ششانگ یادو نے پیر کے روز ٹوئٹ کیاتھا کہ جتنا جلدی ہوسکے”آکسیجن سلینڈر کی ضرورت ہے“ اور بالی ووڈ اداکار سونو سود کو ٹیگ کیاتھا۔

امیتھی۔یہاں پر ایک شخص کے خلاف پولیس کے وبائی امراض ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے ٹوئٹر پر اپنے 88سالہ رشتہ دار کے لئے آکسیجن سلینڈر کے استفسار کے ساتھ لوگوں میں ڈر او رخوف کاماحول پید ا کرنے کا مورد الزام ٹہرایا ہے۔

ششانگ یادو نے پیر کے روز ٹوئٹ کیاتھا کہ جتنا جلدی ہوسکے”آکسیجن سلینڈر کی ضرورت ہے“ اور بالی ووڈ اداکار سونو سود کو ٹیگ کیاتھا۔منگل کے روز مرکزی وزیر اور امیتھی کی رکن پارلیمنٹ سمرتی ایران نے اس ٹوئٹ کے جواب میں ٹوئٹ کیاکہ”ششانک کو تین مرتبہ کال کیاگیا مگر اس نمبر پر کوئی جواب نہیں ملا جو ٹوئٹ میں شیئر کیاگیاہے“۔

انہو ں نے یہ بھی کہاکہ ضلع مجسٹریٹ اور امیتھی پولیس کو چوکنا کیاگیاہے اس شخص کی تلاش اور مدد کریں۔ جب معاملہ کے متعلق پوچھا گیا تو سپریڈنٹ آف پولیس دنیش سنگھ نے کہاکہ چہارشنبہ کے روز یادو اپنے کسی دور کے رشتہ دار کے لئے ٹوئٹ کیاتھا۔

سنگھ نے کہاکہ ”جب انہیں کال کیاگیاتو انہوں نے فون نہیں اٹھایا۔ ہم نے سونچا کے وہ کسی اور مصیبت میں ہوں گے او رانہوں نے بعد میں بھی۔ لہذا ہ نے ان کے نمبر پر نگرانی اور ایڈریس کے متعلق معلومات حاصل کرکے اس کے گھر پہنچے‘ جہاں پر وہ آرام کرتاہوا پایاگیا“۔انہوں نے مزید کہاکہ ”ششانک کا مقصد سنسنی پیدا کرنا تھا“۔

امیتھی پولیس نے منگل کے روز ٹوئٹ کیاکہ”نہ وہ مریض کویڈ سے متاثر ہے او رنہ ہی اس کو آکسیجن کی ضرورت ہے۔ پیر کے روز قلب پر حملے کی وجہہ سے اس کی موت ہوئی ہے۔

اس طرح کے ٹوئٹ نہ صرف قابل مذمت بلکہ ایک جرم ہیں“۔ اپنے ٹوئٹ میں یادو نے بھی نہیں کہاتھا کہ ان کے رشتہ دار کویڈ کے مریض ہیں۔ ایس پی کا کہنا ہے کہ یادو کے خلاف وبا ئی امرا ض ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیاگیاہے اور سی آر پی سی کی دفعہ 41انہیں پولیس سے رجوع کے لئے ایک نوٹس جاری کی گئی ہے۔

ایس پی کا کہنا ہے کہ پوچھ تاچھ کے لئے یادو کو پولیس اسٹیشن لے جایاگیا اور بعد میں انہیں چھوڑ دیاگیا۔

چیف میڈیکل افیسر اشوتش دوبئے نے کہاکہ یادو کے رشتہ دار کویڈ19مثبت نہیں تھے اور ایک خانگی کے تحت ان کا علاج کیاجارہا تھااور اس کی موت آکسیجن کی قلت کی وجہہ سے نہیں ہوئی ہے


اپنی رائے یہاں لکھیں