نیویارک : مستتقبل کو سنوارنے  میں لگے  ابھرتے ہوئے 100  نیتاؤں کی ‘ ٹائم’ میگزین   کی ایک لسٹ میں  ہندوستانی کارکن او ر ہندوستانی نژاد  پانچ افراد  نے  جگہ پائی ہے۔   ان میں ٹویٹر کی  اعلیٰ وکیل وجیا  گڈے اور برطانیہ کے وزیر خزانہ رشی سنک شامل ہیں۔ بدھ کو جاری  کی گئی ‘2021 ٹائم 100 نیکسٹ ‘   دنیا کے 100 بااثر افراد کی ٹائم 100 سیریز کی توسیع ہے۔ اس میں 100 ابھرتے ہوئے رہنماؤں کو  شامل کیا گیا ہے  جو مستقبل  کو آکار دے  (تشکیل کر)رہے ہیں۔

ٹائم 100 کے ایڈیٹوریل ڈائریکٹر ڈین میکسائی نے کہا کہ اس فہرست میں شامل ہر شخص تاریخ رقم کرنے کو تیار ہے۔ در اصل ، بہت سے لوگ تاریخ بنا چکے ہیں۔ ہندوستانی نژاد دیگر مشہور شخصیات میں ‘انسٹاکارٹ’ کے بانی اور سی ای او اپوروا مہتا اور غیر منافع بخش’ گیٹ اَس پی پی آئی  کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شیکھا گپتا ، اور غیر منافع بخش ‘اپسولو’کے روہن پوُلوری شامل ہیں۔ بھیما آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

 میگزین میں  رشی سنک کے بارے میں کہاگیا ہے کہ ایک سال سے کچھ زیادہ وقت تک 40  سالہ سنک برطانوی حکومت میں  ایک گمنام جونیئر وزیر  رہے  ، لیکن گذشتہ سال انہیں برطانیہ کا وزیر خزانہ بنایا گیا تھا۔ وہ جلد ہی کووڈ –  19 کی وبا کے تئیں حکومت  کے  ردعمل کا اعتدال پسند چہرہ بن گئے اور ان لوگوں کے لئے امداد اقدامات کی منظوری دی جن کی ملازمت وائرس کی وجہ سے  متاثر ہوئی تھی۔ میگزین کا کہنا ہے کہ یوگوو کے سروے کے مطابق ، سنک ملک کے سب سے  مقبول سیاستدان ہے اور وہ برطانیہ کے اگلے وزیر اعظم کے طور پر اوڈسمیک  کی پسند ہیں ۔

ڈائم   میں 34 سالہ اپوروا مہتا کے بارے میں کہا کہ انسٹا کارٹ کو کووڈ – 19 وبا کے ابتدائی دنوں میں ‘انسٹا کارٹ ‘  کو بے تحاشہ آڈر ملے کیونکہ  امیر لوگوں نے  خدمت  گار ملازمین کو اپنے لئے راشن خریدنے  میں  مدد کرنے کے مقصد سے ایک ساتھ بڑی تعداد میں خریداری کی ۔ انسٹاکارٹ نے اپنے کارکنوں کے ساتھ جس طرح سلوک کیا اس کی وجہ سے بھی انھیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ مہتا نے ٹائم میں لکھے گئے مضمون میں کہا ہے کہ مستقبل میں اسمارٹ فون ایک سپر مارکیٹ ثابت ہوگا۔ ہم اس کی شریک پیداوار میں مدد کرنے جارہے ہیں۔

ٹائم  میں  46 سالہ گاڈے کو ٹویٹر  کی سب سے  طاقتورعہدیداروں میں سے ایک بتایا گیا  ہے ، جنہوں نے   سی ای او جیک ڈورسی کو بتایا  تھا کہ سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا ٹویٹر اکاؤنٹ 6 جنوری کو کیپل (پارلیمنٹ ہاؤس)پر حملے کے بعد معطل کردیا گیا ہے۔ میگزین میں کہا گیا کہ ٹویٹر  پر اب بھی غلط جانککاری اور  ہراساں  کیا جاتا ہے ، جب کہ  گاڈے  کا  اثرورسوخ آہستہ آہستہ کمپنی کو اس طرف لے جارہا ہے جو کہتا  ہے کہ اظہار رائے کی آزادی لامحدود نہیں ہے بلکہ  کئی لوگوں کے   انسانی حقوق میں سے ایک ہے جس کو ایک دوسرے کے بارے میں دیکھا جانا چاہئے ۔

میگزین میں بھیم آرمی کے رہنما آزاد (34) کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ وہ دلت برادری کو تعلیم کے ذریعے غربت سے نکالنے میں مدد کے لئے اسکول چلا رہے ہیں اور وہ جارحانہ ہے۔ وہ بائیکوں  پر ذات پات  پر مبنی تشدد کے شکار لوگوں کی حفاظت کے لئے دیہاتوں    میں جاتے ہیں  اور بھیدبھاؤ   کے خلاف اشتعال انگیز مظاہروں کا اہتمام کرتے ہیں ۔ اترپردیش کے ہاتھرس میں 19 سالہ دلت لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے معاملے میں آزاد اور بھیم آرمی نے انصاف کی مہم چلائی۔