آئے دن ٹماٹر کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرتی نظر آ تی ہیں، مہنگے داموں ٹماٹر خرید کر کھانا بنانے کے بجائے ذائقے میں بغیر کسی فرق کے 5 متبادل غذاؤں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ٹماٹر کا استعمال صدیوں سے پکوان بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے، یہ تقریباً ہر نمکین غذا میں استعمال ہوتا ہے جبکہ اب اس کی موجودگی غذا میں ناگزیر سی لگتی ہے مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ مہنگے داموں ٹماٹر خرید کر ہی کھانا بنایا جائے۔

ٹماٹر کا بطور متبادل استعمال ہونے والی غذائیں مندرجہ ذیل ہیں:

دہی

گھر میں ٹماٹر دستیاب نہ ہوں یا پھر قیمتِ خرید سے باہر ہو تو باآسانی بالائی سے پاک سادہ دہی استعمال کیا جا سکتا ہے، دہی بھی کھانوں میں گریوی بنانے اور کھٹاس کے لیے ایک بہترین آپشن ہے۔

دہی اگر 2 سے 3 دن پرانا ہو تو زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

ٹماٹر کی جگہ لوکی کا استعمال

ٹماٹر کی جگہ لوکی کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے، لوکی سے بھی کھانوں میں گریوی بنائی جا سکتی ہے جبکہ کھٹاس کے لیے کچے آم کا پاؤڈر بھی ساتھ میں ملا سکتے ہیں۔

آملہ

سردیوں میں با آسانی دستیاب آملہ کا استعمال ٹماٹر کی جگہ کرنا مفید ثابت ہوتا ہے مگر یہ ٹماٹر سے تھوڑا زیادہ کھٹا ہوتا ہے، اسی لیے کھانا تیار کرتے ہوئے اس کا استعمال حسب ذائقہ کیا جا سکتا ہے۔

آملہ کو کھانے میں پکانے سے قبل اس میں تھوڑا پانی اور ہلکی سی چینی ڈال کر گرائینڈ کر کے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

املی

سالن میں گریوی یا بریانی میں کھٹاس کے لیے املی کا استعمال ٹماٹر کا بہترین متبادل ہے، اس کا استعمال بھی نہایت آسان ہے، املی کو پانی میں استعمال سے قبل 15 سے 20 منٹس کے لیے بھگو دیں۔

بعد ازاں اس کا گودا نکال کر استعمال کریں۔

کچے آم کا پاؤڈر

کچے آم کا زائقہ ٹماٹر کی طرح کھٹا اور منفرد ہوتا ہے، اس سے بھی شوربا گاڑھا بنتا ہے، اس کے استعمال سے کھانے میں نہ صرف ٹماٹر جیسی کھٹاس بلکہ ایک منفرد ذائقہ بھی آ جاتا، کچے آم کا پاؤڈر بھی ٹماٹر کا ایک بہترین متبادل ہے۔

ٹماٹر سے بنا کیچپ

اگر گھر میں ٹماٹر موجود نہیں ہیں تو پکوان تیار کرنے لیے ٹماٹو کیچپ کا بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، اس سے سالن میں گریوی بنتی اور شوربا گاڑھا ہوتا ہے۔

کھانا بنانے کے دوران کیچپ استعمال کرتے ہوئے اسے اچھی طرح سے پکائیں تاکہ اس کے اندر کی مٹھاس ختم ہوجائے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔