نئی دہلی۔سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کے روز یوم جمہوریہ کے موقعپر دہلی میں نکالی گئی ٹریکٹر ریالی کے دوران پیش ائے تشددکے واقعات کی مقررہ وقت میں سپریم کورٹ کے سابق جج کی نگرانی میں جانچ کے لئے کمیٹی تشکیل دینے کی مانگ پر مشتمل ایک درخواست کو مستردکردیاہے۔

چیف جسٹس ایس اے بابڈی کی نگرانی میں ایک بنچ سے وکیل وشال تیواری نے استفسار کیاکہ جس نے پی ائی ایل دائر کی ہے‘ تاکہ ضروری کاروائی کرنے کے لئے مرکزی حکومت سے نمائندگی کرسکے۔

مذکورہ بنچ جس میں جسٹس اے ایس بوپنا اور وی راما سبرامنین بھی شامل تھے نے کہاکہ ”ہمیں یقین ہے کہ یہ حکومت اس (تشدد) میں جانچ کررہی ہے اور وہ کررہے ہیں۔ پریس میں وزیراعظم کی جانب سے دئے گئے بیان کو ہم نے پڑھا ہے‘ کہ قانون اپنا کام کرے گا۔

جس کا مطلب ہے کہ وہ اس کی جانچ کررہے ہیں۔اس موقع پر ہم اس میں مداخلت کرنا نہیں چاہتے ہیں“۔

اس معاملے کی جانچ کرانے کے لئے عدالت عظمی کے ایک ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں ایک کمیشن قائم کرنے کی تیواری نے گوہارلگائی تھی۔

مذکورہ عدالی نے اسی طرح کے دو اور درخواستوں کو جو ٹریکٹر ریالی تشدد سے متعلق تھیں مسترد کردیا او ردرخواست گذاروں سے استفسار کیاہے کہ وہ حکومت سے اس ضمن میں نمائندگی کریں۔

کسانوں نے زراعی قوانین سے دستبرداری کی مانگ کے ساتھ 26جنوری کے روز جو ٹریکٹر ریالی نکالی تھی وہ اس وقت اشتعال میں تبدیل ہوگئی جب قومی درالحکومت کی سڑکوں پر ہزاروں کی تعداد میں کسان اتر ائے اور پولیس کے ساتھ ان کی جھڑپ ہوئی‘

گاڑیوں کے ساتھ توڑ پھوڑ کی گئی‘ رکاوٹیں توڑیں یور لال قلعہ کی فصیل پر ایک مذہبی پرچم لہرایاگیاگیاتھا


اپنی رائے یہاں لکھیں