ٹومیٹو فلو کے بڑھتے اثرات کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ایڈوائزری جاری کی

631

کیرالہ کے بعد اب ’ٹومیٹو فلو‘ کا اثر دیگر ریاستوں میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہ بیماری چھوٹے بچوں کو اپنی زد میں لے رہی ہے جس سے والدین کی فکر میں اضافہ ہو گیا ہے۔ کورونا وائرس اور منکی پوکس کے بعد ٹومیٹو فلو کو لے کر لوگوں میں خوف دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس بیماری میں 5 سال تک کے بچے تیزی کے ساتھ مبتلا ہو رہے ہیں۔ جولائی ماہ تک صرف کیرالہ کے کولم میں ہی 5 سال سے کم عمر کے 82 بچے اس کی زد میں آ چکے تھے۔ اب یہ انفیکشن کرناٹک، تمل ناڈو، اڈیشہ اور ہریانہ میں بھی پھیل چکا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق اڈیشہ میں ٹومیٹو فلو سے متاثر بچوں کی تعداد 26 ہے، جن میں ایک سے 9 سال کی عمر کے بچے شامل ہیں۔ کچھ لوگ ٹومیٹو فلو کو کووڈ-19 اور منکی پوکس سے متعلق سمجھ رہے ہیں، حالانکہ ماہرین طب نے اس نظریہ کو مسترد کر دیا ہے۔ لوگوں کے اندیشوں کو دور کرنے اور ٹومیٹو فلو کے تئیں بیداری پیدا کرنے کے لیے مرکزی وزارت صحت نے ایک بیان بھی جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ ٹومیٹو فلو عام طور پر ہاتھ، پیر اور منھ کی ایک بیماری ہو سکتی ہے، جو اسکول جانے والے بچوں میں عام ہے۔ یہ وائرس سارس-کوو-2، منکی پوکس، ڈینگو یا چکن گنیا سے بالکل بھی متعلق نہیں ہے۔

مرکزی وزارت صحت نے اس سلسلے میں ایک ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں کہا ہے کہ حال کے رپورٹس نے اسے کوویکس کی اے 17 ہونے کا اندازہ ظاہر کیا ہے، جو اینٹرو وائرس کے گروپ سے متعلق ہے۔ اس بیماری کو ٹومیٹو فلو کی شکل میں بھی جانا جاتا ہے۔ حکومت کی طرف سے ہاتھ، پیر، منھ کی بیماری کے ٹیسٹس، روک تھام اور علاج کو لے کر گائیڈلائنس جاری کیے گئے ہیں۔