پاکستان میں حکومت پنجاب نے قرآن کی لازمی تعلیم یقینی نہ بنانے والے سرکاری و نجی سکولوں کے خلاف کارروائی شروع کر دی۔محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب کی نگران ٹیمیں لاہور ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے یہ کارروائیاں کر رہی ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کے قرآن لازمی مضمون کے حکم پر عملدرآمد کے لیے سیشن ججز نگران مقرر کیے ہیں۔

عدالت نے ہدایت کی ہے کہ پنجاب کے سیشن جج اپنے اضلاع میں عدالتی حکم پر عملدرآمد کی نگرانی کریں۔

جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے التمش سعید نامی شہری کی درخواست پر سماعت کے بعد جمعے کوعبوری تحریری حکم جاری کیا۔دوران سماعت عدالت نے سیکریٹری سکول ایجوکیشن کی عدالتی حکم پر عمل درآمد کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

ہائی کورٹ نے حکومتی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے ڈسٹرکٹ سیشن ججز کو نگرانی کا حکم دیتے ہوئے محکمہ تعلیم کی ٹیموں کو 15 نومبر سے قرآن نہ پڑھانے والے سکولوں کے خلاف کارروائی کی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔

پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (پی سی ٹی بی) کے اعلامیے کے مطابق پہلے مرحلے میں پہلی سے پانچویں جماعت تک سکولوں میں ناظرہ قرآن کی تعلیم دی جائے گی جبکہ چھٹی جماعت سے بارہویں جماعت تک ترجمے کے ساتھ قرآن پڑھانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔پی سی ٹی بی نے صوبے بھر کے تمام سکولوں کو رواں تعلیمی سال 22-2021 سے ہی ناظرہ قرآن پڑھانے کی تاکید کی ہے لیکن بیشتر سکولوں میں ابھی تک ان احکامات پر عمل نہ ہو سکا۔

محکمہ تعلیم پنجاب کے ترجمان عمر خیام نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ صوبے کے تمام ضلعی حکام کو ہدایات کی گئی ہے کہ وہ سکولوں میں تعلیم قرآن کا مضمون پڑھانے سے متعلق روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ بھجوائیں۔انہوں نے بتایا کہ مانیٹرنگ ٹیمیں کو سکولوں کا روزانہ دورہ کرنے اور احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کا ریکارڈ مرتب کرنے کا کہا گیا ہے۔

عمر خیام کے مطابق محکمہ سکول ایجوکیشن تفصیلی رپورٹ تیار کر رہا ہے جس کی روشنی میں سکولوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ تاہم ضلعی حکام اپنے طور پر بھی سکولوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔

دوسری جانب آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا نے سکولوں میں تعلیم قرآن مضمون لازمی قرار دینے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بیشتر سکولوں میں ابھی تک عربی ٹیچر موجود نہیں اور اسلامیات پڑھانے والوں سے ہی قرآن کی تعلیم دلوائی جا رہی ہے۔

’پنجاب میں 51ہزار سرکاری جبکہ ایک لاکھ سے زائد نجی سکول ہیں۔ ان میں قرآن پڑھانے کے لیے علیحدہ سے اساتذہ مقرر کرنا ہوں گے تاکہ قرآنی تعلیمات سے متعلق بچوں کو پوری طرح آگاہی فراہم کی جاسکے۔‘

لاہور کے رہائشی میاں فرمان علی کے مطابق ان کے تین بچے ہیں جنھیں قرآن مجید کی تعلیم دینے کے لیے گھر میں الگ سے قاری آتے ہیں۔

ان کے خیال میں اگر سکولوں میں قرآن کی تعلیم بہتر انداز میں دی جائے تو بچوں کو گھروں میں الگ سے قرآن پڑھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔