• 425
    Shares

اسلام آباد، 6 اگست (یوا ین آئی) پاکستانی سپریم کورٹ نے رحیم یارخان میں مندر پر حملے میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری کے علاوہ شر پسندی پر اکسانے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ مندر کی بحالی پر آنے والے اخراجات کی رقم ہر صورت ملزمان سے وصول کی جائے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے دو رکنی بینچ نے رحیم یار خان میں مندر پر ہونے والے حملے کے واقعے پر لیے گئے از خود نوٹس پر سماعت کی۔سماعت میں پنجاب کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) انعام غنی، چیف سیکریٹری اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت مندر پر حملہ ہوا تو انتظامیہ اور پولیس کیا کر رہی تھی۔

ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنر، اے سی اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس موقع پر موجود تھے، انتظامیہ کی ترجیح مندر کے اطراف میں واقع ہندوؤں کے 70 گھروں کا تحفظ تھا۔چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کام نہیں کر سکتے تو انہیں ہٹا دیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک 9 سال کے بچے کی وجہ سے یہ سارا واقعہ ہوا جس کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی، پولیس نے ماسوائے تماشہ دیکھنے کے کچھ نہیں کیا۔

جسٹس قاضی امین نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ کیا کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی؟ جس پر آئی جی نے بتایا کہ ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی، مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات لگائی گئی ہیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل سہیل محمود نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وزیر اعظم نے بھی معاملہ کا نوٹس لے لیا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وزیر اعظم اپنا کام جاری رکھیں، لیگل کیس عدالت دیکھے گی۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ پولیس اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہوئی، پھر پولیس ملزمان کی ضمانت، صلح کروائے گی، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سرکاری پیسے سے مندر تعمیر ہو گا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ واقعے کو 3 دن ہو گئے ایک بندہ پکڑا نہیں گیا، واقعے پر پولیس کی ندامت دیکھ کر لگتا ہے پولیس میں جوش ولولہ نہیں، پولیس کے لوگ پروفیشنل ہوتے تو اب تک معاملات حل ہوچکے ہوتے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہندوؤں کا مندر گرادیا، ان کے دل پر کیا گزری ہوگی، سوچیں مسجد شہید کردی جاتی تو مسلمانوں کا ردعمل کیا ہوتا۔

سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ دندناتے پھرتے ملزمان ہندو کمیونٹی کے لیے مسائل پیدا کر سکتے ہیں، یقینی بنایا جائے کہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے کمشنر رحیم یار خان کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب بالخصوص متاثرہ علاقے میں قیام امن کے لیے ویلج کمیٹی بنانے کی ہدایت کی۔ساتھ ہی عدالت نے آئی جی اور چیف سیکریٹری سے ایک ہفتے میں پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 13 اگست تک ملتوی کردی۔
خیال رہے کہ ایک 9 سالہ بچے کے مبینہ طور پر مدرسے میں پیشاب کردینے پر دارالعلوم عربیہ تعلیم قرآن کے ایک معلم حافظ محمد ابراہیم کی شکایت پر بھونگ پولیس نے بچے کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-اے کے تحت 24 جولائی کو مقدمہ درج کیا تھا۔تاہم مقامی عدالت نے چند روز قبل اسے ضمانت دے دی تھی جس کے بعد کچھ افراد نے علاقے کے عوام میں اشتعال پھیلایا اور تمام دکانیں بند کروادی تھیں۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔