پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر مسلمانوں کے خلاف مبینہ زیادتیوں کا بدلہ لینے کی منصوبہ بندی کا الزام

320

فیصل محمد علی بی بی سی، دلی

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کے پٹنہ دورے سے چند گھنٹے پہلے بہار پولیس نے 12 جولائی کو انڈیا مخالف دو سازشوں کا پردہ فاش کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور اب انڈیا کی وزارت داخلہ نے اس معاملے کی تحقیقات قومی سلامتی ایجنسی کے حوالے کر دی ہیں۔خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اس پورے معاملے میں فنڈنگ کے معاملے کی تحقیقات کرے گا۔

پٹنہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ایم ایس ڈھلون نے بی بی سی کو بتایا کہ پٹنہ کے پھلواری شریف میں جو کیس سامنے آئے ہیں وہ فی الحال الگ لگ رہے ہیں اور پولیس نے مجموعی طور پر پانچ لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔پولیس نے اپنی ایف آئی آر میں کہا ہے کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) ممنوعہ اسلامی بنیاد پرست تنظیم سٹوڈنٹ اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی) کے سابق ارکان کو شامل کر کے ایک خفیہ تنظیم بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کا مقصد مسلمانوں پر ہونے والے مبینہ مظالم کا بدلہ لینا ہے۔

اس کے علاوہ پٹنہ کے پھلواری شریف علاقے میں دو دن بعد مزید دو کیسز سامنے آئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کیسز دو واٹس ایپ گروپس سے منسلک ہیں، جن میں سے ایک میں پاکستان سے لے کر یمن اور دوسرے خلیجی ممالک کے نمبر ہیں۔ دوسرا گروپ انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش کے کل آٹھ نمبروں تک محدود تھا۔پٹنہ میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ایم ایس ڈھلوں نے ان واٹس ایپ گروپس کو انڈیا مخالف سرگرمیوں میں ملوث قرار دیا تھا، گرفتار شخص مرغوب احمد دانش کا تعلق پاکستان کی بنیاد پرست تنظیم تحریک لبیک سے بتایا گیا ہے۔پی ایف آئی کے خلاف کئی پرتشدد معاملات کی تفتیش کی جا رہی ہے، جس میں کیرالہ کے ایرناکولم کے ایک پروفیسر کا ہاتھ کاٹنے، کونور میں ہتھیاروں کی تربیت اور تمل ناڈو کے تھانجاور میں راملنگم کے قتل کا معاملہ شامل ہے۔

ان میں سے بہت سے لوگوں پر جرم ثابت ہو چکے ہیں اور ان کا تعلق پی ایف آئی کے ساتھ رہا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) پی ایف آئی سے متعلق رقم کے لین دین کی بھی تحقیقات کر رہا ہے۔

پی ایف آئی خود پر لگائے جانے والے تمام الزامات کی تردید کرتی ہے۔پولیس کا دعوی ہے کہ ‘پی ایف آئی کے ٹھکانے سے ایک دستاویز ’انڈیا 2047: ٹوورڈز رول آف اسلامک انڈیا’ برآمد ہوئی ہے جو کہ انڈیا کو ایک اسلامی ملک بنانے کی سازش ہے’۔ جبکہ پی ایف آئی کا کہنا ہے کہ ‘پولیس جھوٹے دستاویز پلانٹ کر کے ایک کہانی بنا رہی ہے اور انہیں پھنسانے کی کوشش کر رہی ہے’۔

تنظیم کے قومی سیکرٹری محمد شفیق کی جانب سے جاری ایک پریس رلیز میں کہا گیا ہے کہ یہ اسی طریقہ کار کا حصہ ہے جس کے تحت پاپولر فرنٹ کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ ایک سیاسی چال ہے جس کے احکامات ایک ہی جگہ سے جاری ہو رہے ہیں’۔تنظیم کا کہنا ہے کہ ایک دستاویز تیار کی گئی تھی جو مسلمانوں کے سماجی ، تعلیمی اور اقتصادی میعار پر سچر کمیشن اورمشرا کمیشن کی سفارشات کو آگے بڑھانے کے طریقہ پر مبنی تھی، اور اسے 15 اگست 2016 کو دہلی میں جسٹس راجندر سچر نے جاری کیا تھا۔

پندرہ سال سے سرگرم
2007 میں اپنے قیام کے بعد سے ہی پی ایف آئی تحقیقات کی زد میں ہے۔ 2008 میں قائم کی گئی قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے تب سے ہی پی ایف آئی پر نظر رکھ رہی ہے۔ارناکولم کے ملیالم زبان کے پروفیسر ٹی جے جوزف کا معاملہ منموہن سنگھ حکومت میں 2011 میں این آئی اے کو سونپا گیا تھا۔

4 جولائی 2010 کی صبح کے واقعے کو یاد کرتے ہوئے پروفیسر ٹی جے جوزف نے بی بی سی کو بتایا’ چرچ سے واپسی کے دوران ہمیں ایک ویران جگہ میں گھیر لیا گیا اور میری دائیں ہتھیلی پر کلہاڑی سے حملہ کیا گیا، حملہ آور نے تین بار ایسی کوشش کی تھی۔ اس سے پہلے وہ ایسا کر چکا تھا، تین بار مختلف بہانوں سے میرے گھر بھی آیا۔

پروفیسر جوزف نے کالج کے امتحان کے لیے سوالات کا انتخاب کیا تھا جس میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پیغمبر محمد کی بے ادبی کی گئی تھی۔انہوں نے اس واقعے پر ایک کتاب بھی لکھی ہے جس کا نام ہے ‘ اے تھاؤزنڈ کٹس، این اننو سینٹ کوئسچن اینڈ ڈیڈلی آنسر’ ‘۔ملیالم ٹیچر نے فون پر بتایا کہ ان کے ادارے نے نہ صرف انہیں کالج سے معطل کیا بلکہ ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرائی۔

حملے میں شامل ہونے کی بات تسلیم کی
پروفیسر پر حملے کے کیس میں 31 ملزمان کے خلاف ٹرائل ختم ہو گیا ہے ۔ این آئی اے کی خصوصی عدالت نے 13 لوگوں کے خلاف فیصلہ سنایا جب کہ 18 کو رہا کر دیا گیا، کیس کے تین ملزمان ابھی تک مفرور ہیں۔

پی ایف آئی کی جانب سے کئی معاملات پر جاری کیے گئے تحریری بیان میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ پروفیسر پر حملے میں تنظیم کے کچھ ارکان ملوث تھے لیکن ساتھ ہی وہ اِسے مقامی ردعمل بتا کر اس سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔


تنظیم کے نوجوان جنرل سکریٹری انیس احمد نے بی بی سی سے بات چیت میں دعویٰ کیا کہ واقعے کے فوراً بعد پی ایف آئی کی اس وقت کی قیادت نے دہلی میں پریس کانفرنس کرکے نہ صرف اس کی مذمت کی تھی بلکہ ان لوگوں کو تنظیم سے نکال بھی دیا جن پر واقعے میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔لیکن اس واقعے کے علاوہ تشدد کے دیگر معاملات میں پی ایف آئی کا نام بار بار آتا رہتا ہے۔

تھرواننتا پورم کے ماہر سوشیالوجی جے راگھو کا کہنا ہے کہ ‘پی ایف آئی پرتشدد کی کچھ کہانیاں سراسر جھوٹ ہیں جو پھیلائی گئی ہیں’، جبکہ جرمنی کی ہیڈلبرگ یونیورسٹی کے شعبہ سوشیالوجی کے والٹر ایمریک کے مطابق، یہ’ایک بہت ہی پیچیدہ معاملہ ہے جس میں کسی بھی ٹھوس نتیجے پر پہنچنا مشکل ہے’۔

والٹر ایمرک نے آکسفورڈ سکالر کی حیثیت سے گزشتہ دو دہائیوں میں انڈیا کی مسلم سیاست میں تبدیلی پر ڈاکٹریٹ کی ہے، جس پر کتاب ‘اسلامک موومنٹس ان انڈیا، ماڈریشن اینڈ اٹس ڈس کونٹینٹ’ بھی شائع ہو چکی ہے۔

والٹرایمریک کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس معاملے پر مختلف آراء سنی ہیں، ‘پی ایف آئی کے کچھ سابق کارکنوں نے کہا کہ وہ بعض اوقات یہ ثابت کرنے کے لیے تشدد کا سہارا لیتے ہیں کہ یہ تنظیم اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کر سکتی ہے۔ یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ مسلمانوں کی گلیوں اور محلوں کی حفاظت میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ لیکن وہ کارکن میرے سامنے ایسے معاملات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے اور نہ ہی ایسا کوئی واقعہ میرے سامنے آیا کہ تنظیم کی اعلیٰ قیادت ایسے معاملات پر رضامندی دیتی ہے۔اس معاملے میں جے راگھو کا کہنا تھا ‘ہاں، وہ تھوڑا سا تشدد کا سہارا لیتے ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ وہ اتنے بُرے ہیں، آر ایس ایس والے پی ایف آئی والوں پر حملہ کرنے کی ہمت نہیں کریں گے’۔

آر ایس ایس اور پی ایف آئی کا موازنہ
جنوبی کیرالہ کے الاپپوزا علاقے میں پی ایف آئی کے سیاسی ونگ سمجھے جانے والی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے صوبائی سکریٹری کے ایس شان کے قتل کے چند گھنٹے بعد الاپپوزا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی سکریٹری رنجیت سری نواس کو قتل کر دیا گیا۔

سوشل انڈیکس میں انڈیا کی بہترین ریاستوں میں شمار ہونے والے کیرالہ میں سیاسی قتل کا سلسلہ جاری رہتا ہے جس میں پولیس، آر ایس ایس، سی پی ایم، پی ایف آئی، ایس ڈی پی آئی جیسی تنظیموں کا نام لیتی رہتی ہے۔

کیرالہ سے سینکڑوں کلومیٹر دور بہار میں، جہاں پٹنہ پولیس نے پی ایف آئی پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں وہیں ریاست کی اہم اپوزیشن پارٹی راشٹریہ جنتا دل کے بہار کے صدر جگدانند سنگھ نے یہ کہہ کر کہ ‘جب بھی ملک کی سلامتی کے لیے خطرناک لوگوں کو پکڑا گیا ہے، پاکستان کے ایجنٹ کے طور پر، وہ تمام آر ایس ایس کے ہندو ہوتے تھے’ اس سارے تنازعہ کو ایک بار پھر ہوا دی ہے’

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ایک ویڈیو میں جگدانند سنگھ کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے ’’نتیش کمار نے آر ایس ایس کو بڑھنے دیا ہے۔ جو لوگ اس سے خوفزدہ ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ہماری بھی تنظیم ہو تاکہ جب ہم پر حملہ کیا جائے، ہم خود کو اور اپنے لوگوں کو بچا سکیں’۔

جگدانند سنگھ نے جس انداز میں آر ایس ایس کا موازنہ کیا ہے، جسے بی جے پی کی بنیادی تنظیم سمجھا جاتا ہے، اس سے ویسا ہی تنازع پیدا ہو سکتا ہے جیسے پٹنہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے اس بیان کے بعد ہوا تھا کہ آر ایس ایس اور پی ایف آئی کے کام کر نے کا طریقہ ایک جیسا ہی ہے۔

پی ایف آئی نے کہا کہ ہم ہتھیاروں کی ٹریننگ نہیں دیتے

ایک پریس کانفرنس کے دوران، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ایم ایس ڈھلن نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں، پہلے کیس کا تعلق امراوتی، ادے پور یا نوپور شرما سے نہیں بتایا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ متعلقہ لوگ وزیر اعظم کے دورے کے دوران مسلم اکثریتی علاقوں میں شہریت ترمیمی قانون، تین طلاق اور نوپور شرما کیس کے خلاف احتجاج کرنا چاہتے تھے۔

مہاراشٹر کے امراوتی، اور راجستھان کے ادے پور میں دو ہندوؤں کو قتل کیا گیا، جس میں ادے پور میں قاتلوں نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں اسے نوپور شرما کے خلاف بدلہ قرار دیا گیا۔ ملزم کے مطابق، کنہیا لال نے جو ادے پور میں پیشے سے درزی تھے انہوں نے نوپور شرما کی بات کی تائید کی تھی۔ٹریننگ کے سوال پر بھی پریس کانفرنس میں پٹنہ کے ایس ایس پی نے روایتی ہتھیاروں، لاٹھیوں، نیزوں وغیرہ کی بات کی تھی۔

تاہم سٹیشن پولیس آفیسر اقرار احمد کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر میں اسلحہ کی تربیت اور امن کو خراب کرنے کی کوششوں کے بارے میں بات کی گئی ہے۔

کیا پی ایف آئی کو گھیرنے کی کوشش کی گئی ہے؟
پھلواری شریف واقعہ میں پی ایف آئی سے متعلق معاملے میں دیگر لوگوں کے علاوہ اطہر پرویز کو گرفتار کیا گیا جنہیں پولیس نے سیمی کا سابق فعال رکن قرار دیا ہے جو جیل میں بند تنظیم کے ارکان کی قانونی مدد کے لیے کام کر رہے تھے اور فی الحال وہ ایس ڈی پی آئی کے پٹنہ ضلع کے جنرل سکریٹری ہیں۔

پولیس نے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے ایک کارکن نورالدین جنگی کو بھی گرفتار کیا ہے، جسے پی ایف آئی کا سیاسی ونگ سمجھا جاتا ہے نورالدین جنگی نے پارٹی کے ٹکٹ پر بہار کے دربھنگہ ضلع سے اسمبلی الیکشن لڑا تھا، حالانکہ انہیں صرف چند درجن ووٹ ملے تھے۔

دہلی یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر سمش الاسلام کہتے ہیں کہ اس وقت ملک میں ہر بحث کو سر کے بل کھڑا کر دیا جاتا ہے، پی ایف آئی کی بات تو رہنے دیں، آنند… اور بھیما کوریگاؤں سے جڑے لوگوں کا کیا قصور تھا جو انہیں جیل میں ڈال دیا گیا؟پی ایف آئی کے خلاف جھوٹے مقدمات کا پُلندہ
آرٹ والٹر ایمرک بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ پی ایف آئی کے خلاف مقدمات کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، گزشتہ سال اپریل میں سپریم کورٹ میں ایک سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے چیف جسٹس این وی رمنا کی ڈویژن بنچ سے کہا تھا کہ مرکز پی ایف آئی پر پابندی پر غور کر رہی ہے۔

این آئی اے وزارت داخلہ کو ایک سفارش بھیجی چکی ہے کہ پی ایف آئی پر پابندی لگائی جائے لیکن مرکز کی جانب سے ابھی تک اس معاملے میں کوئی پہل نہیں کی گئی ہے۔

پی ایف آئی کے بانیوں میں سے ایک پروفیسر پی کویا نے پابندی کے سوال پر بی بی سی سے کہا کہ ‘پابندی ایک سیاسی فیصلہ ہے، اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ کمیونسٹ پارٹی پر بھی پابندی لگائی گئی تھی اور خود آر ایس ایس پر انڈیا میں ایک نہیں بلکہ دو مرتبہ پابندی لگائی جا چکی ہے۔