ٹیسٹا ستلواڑ کو سپریم کورٹ سے عبوری ضمانت پر مسرت کی لہر،ہمیں عدلیہ پر اعتماد ہے: جاویدآنند

212

ممبئی،2ستمبر ۔معروف سماجی شخصیت اور صحافی ٹیسٹا ستلواڑ کو آج سپریم کورٹ سے عبوری ضمانت مل گئی ،جس کے بعد اُن کے قریبوں اور صحافتی حلقے میں مسرت کی لہردوڑ گئی۔جبکہ ایک خانہ بھی انتہائی جذباتی ہے۔تیسٹا کے شوہر اور معروف صحافی اور ایکٹوویسٹ جاوید آمد نے تیسٹا کی عبوری ضمانت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ "ہمیں عدلیہ،آئین اور دستور ہند پر مکمل اعتماد ہے اورمستقبل ضرور انصاف ملا ،سپریم کورٹ نے انصاف کیا ۔اور عدالت عالیہ کی شرائط اورہدایات پرعمل کریں گے۔جاویدآنند نے کہاکہ تفتیشی ایجنسیوں نے سازشوں کا جوالزام۔عائد کیا ہے ،وہ غلط اور بے بنیاد ہے۔سیشن کورٹ نے ضمانت کی اپیل کو نامنظور کردیا تھا اور اب گجرات ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت کی 19 ،ستمبر کو سماعت ہوگی۔

ممبئی کے ایک مشہور سماجی کارکن اور حقوق انسانی کے لیے سرگرم فیروز میٹھی بوروالا نے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں انہیں مکمل ضمانت مل جائے گی ،انہوں نے الزام لگایا کہ تیستا کو ان کے گھر سے گجرات پولیس کے تحت اے ٹی ایس نے مبینہ طور پر "اغواء” کیا اور گجرات لے گئی۔فیروز میٹھی بوروالا نے کہاکہ سپریم کورٹ کے گزشتہ روز تیستا کے معاملہ میں سخت ریمارکس سے محسوس ہوگیا تھا کہ انہیں جلد ضمانت مل جائے گی۔واضح رہے کہ تیستا نے گجرات ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت داخل کی تھی، جسے عدالت نے یہ کہکر مسترد کر دیا تھا کہ معاملے کی تفشیش جاری ہے اور بادی النظر میں ملزمہ کے خلاف شواہد موجود ہیں ،درخواست ضمانت مسترد کر دیئے جانے کے بعد گجرات مسلم کش فسادات میں مسلمانوں کو انصاف دلوانے میں کلیدی کردار ادا کرنے والی تیسٹا نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔آج اس معاملے پر ملک کی سب سے بڑی عدالت نے اپنا فیصلہ ظاہر کیا،کل ہی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یو یو للت پر مشتمل تین رکنی بینچ نےتیسٹاکو عبوری ضمانت پر رہا کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا کہ ملزمہ گزشتہ دو ماہ سے زیر حراست ہے اور پولیس نے پوچھ گچھ کے تمام لازمی طریقہ کار مکمل کر چکے ہیں نیز مزید دنوں تک تحویل میں نہیں رکھا جاسکتا ہے لہزا اس کی ضمانت منظور کی جاتی ہے ۔

عدالت نے ٹیسٹا کو یہ بھی حکم دیا کہ جب تک ہائی کورٹ اس معاملے پر غور نہ کرے وہ ، اپنا پاسپورٹ تفشیش کاروں کے حوالے کردیں نیزعدالت نے تیسٹا کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ تحقیقات میں تعاون کریں ۔گزشتہ روز درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران چیف جسٹس یو یو للت نے گجرات ہائی کورٹ کی جانب سے درخواست رد کئے جانے پر بر ہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسکی سرزنش کی تھی اور یہ کہا تھا کہ جن جرائم کے تحت ملزمہ پر مقدمہ درج کیا گیا تھا وہ قابل ضمانت ہے۔بلکہ۔کہاکہ تیسٹا کو لوٹا اور ٹاڈا کے تحت گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔