اسلام آباد: پاکستان میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے رولنگ دی ہے کہ جمعہ کے روز  سینیٹ ممبران نماز جمعہ کے بعد پارلیمنٹ سے انڈین ہائی کمیشن تک واک کریں گے اور ہائی کمیشن کے باہر حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ترجمان کے اسلام مخالف بیان پر احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔سوموار کو سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی جماعتوں کے ارکان نے بی جے پی کی خاتون ترجمان نوپور شرما کے گستاخانہ بیان کی شدید مذمت کی۔ اس موقع پر متفقہ مذمتی قرارداد بھی منظور کی گئی۔
اس موقع پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تاررڑ نے کہا سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن اسلام کی حرمت پر سب ایک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پورے عالم اسلام کے جذبات مجروح کیے گئے۔پی ٹی آئی کے ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ ناموس رسالت مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔’اسلامو فوبیا نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے، انڈیا اس کی بدترین مثال ہے۔ انڈین مصنوعات کا دنیا میں بائیکاٹ ہونا چاہئے۔‘جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ہر مسلمان کے دل میں سب سے زیادہ محبت پیغمبر اسلام کی ہوتی ہے۔ ’بی جے پی نے جو گستاخی کی ہے یہ دو ارب مسلمانوں پر حملہ ہے اور بدترین دہشت گردی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے اور انڈین سفارتی اور تجارتی تعلقات کا بائیکاٹ کیا جائے ۔سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ  عمران خان نے اقوام متحدہ میں ناموس رسالت کا بھرپور مقدمہ اٹھایا۔ اس معاملے کے بعد ہمارے وزیر خارجہ نظر نہیں آرہے۔ سینیٹر یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ ناموس رسالت پر حملے سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ ’اس قدام کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔‘جے یو آئی کے مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ مسلمان اس طرح کی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔  ہمارے ملک میں بھی ایسے واقعات ہوئے۔
’پی ٹی آئی کے دور حکومت میں آسیہ کو بیرون ملک بھیجا گیا۔‘ پارلیمنٹ کے تمام ممبران انڈین سفارت خانے تک واک کرکے جائیں اور وہاں احتجاج کرے۔صرف مودی نہیں ان کی ساری جماعت مسلمانوں سے معافی مانگے۔‘ جمعیت علماء اسلام ف اس واقعہ پر احتجاج کرے گی۔شبلی فراز نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آسیہ بی بی کو ہم نے نہیں سپریم کورٹ نے رہا کیا تھا۔سینیٹر دنیش کمار نے کہا بی جے پی رہنماؤں کے توہین آمیز کلمات سے جہاں مسلمانوں کے دل دکھی ہوئے ہیں وہاں اس عمل سے ہم غیر مسلم سینیٹرز کے دل بھی دکھی ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بی جے پی کا بیانیہ ہے ہندو مذہب کا بیانیہ نہیں ہے۔ ’یہ ان کی سوچ ہے اس کو ہم مذہب سے نہیں ملاتے۔ ہمارا مذیب اس طرح کا پیغام نہیں دیتا۔‘ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ جس شخص کے سینے میں درد ہے وہ چاہے کسی مذہب کا ہو اس عظیم ہستی کے بارے میں ایسی بات نہیں کرتا۔