نئی دہلی، 22اکتوبر (یو این آئی) دہلی خواتین کمیشن نے پانچ لڑکیو ں کو انسانی اسمگلنگ سے بچایا جن میں دو نابالغ شامل ہیں۔
دہلی خواتین کمیشن کی صدر سواتی مالیوال نے آج کہاکہ ہم اکثر انسانی اسمگلنگ کے ایسے کئی معاملات دیکھتے ہیں جن میں غریب لڑکیوں کو ملازمت دلانے کے بہانے انسانی اسمگلنگ کا شکار بنا دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ تجارتی اور جنسی استحصال کا شکار ہوتی ہیں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ انسانی اسمگلنگ کو مکمل طورپر روکا جائے اور اس کے لئے ہمیں انسانی اسمگلنگ مخالف قوانین کو مضبوط بنانا ہوگا اورسختی سے نافذ کرنے ہوں گے۔ ملزمین کی جلد از جلد شناخت کرکے انہیں فوری طورپر گرفتار کیا جانا چاہئے۔

کمیشن کو 19اکتوبر کو این جی او شکتی واہنی سے خبرملی جس میں بتایا گیا کہ پانچ لڑکیوں کو درنتو ایکسپریس سے دہلی سے مغربی بنگال بھیجا جارہا ہے۔ اطلاع ملنے کے بعد کمیشن نے فوری طورپر ایک ٹیم بنائی جو چائلڈ لائن اور دہلی پولیس کے ساتھ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پہنچی۔ وہاں پہنچ کر دو نابالغ سمیت پانچ لڑکیوں کو نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر پانچ سے آزاد کرایا گیا۔

بچائی گئی لڑکیوں کی عمر 15سے 19سال کے درمیان ہے۔ تمام لڑکیوں نے بتایا کہ انہیں ملازمت دلانے کا لالچ دیکر جینا نام کی خاتون اور لادین نام کا ایک آدمی دہلی لیکر آیا تھا۔ لڑکیوں نے بتایا کہ انہیں مدن پور کھادر گاوں کے ایک کمرے میں بند کرکے رکھا گیا تھا لیکن انہیں اس گھر کا پتہ یاد نہیں تھا۔ ان لڑکیوں میں سے ایک اپنے گھر پر فون کرنے میں کامیاب ہوگئی اس نے اپنے کنبہ کو اپنے ساتھ ہوئے واقعہ کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد لڑکی کے گھروالوں نے ملزم خاتون جینا کے خلاف شکایت کی اور اس کے خلاف مغربی بنگال ضلع جنوبی 24پرگنہ تھانہ دھولاہاٹ میں ایف آئی آر درج کرائی۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔