"ٹی وی اینکرز کی بڑی ذمہ داری، مرکز کیوں خاموش ہے؟” نفرت انگیز تقاریر پر سپریم کورٹ سخت، میڈیا کی سرزنش

384

نئی دہلی:21 ستمبر: نفرت انگیز تقاریر پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے میڈیا پر سوال اٹھائے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ سب سے زیادہ نفرت انگیز تقاریر میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہوتی ہیں،

ہمارا ملک کہاں جا رہا ہے، ٹی وی اینکرز پر بڑی ذمہ داری ہے، ٹی وی اینکرز مہمان کو بھی وقت نہیں دیتے، ایسے ماحول میں مرکز کیوں خاموش ہے؟ ریگولیٹر سسٹم کو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔” سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مرکزی حکومت سے دو ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے۔ اب یہ معاملہ 23 نومبر کو سماعت کے لیے آئے گا۔

نفرت انگیز تقاریر سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس کے ایم جوزف نے بڑے تبصرے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا، "سیاسی جماعتیں اس سے سرمایہ کماتی ہیں اور ٹی وی چینلز ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ زیادہ تر نفرت انگیز تقاریر ٹی وی، سوشل میڈیا پر ہو رہی ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے پاس ٹی وی کے حوالے سے کوئی ریگولیٹری میکانزم نہیں ہے۔ انگلینڈ میں ایک ٹی وی چینل بھاری جرمانہ کیا گیا۔بدقسمتی سے ہندوستان میں وہ نظام نہیں ہے، اینکرز کو بتایا جائے کہ غلط کرو گے تو نتائج بھگتنا ہوں گے۔

ایسا ہوتا ہے جب آپ کسی تقریب کے دوران کسی شخص کو کچل دیتے ہیں۔ جب آپ ٹی وی آن کرتے ہیں تو ہمیں یہی ملتا ہے۔ ہم اس سے جڑ جاتے ہیں۔ سب کا تعلق اس جمہوریہ سے ہے۔ جس کا فائدہ سیاستدان اٹھا رہے ہیں۔ جمہوریت کے ستونوں کو آزاد تصور کیا جاتا ہے۔ ٹی وی چینلز کو اس سب کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔