پانچ گھنٹے یا اس سے کم سونا آپ کی صحت کے لیے کتنا خطرناک ہے؟

687

محققین کا کہنا ہے کہ 50 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں متعدد طبی مسائل کا امکان کم از کم پانچ گھنٹے سونے سے کم ہو سکتا ہے۔ صحت کے مسائل سے نیند متاثر ہو سکتی ہے مگر خراب نیند خود بھی طبی مسائل کی پیشگی علامت ہو سکتی ہے۔

اس حوالے سے ثبوت موجود ہیں کہ نیند جسم اور دماغ کو تر و تازہ ہونے کے ساتھ ساتھ خود کی مرمت کرنے اور بحال کرنے میں بھی مدد دیتی ہے مگر یہ اب بھی واضح نہیں کہ کسی خاص دورانیے کے لیے سونا کیوں اہم ہو سکتا ہے۔

پبلک لائبریری آف سائنس (پلوس) میڈیسن جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں برطانیہ کے سرکاری اہلکاروں کی صحت اور نیند کا جائزہ لیا گیا۔

تقریباً تمام آٹھ ہزار شرکا سے پوچھا گیا کہ وہ روز رات کو تقریباً کتنا سوتے ہیں۔
کچھ لوگوں نے اپنی کلائیوں میں سلیپ ٹریکر کی حامل گھڑیاں بھی پہن رکھی تھیں۔

اس کے بعد ان سے گذشتہ دو دہائیوں کے دوران سنگین بیماریوں اور عارضوں مثلاً ذیابیطس، سرطان اور امراضِ قلب کے متعلق پوچھا گیا۔

وہ لوگ جو تقریباً 50 برس کے تھے اور پانچ گھنٹے یا اس سے کم سو رہے تھے، ان میں سات گھنٹے سونے والوں کی بہ نسبت متعدد امراض کا خطرہ 30 فیصد زیادہ تھا۔

50 کی عمر میں کم نیند کا تعلق موت کے بلند خطرے سے بھی پایا گیا جس کا بنیادی طور پر تعلق سنگین بیماریوں کے خطرے میں اضافے سے ہے۔

چنانچہ یونیورسٹی کالج لندن اور پیرس سیٹے یونیورسٹی کے محققین کے مطابق ماہرین اسی لیے عموماً سات سے آٹھ گھنٹے نیند کی تجویز دیتے ہیں۔

ہم سوتے کیوں ہیں؟

سائنسدان اب بھی واضح طور پر یہ بات نہیں جانتے مگر یہ واضح ہے کہ نیند دماغ کو یادداشت مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے اور مزاج، توجہ اور اندرونی نظام کی بہتری کے لیے ضروری ہے۔

اس کے علاوہ نیند دماغ کو اپنے آپ کو صاف کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔

اچھی نیند کے لیے مشورے

خود کو دن میں مصروف اور متحرک رکھ کر تھکائیں مگر جیسے جیسے سونے کا وقت قریب آنے لگے تو سرگرمیاں سست کر دیں

دن کے وقت سونے سے گریز کریں

رات کے وقت کا اچھا معمول بنائیں اور یہ یقینی بنائیں کہ آپ کا بیڈ روم آرامدہ اور نیند کے لیے سازگار ہے۔ موٹے پردے یا سیاہ بلائنڈز، کمرے کا آرامدہ ٹمپریچر اور بستر ضروری ہیں جبکہ بستر میں سمارٹ فون وغیرہ کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔

نیند کے وقت سے پہلے کیفین یا الکوحل کا استعمال بند کر دیں

اگر آپ نہ سو پائیں تو زبردستی نہ کریں اور نہ ہی پریشان ہوں۔ بلکہ اٹھ جائیں اور کتاب پڑھنے جیسا کوئی سکون آور کام کریں اور جب نیند کا غلبہ محسوس ہو تو واپس بستر پر لوٹ جائیں

آگر آپ رات کی شفٹوں میں کام کرتے ہیں تو نائٹ شفٹ شروع ہونے سے پہلے ایک مختصر نیند لے لیں۔ اگر آپ رات کی شفٹوں سے ہٹ رہے ہیں تو دن میں تھوڑا سا آرام کر لیں تاکہ دن گزر جائے اور پھر اس شام جلدی سونے چلے جائیں۔

,سرے سلیپ سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈرک یان ڈائک نے بی بی سی نیوز کو بتایا: ‘اس کام سے اعادہ ہوتا ہے کہ نہ صرف کم نیند ہمارے لیے بری ہے بلکہ یہ عام طور پر صحت مند بھی نہیں، لیکن کچھ لوگوں کے لیے یہ ٹھیک ہو سکتی ہے۔

اُنھوں نے کہا: ‘بڑا سوال یہ ہے کہ کیوں کچھ لوگ کم سوتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے اور کیا ہم اس حوالے سے کچھ کر سکتے ہیں؟ نیند ایک ایسا طرزِ زندگی ہے جسے کچھ حد تک بدلا جا سکتا ہے۔

طویل مدت تک خراب نیند ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

ڈاکٹر اب نیند کی گولیاں کم ہی تجویز کرتے ہیں کیونکہ ان کے سنگین منفی اثرات ہو سکتے ہیں اور ان کی لت پڑ سکتی ہے تاہم نیند کے مسائل کے حل کے لیے دیگر طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔( بی بی سی اردو ڈاٹ کام ،)