پاکستان میں حکومت نے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔جمعرات کو مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ ’پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 30، 30 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔‘’اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 209 روپے 86 پیسے ہوگئی ہے۔ پیٹرول پر اب بھی 8 روپے کی سبسڈی دے رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب 12 بجے سے ہوگا۔‘’ڈیزل کی نئی قیمت 204 روپے 15 پیسے ہوگئی ہے۔ ڈیزل پر آج بھی 54 روپے کی سبسڈی دے رہے ہیں۔‘مشیر خزانہ نے کہا کہ ’31 مئی کے بعد بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اس لیے ہمیں بھی قیمتیں بڑھانا پڑیں۔‘انہوں نے تسلیم کیا کہ ’پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔‘

مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق ’اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرتے تو روپیہ مزید گرتا اور زیادہ مہنگائی ہوتی۔‘مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ ’حکومت چلانے کا ماہانہ خرچ 40 ارب روپے ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات پر 120 ارب روپے کی سبسڈی کہاں سے دیں؟’اگر قیمتیں نہ بڑھاتے تو حکومت کو 120 ارب روپے کا نقصان ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ڈیڑھ ماہ مشکل سے گزرے گا پھر آسانی ہوگی۔‘انہوں نے کہا کہ ’اگر روس 30 فیصد سستی گندم اور تیل دے گا تو ضرور خریدیں گے، روس سے گندم خریدنے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔‘