Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

پاکستان کی مشکل بڑھی،آئی ایم ایف نے کہا، روک دو سرکاری ملازمین کی تنخواہ

IMG_20190630_195052.JPG

اسلام آباد: کنگالی کے دور سے گزر رہے پاکستان کو عالمی برادری نے کہا ہے کہ وہ اپنے ملازموں کی تنخواہ روک دے اور آنے والے بجٹ میں مالی استحکام پر توجہ دے ۔ پاکستان کا کل قرض وہاں کی معیشت کا 90فیصد تک پہنچ چکا ہے ۔ اب پاک حکومت کے لئے آئی ایم ایف کی اس دو مانگوں کو پورا کرنا مشکل ہورہا ہے ۔ دی ایکسپریس ٹربیون نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بھاری قرض کی وجہ سے عمران خان حکومت کے لئے مالی استحکام آسان نہیں ہوگا پاکستان میں بڑھتی مہنگائی نے بھی لوگوں کی کمائی نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہے ۔

حالانکہ ، اس دوران پاک حکومت ان67,000سکاری پوسٹ کو ختم کرنے کے لئے مجبور ہو گئی ہے ، جو بیتے ایک سال یا اس سے زیادہ وقت سے خالی ہیں ، اس کے ساتھ ہی اب حکومت نے الگ الگ محکموں کے لئے گاڑیوں کی خرید پر بھی روک لگادی ہے ۔

آئی ایک ایف نے کی یہ مانگ
آئی ایم ایف نے سرکاری ملازموں کی تنخواہ روکنے کے علاوہ ،عمران خان حکومت سے کہا ہے ، کہ آئندہ بجٹ میں بنیادی بجٹ خسارے کا بھی اعلان کرے ۔ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ سود کی ادائیگی کو چھوڑ کر پاکستان کی جی ڈی پی کا 184عرب روپے یا 0.40فیصد ہونا چاہئے۔

آج بجٹ پیش کرنے والا ہے پاکستان

12جون کو پاکستان حکومت بجٹ پیش کرنے والی ہے ۔ عمران خان حکمومت کے لئے چیلینج ہو گا کہ وہ مالی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لئے ضروری قدم اٹھائے ۔ پاکستانی وزارت خزانہ نے نے آئی ایم ایف سے ویڈیو کانفرنسنگ کے زریعے لگاتار ابطہ میں ہیں ۔ بنیادی بجٹ کے 0.40 فیصد کی جگہ پاکستان نے سجائو دیاہے کہ یہ جی ڈی پی کا 1.9فیصد ی ہو نا چاہئے جو کہ کل 875عرب روپے ہوگا

اس کے علاوہ اگلے مالی سال میں سود کی ادائیگی قریب 3لاکھ کروڑ روپے ہوگا جوکہ جی ڈی پی کا 6.5فیصدی ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ آئی ایم ایف کے مطابق بجٹ خسارہ 7فیصدی ہو نا چاہئے جبکہ پاک حکومت اسے 8.4فیصدی رکھنے کے حق میں ہیں جو کہ 3.9لاکھ کروڑ روپے ہو گا۔