پاکستانی دہشت گرد اب ہندستانی فوج میں خدمات انجام دے رہا ہے

3

بھونیشور، 29 نومبر (یو این آئی) دنیا کی سب سے طاقتور چیز محبت ہے جس کی وجہ سے بہت سی ناممکن چیزوں کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ محبت اور انسانیت میں اتنی طاقت ہے کہ دشمن کو دوست بنا سکتی ہے۔ کشمیر میں دہشت گردی کا سامنا کرنے والے سینئر فوجی افسر نے اس پر اپنے تجربات شیئر کیے ہیں۔یہاں ہم حرکت الجہاد الاسلامی سے وابستہ ایک دہشت گرد کے بارے میں بات کر رہے ہیں، جو اب ہندوستانی فوج میں کانسٹیبل کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔ پاکستان سے دہشت گردی پر تربیت یافتہ ہندوستانی فوج کے اس موجودہ اہلکار کو دسمبر 2000 میں اننت ناگ ضلع کے ایک گاؤں سے دہشت گردانہ سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ میجر جنرل (ریٹائرڈ) یشپال مور نے اتوار کو ایس او اے کے زیر اہتمام ایک تقریب میں یہ واقعہ سنایا۔

اننت ناگ ضلع میں تعینات راشٹریہ رائفلز یونٹ کے کمپنی کمانڈر میجر جنرل یشپال مور نے کہا کہ پکڑے جانے کے بعد اس نے سوچا ہوگا کہ اسے مار دیا جائے گا، لیکن اس کے برعکس ہم نے اس کی زخمی ٹانگوں کا علاج کیا، اس کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کی اور اسے معمول کی زندگی میں واپس لانے کی سعی کی۔میجر جنرل نے کہا کہ کشواڑ سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد کو پہلے گھوڑے پر بٹھا کر اس کے ٹھکانے پر لے جایا گیا، جو پیر پنجال کی حدود میں سنتھن کے پاس کے ایک دور افتادہ گاؤں میں واقع ہے۔مسٹر یشپال نے کہا کہ اس کے بعد اسے پوچھ گچھ کے لیے سری نگر کی ایک جیل لے جایا گیا، لیکن پھر اننت ناگ واپس لایا گیا تاکہ فوج ان سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر آپریشن کر سکے۔

میجر جنرل یشپال مورنے کہا کہ دہشت گرد بہت آہستہ آہستہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹتے ہیں، اس لیے میں نے روزانہ ایک بار ان سے ملنا اپنا معمول بنا لیا ہے۔ شروع میں ہمارے درمیان کچھ ہچکچاہٹ تھی، لیکن بعد میں سب ٹھیک ہوگیا، پھر مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک سلجھے ہوئے گھرانے سے ہے اور اس نے دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔نوجوان نے میجر جنرل کو اپنی زندگی کی ساری کہانی سنائی کہ وہ کیسے ایچ یو جے آئی میں شامل ہوا اور پاکستان گیا، کیسے اسے وہاں دو سال تک دہشت گرد بننے کی تربیت دی گئی، وغیرہ۔مسٹر مور نے کہا،“ایک دن انہوں نے مجھے بتایا کہ دہشت گردوں کے ذہنوں میں ہندوستانی فوج کی تصویر بہت مختلف ہے، جو کہ بہت غلط ہے۔ ہم نے اسے کچھ بہتر کرنے کا سوچا۔ اس پر سے دہشت گردی کا مقدمہ خارج کر کے اس کی تربیت کا کام شروع کر دیا گیا۔ رفتہ رفتہ وہ ہندوستانی فوج میں بطور جوان شامل ہوگیا۔تب سے وہ فوج میں کانسٹیبل کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔ چند سالوں میں وہ جونیئر افسر کے عہدے تک بھی پہنچ جائے گا۔ اب وہ بھی شادی شدہ ہے اور کشتواڑ میں ہی اچھی زندگی گزار رہا ہے۔