ٹوئٹر نے بیباک صحافی سمیع اللہ خان کے اکاؤنٹ پر پابندی لگادی

1,422

ممبئی 2. اکتوبر، (ایجنسی)یکم اکتوبر کی صبح سمیع اللہ خان صاحب نے. اپنے آفیشل فیسبوک پر صبح اطلاع دی کہ ان کا اکاونٹ بند کردیاگیا ہے بعدازاں دوپہر بعد سے کئی ایک سوشل رضاکاروں نے خبر دی کہ ان کا بھی اکاؤنٹ بند کردیا گیا ہے یہاں تک کہ پڑوسی ملک پاکستان کے کئی آفیشل اکاؤنٹ بھی ہندوستان میں ممنوع قرار دیے گئے ہیں جس کے بعد سے ٹویٹر صارفین میں تشویش ہے کہ آخر پاپولر فرنٹ پر پابندی کے فوراﹰ ان کے اکاؤنٹس پر یہ کارروائی کیوں کی گئی؟

جس کی رو سے اب وہ ٹویٹر پر اپنی صحافتی سرگرمیوں کو جاری نہیں رکھ سکیں گے۔ٹویٹر انڈیا نے ہندوستان کی قانونی ایجنسیوں کے مطالبے کے بعد سمیع اللہ خان کے ٹویٹر ہینڈل کے خلاف یہ کارروائی کی ہے

سمیع اللہ خان دنیائے اردو کے مشہور و معروف صحافی ہیں اردو دنیا کے علاوہ وہ ٹویٹر پر انگریزی اور ہندی میں بھی مودی سرکار پر تنقید کرنے کی وجہ سے کئی سالوں سے زیادہ پڑھے جاتے رہے. ہندوتوا طاقتوں کی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزیوں پر وہ آواز اٹھاتے رہتے ہیں اور مودی سرکار نیز آر ایس ایس کے سخت مخالف ہیں وہ مسلسل آر ایس ایس کے بڑھتے ہوے اثرات کے نقصانات کا جراتمندانہ تجزیہ پیش کرتے ہیں ۔

ساتھ ہی مودی سرکار کے خلاف سخت تنقیدیں کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں. ماب لنچنگ کے شکار مسلمانوں کے علاوہ ہندو احیاء پرستی کے شکار دلتوں کو انصاف دلانے کے لیے کوششیں کرتے ہیں

بھارت سرکار نے ٹویٹر انڈیا کے ذریعے ایسے وقت میں ان کے خلاف کارروائی کروائی ہے جب کہ وہ مسلسل پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر مودی سرکار کی پابندی کے فیصلے کی سختی سے مخالفت کر رہے تھے اور اس پابندی کو سرکار کی آر ایس ایس نوازی اور مسلم دشمنی سے تعبیر کر رہے تھے ان کا آخری ٹویٹ شرجیل امام کی حمایت میں تھا جوکہ شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کے دوران مشہور ہوئے تھے ان کے ایسے تمام ٹویٹس ہزاروں کی تعداد میں وایرل ہو رہے تھے جس سے حکومت کی مسلم دشمن ذہنیت کا خلاصہ ہوتا تھا اور حکومت مخالف بیداری پھیل رہی تھی۔