ٹی ای ٹی گھوٹالہ: ٹیچرس کی تنخواہیں روکنے کے فیصلے پر ہائی کورٹ کا عبوری اسٹے

542

بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ نے حکم دیا ہے کہ ٹی ای ٹی گھوٹالہ میں ملوث اساتذہ کی تنخواہیں نہیں روکی جانی چاہئیں۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ ایسی صورت میں آپ تنخواہ میں اضافہ روک سکتے ہیں، لیکن آپ تنخواہ نہیں روک سکتے، عدالت نے کہا کہ ان تمام اساتذہ کی تنخواہ اسی ماہ سے ادا کی جائے۔ ہمارا یہ فیصلہ صرف درخواست گزار اساتذہ کے لیے ہے۔ عدالت نے کہا کہ ہم ان اساتذہ کو ریلیف دے رہے ہیں جنہوں نے ہم سے انصاف مانگا۔

اساتذہ کے اھل خانہ کی کفالت اور دیوالی تھوار کے پیش نظر عدالت کا فیصلہ، 19 نومبر آئندہ سماعت ریاستی حکومت نے ٹیچر اہلیت ٹیسٹ (TET) گھوٹالے کے معاملے میں ٹیچرس کو عبوری راحت دینے کا فیصلہ کیا۔ معاملے سے متعلق مختلف عرضیوں پر کل مشتر کہ ساعت ہوئی ۔اس وقت بینچ نے کہا کہ اساتذہ کی تنخواہیں روکنا ان کے اہل خانہ کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ساتھ ہی آئندہ چند دنوں میں دیوالی کا تہوار بھی آنے والا ہے۔اس | کے علاوہ ابھی تک اس گھوٹالے کے بارے میں حکومت کا مؤقف بھی واضح نہیں

ہو سکا ہے، لہذا عدالت نے متعلقہ اساتذہ کی تنخواہ روکنے کی بجائے تنخواہ میں اضافہ روکنے کا فیصلہ سنایا۔ عدالت کے اس فیصلے پر سرکاری وکلاء نے بحث کے لیے آئندہ سنوائی تک مہلت مانگی جسے دیکھتے ہوۓ گھوٹالے میں ملوث اسا تذہ کے لیے اس فیصلے کو ایک عبوری راحت کہا جارہا ہے۔ واضح ہو کہ اورنگ آباد بینچ میں TET گھوٹالے سے متعلق 200 عرضیاں داخل کی گئی۔ ہیں اور آج کے فیصلے سے ان پٹیشنر اسا تذہ کو بڑی راحت ملی ہے۔ اس کیس کی اگلی ساعت 19 نومبر کو ہوگی۔

فیصلہ سناتے ہوۓ ٹیچرس کی تنخواہیں روکنے کے فیصلے پر روک لگادی۔ واضح ہو کہ ٹیچرس اہلیتی ٹیسٹ (TET گھوٹالے کے منظر عام پر آنے کے بعد حکومت نے اس گھوٹالے میں ملوث اسا تذہ کی تنخواہیں روکنے کا فیصلہ کیا تھا اور گھوٹالے کے ناموں کی فہرست بھی جاری کی تھی تاہم حکومت کے اس فیصلے کو کچھ اساتذہ نے بمبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بیچ میں چینج

عدالت نے محکمہ تعلیم کی جانب سے اساتذہ کی تنخواہیں روکنے کا فیصلہ سنا دیا۔ آنے والا دور تہواروں کا موسم ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ دیوالی قریب ہے، ٹی ای ٹی اسکام کورٹ اساتذہ کی تنخواہیں روک رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ ان کے اہل خانہ کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ لہٰذا عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک اساتذہ کی سروس ختم کرنے کا فیصلہ نہ کیا جائے اور ان کی تنخواہیں پہلے کی طرح رواں ماہ سے شروع کی جائیں۔