدد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ درختوں، بجلی کے کھمبوں کے ٹوٹنے کے خدشات موجود ہیں۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں