پانچ برسوں سے ایک شخص کے کان میں پھنسا ایئربڈ نکال لیا گیا: ’اب میں بہت اچھا محسوس کر رہا ہوں

229

انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے ویلیس لی کو جب ابتدائی طور پر اپنے کانوں میں کچھ مسئلہ محسوس ہوا تو انھوں نے سوچا کہ اُن کی سماعت میں مسئلہ شاید اس وجہ سے ہے کہ وہ ہوا بازی کی صنعت سے وابستہ ہیں جہاں کام کے دوران انھیں بہت زیادہ شور سننے کو ملتا ہے۔

ایک دوسرا خیال جو فوراً ان کے ذہن میں آیا وہ یہ تھا کہ شاید سماعت میں مسئلہ رگبی کے کھیل کے دوران نوجوانی میں لگنے والی کسی پرانی چوٹ کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔

انھوں نے گھریلو اینڈوسکوپ کٹ خریدی اور اپنے کان کے جائزے کے فوراً بعد انھوں نے ڈاکٹر سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ انھیں اپنے کان میں ایک چھوٹی سی سفید چیز نظر آئی تھی۔
فوری راحت کا احساس
مسٹر لی نے بتایا کہ وہ اب بہت خوش ہیں کیونکہ اس سفید چیز کے ہٹائے جانے کی وجہ سے انھیں ’فوری راحت‘ محسوس ہوئی اور بالآخر ان کی سماعت میں جو چیز رکاوٹ بن رہی تھی اسے کان سے نکال دیا گیا۔

رائل نیوی میں کام کرنے والے مسٹر لی کا خیال ہے کہ یہ چیز ہوائی جہاز کے ایک سفر کے دوران اُن کے کان میں پھنس گئی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ ’پانچ سال پہلے جب میں آسٹریلیا میں اپنے خاندان سے ملنے گیا تھا تو میں نے یہ چھوٹے ایئر پلگ خریدے تھے جن میں آپ مختلف اٹیچمنٹ لگا سکتے ہیں تاکہ آپ جہاز کے شور سے محفوظ رہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اِن چھوٹے اٹیچمنٹس میں سے ایک وہاں رہ گیا تھا اور تب سے وہ وہیں پھنسا ہوا تھا۔‘

اس کے بعد انھیں اپنی سماعت میں کمی محسوس ہونے لگی جیسا کہ ان کی اہلیہ کے ساتھ بھی تھا اور انھیں خدشہ ہونے لگا کہ کہیں وہ عمر گزرنے کے ساتھ بہرے تو نہیں ہو رہے ہیں۔
خدشہ
مسٹر لی نے کہا کہ انھوں نے کئی برسوں کے دوران اپنے کان صاف کرنے کی کوشش کی ہے لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس بات پر دنگ ہیں کہ ایئربڈز کا وہ ٹکڑا اُن کے کان سے کیوں نہ نکل سکا۔

انھوں نے کہا کہ کان، ناک اور گلے (ای این ٹی) کے سرجن، جنھوں نے اس رکاوٹ کو کامیابی سے ہٹایا وہ بھی اس بات پر ’حیران‘ تھے۔
مسٹر لی نے کہا: ’[ڈاکٹر] نے ابتدا میں اسے کھینچ کر نکالنے کی کوشش کی تھی۔۔۔ لیکن چونکہ یہ کافی عرصے سے وہاں موجود تھا اور کان میں موجود گند کے جمنے سے سخت ہو گیا تھا اس لیے اس نے بالکل بھی حرکت نہیں کی۔‘

’پھر انھوں نے چھوٹے چھوٹے سرجیکل آوزار لیے جو انھوں نے کان کی نالی میں ڈال دیے۔۔۔ میں واقعتاً محسوس کر سکتا تھا کہ وہ ہل رہا ہے، اور اچانک یہ ایک جھٹکے سے باہر نکل آیا۔

’اب میں سب کچھ واضح انداز میں سُن سکتا تھا۔ ان تمام برسوں سے میرے سر میں جو دھند تھی وہ دور ہو گئی۔ اور اب میں اچھی طرح سے سُن سکتا تھا۔‘

’یہ بہت ہی باعث سکون تھا۔۔۔ یہ پہلی بار دوبارہ صحیح سننے جیسا تھا۔‘

ای این ٹی سرجن مسٹر نیل ڈی زوئسا نے بی بی سی کو بتایا کہ گھر میں اپنے کانوں کا معائنہ کرنا مکمنہ طور پر زیادہ نقصان دہ نہیں ہے۔

تاہم، انھوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ پیشہ ورانہ طبی مدد کے بغیر کان میں موجود کسی بھی اجنبی چیز کو ہٹانے یا نکالنے کی خود سے کوشش نہ کریں کیونکہ یہ بعد میں انفیکشن یا مزید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔