انٹرویو کار: ڈاکٹر غضنفراقبال

نورالحسنین (1950) اُردو فکشن کا وہ نام ہیں جن کی تحریر وتخلیق سے شعبۂ افسانہ وناول منور ہوا۔لفظوں کے شہر اورنگ آباد دکن سے متعلق نورالحسنین کی تحریریں اجنتا اور ایلورا کے شاہ کارکی طرح فن کے دوام ابد کا تصور قائم کرتے ہیں۔ان سے کی گئی باتیں رنگ رنگ اُردو قاری کی نذر ہیں۔(غ۔الف)

غ ۔۔۔حسنین صاحب سب سے پہلے تو اپنے خاندانی پس منظر سے واقف کروائیے ؟
ح ۔۔۔ غضنفر میاں ۔۔۔ اللہ کا بڑا احسان ہے کہ اُس نے بہت اچھے خاندان میں پیدا کیا ہے ۔ میرا گھرانہ آصف جاہی سلطنت کے جاگیرداروں میں سے ایک تھا ۔ میرے اجداد خجند سے ہجرت کرکے پہلے لاہور پہنچے اور پھر وہاں سے اُن کی اولادوں میں سید شاہ عنایت للھی امرت سر، پانی پت، دہلی ہوتے ہوئے برہان پور پہنچے اور وہاں کچھ قیام کے بعد بالا پور مہاراشٹر آئے وہاں خانقاہی نظام کی بنیاد ڈالی، اُن کے پوتے سید شاہ قمر الدین نقشبندی اور نگ آباد آگئے اور یہاں پر خانقاہی نظام قائم کیا ۔ میں اُن کی ساتویں پشت میں ہوں ۔ میرا گھرانہ بیک وقت صوفیوں، عالموں، جاگیرداروں کا گھرانہ ہے ۔ اس لیے لکھنا پڑھنا مجھے وراثت میں ملا ۔
غ ۔۔۔ موجودہ حالات سے کیا آپ مطمئن ہیں ؟
ح ۔۔۔ ان حالات سے میں کیا کوئی بھی انسان مطمئن کیسے رہ سکتا ہے ۔
غ ۔۔۔ آپ نے کتنے افسانے لکھے ہیں ؟
ح ۔۔۔ کم وبیش چالیس برسوں سے افسانے لکھ رہا ہوں لیکن میری رفتار بہت سست ہے میرا خیال ہے اب تک ستر بہاتر افسانے لکھا ہوں گا ۔

غ ۔۔۔ آپ کا تعلق شہر علم وہنر اورنگ آباد دکن سے ہے ۔ اس علاقے کی افسانوی روایت آپ کی نظر میں ؟
ح ۔۔۔ اورنگ آباد یہ شاعری کی زمین ہے ۔ یہاں سے ولیؔ اورنگ آبادی، شاہ سراج، سکندر علی وجد، حمایت علی شاعر ، مولوی یعقوب عثمانی ، قاضی سلیم ، بشر نواز جیسے شعراء نے اپنی عظمت کو منوایا ، افسانہ بھی یہاں لکھا گیا ۔ ڈاکٹر رفیعہ سلطانہ ، رفعت نواز، الیاس فرحت ، اثر فاروقی،محمود شکیل اور رشید انور جیسے ادیب یہاں پر پیدا ہوئے ۔ پھر یہاں جوگندر پال نے اپنی عمر کا ایک حصہ بسر کیا ، حمید سہروردی کا قیام بھی یہاں کافی عرصہ رہا ۔ اس لیے یہاں کے افسانہ نے ترقی پسند تحریک اور جدیدیت سے بھی پوری طرح آنکھیں چار کیں ۔ ہم لوگوں کو جدیدیت کی طرف حمید سہر وردی نے رہنمائی کی ۔ اس لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ یہاں افسانے کو بھی پھولنے پھلنے کا اچھا موقع ملا ۔
غ ۔۔۔ میں آپ سے اب یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کے معاصر افسانہ نگاروں کے بارے میں آپ کے کیا خیالات ہیں ؟
ح ۔۔۔ میرے معاصر افسانہ نگار پورے ہندوستان میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ان میں سب ہی با صلاحیت تھے سب نے اپنی بساط بھر بہت اچھے افسانے لکھے ۔ کئی تو وہ ہیں جن کے حصے میں ریاستی اکادمیوں کے علاوہ ساہتیہ اکادمی کے ایوارڈز بھی آئے ہیں ۔ خود مجھے دوحہ قطر کا عالمی ایوارڈ عطا ہوا ۔ اگر آپ علاقے کی روشنی میں میرے معاصرین جاننا چاہیں تو کچھ سینئیر ہونے کے باوجود حمید سہر وردی، ساتھیوں میں عارف خورشید، عظیم راہی ، ڈاکٹر شجاع کامل، ڈاکٹر حمید اللہ خان ہیں ۔ سب نے اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق افسانے بھی لکھے۔ ہم سب کے افسانوں کے مجموعے بھی شایع ہوئے اور شناخت بھی قائم ہوئی ۔
غ ۔۔۔ کن افسانہ نگاروں سے آپ متاثر رہے ؟
ح ۔۔۔ ابتداء میں میں کرشن چندر سے بہت متاثر تھا ۔ اس کے بعد مجھے سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی ، قرۃ العین حیدر اور جوگندر پال نے بے حد متاثر کیا ، لیکن غضنفر اقبال صاحب میں نے اپنے ان پسندیدہ افسانہ نگاروں کی کبھی نقل کرنے کی کوشش نہیں کی ، جو بھی لکھا اپنے انداز اور اپنے اسلوب میں لکھا حتیٰ کے میرے موضوعات بھی میرے اپنے ہیں ۔
غ ۔۔۔ حسنین صاحب آپ کے وہ کونسے افسانے ہیں جو اُردو افسانے کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے ؟
ح ۔۔۔ عزیزم ۔۔۔ یہ بہت مشکل سوال ہے ۔ یہ تو وقت فیصلہ کرے گا ۔ہاں اگر آپ مجھ سے یہ پوچھیں کہ آپ کے وہ کونسے افسانے ہیںجو قاری اور ناقدپسند ہیں ؟ تو شاید میں کچھ بتا سکوں ۔

غ ۔۔۔ جی ۔۔۔ وہی بتا دیں ۔
ح ۔۔۔ میرے ایسے افسانوں میں ’’ گڑھی میں اُترتی شام ، سبزئہ نو رستہ کا نوحہ، باہر کا منظر، بھور بھئی جاگو ، پیپل کی چھئیاں، کلمہ گو، ایک اُداس شام ، ایک زندہ کہانی وغیرہ وغیرہ اور بھی کچھ ہیں جن کے نام اب یاد نہیں آرہے ہیں ۔
غ ۔۔۔ افسانہ اور کہانی کے فرق کو آپ کیسا محسوس کرتے ہیں ؟
ح ۔۔۔ ویسے تو دونوں طرح سے کہاجاتا ہے ۔ لیکن افسانہ وہ ہوتا ہے جس کے پیش کرنے کا اپنا انداز ہوتا ہے ۔ جس میں اسلوب، تکنیک کا بھی استعمال ہوتا ہے ۔ جس کے پڑھنے کے بعد قاری کچھ دیر ٹھہر کر سوچتا بھی ہے ۔
غ ۔۔۔ آپ نے تصوف کے موضوع پر افسانہ ’’ تقلیب‘‘ لکھا تھا کیا تصوف کا موضوع اُردو افسانے میں قدم رنجہ ہوا ہے ؟
ح ۔۔۔ میرے عزیز اُردو افسانے کا دامن بہت وسیع ہے ۔وہ کونسا موضوع ہے جو اُس سے بچ پایا ؟ چند نام جو میرے ذہن میں آرہے ہیں وہ ہیں عزیز احمد کا افسانہ ’’ تصور ِ شیخ ، قرۃ العین حیدر کا افسانہ ’’ ملفوظات حاجی گل با با بیکتاشی‘‘ اشفاق احمد ’’ سفر در سفر‘‘ حمیدسہروردی ’’ روشن لمحموں کی سوغات ‘‘ ڈاکٹر بیگ احساس ‘‘ نمی دانم کہ ۔۔۔ ‘‘ ان کے علاوہ اور بھی بے شمار
افسانے ہیں ۔
غ ۔۔۔ کیا مابعد جدید افسانہ پریم چند کے افسانوں کی صدا ہے ؟
ح ۔۔۔ ہر دور اپنے موضوعات ، اپنا اسلوب لے کر آتا ہے ۔ مابعد جدید افسانہ اگر پریم چند کے افسانوں کی صدا بن جائے تو اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ افسانے کا ارتقائی سفر رک گیا بلکہ اُس کی ترقی نہیں ہوئی اور وہ معکوسیت کا شکار ہو گیا ۔ جبکہ افسانے کا ارتقاء ہر لحاظ سے ہوا ہے ۔ زبان بدلی ، پیش کشی کا انداز بدلہ اسلوب اور تکنیک نے فن کے نئے اُفق دریافت کیے۔اس لیے میں اس بات کو نہیں مانتا ۔
غ ۔۔۔ آج کل افسانچے بہت زیادہ لکھے جا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود افسانچہ کو اُردو ادب میں کیوں فروغ نہیں مل سکا ؟ ح ۔۔۔ میرے عزیز میرے نزدیک افسانچہ ایک مشکل فن ہے کیونکہ جہاں سے وہ شروع ہوتا ہے وہ اُس کا نقطہ آغاز نہیں ہوتا اور جہاں پر وہ کاغذ پر ختم ہوتا ہے وہ اُس کا اختتام نہیں ہوتا ۔ مطلب جہاں سے وہ کاغذ پر اُترتا ہے اُس کے عقب میں بھی کوئی کہانی ، واقعہ ہوتا ہے جس کا احساس قاری کے ذہن میں پیدا ہونا چاہیے ۔ اسی طرح جہاں وہ ختم ہوتا ہے اُس کے آگے کا منظر قاری کے ذہن میں پیدا ہونا چاہیے ۔اگر کسی افسانچے میں یہ بات نہ ہو تو وہ کیا تاثر اپنے قاری پر چھوڑے گا ؟ جس طرح رباعی یا ثلاثی کا آخری مصرعہ پوری نظم کی ایک اکائی بن کر قاری کے ذہن پر ضرب لگاتا ہے وہی کیفیت افسانچے میں بھی دکھائی دینی چاہیے ۔
افسانچہ نگار اگر اس مہارت کو برتتے ہوئے افسانچے لکھیں گے تو یقینی طور پر وہ ادب کا حصہ بھی بن پائیں گے ۔
غ ۔۔۔ حسنین صاحب آپ نے عشق کے موضوع پر ’’ چاند ہم سے باتیں کرتا ہے ‘‘ ناول ہی لکھ ڈالا ، عشق کے بارے میں آپ کا نظریہ کیا ہے ؟
ح ۔۔۔ عشق کے متعلق میرا نظریہ کیا ہے ؟ میرے دوست میں اس کی پوری طرح وضاحت ناول میں کر چکا ہوں اور یہ نظریہ خود عشق بیان کرتا ہے ۔
غ ۔۔۔ آپ نے بچوں کے لیے بھی ادب لکھا ہے ، ادب ِ اطفال تحریر کرتے ہوئے کن لوازمات کا خیال رکھنا ضروری ہے ؟
ح ۔۔۔ میری ادب میں انٹری ہی بچوں کے ادب سے ہوئی جب میں خود بچہ تھا ۔ اُس وقت بھی لکھتے وقت میں اپنے آپ سے سوال کرتا تھا کہ میری خواہشات کیا ہیں ؟ میرے دوست مجھ سے کس قسم کی کہانی سننا پسند کرتے ہیں ۔ رہی بات لفظیات کی تو وہ وہی ہوتے تھے جنھیں میں استعمال کرتا تھا ۔ عمر کے ساتھ ہی ساتھ میں افسانہ نگاری کی طرف مائل ہوگیا تھا اور بچوں کے لیے لکھنے کا شوق مجھ سے جدا ہوگیا تھا ۔ لیکن قسمت مجھ سے پھر ایک بار یہ کام لینا چاہتی تھی ۔ چنانچہ جب میں ریڈیو کی ملازمت میں آیا تو بچوں کے پروگرام کے لیے پھر مجھے بچوں کے لیے کہانیاں لکھنا ضروری ہو گیا ۔ اب میں بچوں کی نفسیات ، اُن کی شرارتیں ، اُن کی پسند کے ساتھ ہی اور بھی بہت سارے موضوعات پر لکھنے لگا تھا ، جیسے درخت کیوں ضروری ہیں ، بارش کیسے ہوتی ہے ، اسکول کا پہلا دن کیا خوشیاں لاتا ہے ۔ والدین کی اطاعت اور فرمابرداری سے خود بچوں کو کیسا محسوس ہوتا ہے ۔ اس کے لیے کچھ فینٹاسی بھی لکھی تاکہ بچوں کا دل بہل سکے ۔ میرا خیال ہے ادب اطفال کی تخلیق کے لیے ان باتوں پر بھی دھیان دیا جائے تو بہت کچچھ لکھا جا سکتا ہے ۔بعد میں ان ہی کہانیوں کو ایک جگہ جمع کرکے میں نے ’’ گڈو میاں ‘‘ چوتھا شہزادہ ، اور بچوں کے لیے ڈراموں پر مشتمل ایک کتاب ’’ حضور کا اقبال بلند رہے ‘‘ شایع کر دیا تھا ۔ ان کتابوں کو بچوں نے بے حد پسند کیا ۔
غ ۔۔۔ آپ نے ڈراموں کا ذکر کیا تو میرے ذہن میں یہ سوال آیا کہ ڈرامہ نگاری پر زوال کیوں ہے ؟
خ ۔۔۔ کسی بھی صنف کی ترقی کا تعلق اُس زبان کے استعمال کرنے والوں کی تہذیب سے ہوتا ہے ۔ اتفاق سے اُردو زبان سے ہماری قوم کا تعلق ہے اور ہمارے مذہب و کلچر میں ناچ گانا، اداکاری کو پسند نہیں کیا جاتا تھا ۔ جس کا اثر اس صنف پر بھی پڑا ۔ لیکن اب منظر بدل رہا ہے ۔ اسکول اور کالجوں میں سالانہ پروگراموں میں ڈرامے کھیلے جا رہے ہیں ۔ ڈرامہ بھی لکھا جا رہا ہے ۔ حال ہی میں اقبال نیازی نے سو ڈراموں پر مشتمل ایک کتاب مرتب کی ہے ۔ اُس میں میرا بھی لکھا ایک ڈرامہ شامل ہے ۔
غ ۔۔۔ آپ نے خاکہ نگاری بھی کی بلکہ ایک کتاب بھی آپ کی شایع ہوئی ہے ۔ ایک خاکہ نگار کو کن باتوں کو ملحوظ رکھنا ہوتا ہے ؟
ح ۔۔۔ عزیزم میری خاکہ نگاری تو ایک حادثے کا نتیجہ تھی ۔آپ کا شہر تو خاکہ نگاروں کا شہر ہے ۔ مجھ سے زیادہ تو آپ جانتے ہیں ۔ بلکہ خاکہ نگاری پر آپ ہی کے شہر سے نہایت دستاویزی کتاب شایع ہوئی ہے ۔
غ ۔۔۔ حسنین صاحب آپ نے نہایت عمدہ سراپا نگاری بھی کی ہے ۔ کیا آپ کے لکھے سراپا کو خاکہ نگاری کی ذیل میں رکھا جاسکتا ہے ۔ ؟

ح ۔۔۔ خاکہ کسی بھی شخصیت کی زندگی، عادات و اطوار، مزاج،اُس کے شوق ذوق کے ساتھ ہی ساتھ اُس کا سراپہ بھی بیان کرتا ہے ۔ جبکہ سراپہ نہایت مختصر ہوتا ہے اور قلم سے اپنے ممدوح کی تصویر کشی کرتا ہے ۔ میں نے بہت سارے سراپے لکھے لیکن بنا کسی ماڈل سراپے کو دیکھے بغیر ۔مجھے نہیں معلوم میرے لکھے ہوئے سراپہ کہاں تک اُس کے فن پر کھرے اُترے ہیں ۔
غ ۔۔۔ کیا اُردو ناول نگاری نے ’’ آگ کے دریا ‘‘ کے بعد بڑے ناول دئیے ہیں ؟
ح ۔۔۔ عزیزم غضنفر اقبال ناول ’’ آگ کا دریا ‘‘ آج بھی اپنی بلند قامتی کے ساتھ اُردو کے آسمان پر کسی سورج کی طرح جگمگا رہا ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ اُردو ادب میں ’’ خدا کی بستی ، اُداس نسلیں، ایسی بلندی ایسی پستی ، آنگن ، دشت ِ سوس ، راجہ گدھ جیسے ناول آئے ۔ اُن کو بے حد پذیرائی بھی ملی لیکن جو عظمت ناول آگ کے دریا کو ملی ، اُس کا جواب نہیں۔ یہ سوال آپ ایک ایسے شخص سے پوچھ رہے ہیں جو خود قرۃالعین حیدر کا بہت بڑا فین ہے ۔ وہ تو یہی بات کہے گا ۔
غ ۔۔۔ ’’ نیا افسانہ ۔ نئے نام ‘‘ سے آپ کی کتاب دو جلدوں میں منظر ِعام پر آچکی ہیں ۔ آپ نے ان مضامین میں وہ کونسی نئی باتیں پیش کی ہیں جو مذکورہ افسانہ نگاروں کے لیے کہی نہیں گئی ہیں ؟
ح ۔۔۔ میرے دوست میں کوئی ناقد نہیں ہوں ، لیکن جب میرے کانوں پر یہ بات آئی کہ مستند ناقدین نے ہماری نسل پر لکھنے سے انکار کرتے ہوئے یہ کہا کہ تم خود اپنا ناقد پیدا کرو تو حمید سہروردی، حسین الحق، شوکت حیات ، سید احمد قادری ، سلام بن رزاق، نگار عظیم ، قمر جمالی، خورشید حیات اور بہت سارے افسانہ نگاروں نے اس کام کو اپنے ہاتھوں میں لیا ، اور میں نے بھی قلم اُٹھایا ، ظاہر ہے ہم سب تخلیق کار ہیں بنیادی طور پر ناقد نہیں۔ ہم نے آپس میں ایک دوسرے پر لکھنا شروع کیا ۔ رہی میری بات تو میں نے اپنے ساتھی افسانہ نگاروں کے افسانوں کی روح کو سمجھنے کی کوشش کی اور افسانوں کے ظاہری و زیریں پر توں کو کھولنے کی کوشش کی ہے۔ اُن افسانوں کی گہرائی و گیرائی بتانے کی کوشش کی ہے ۔
غ ۔۔۔ ایک اور سوال ، آپ نے مزاحیہ کالم بھی لکھے ہیں ۔ مزاح کس قدر زندگی کو سنجیدہ بناتا ہے ؟
ح ۔۔۔ یہ بہت عمدہ سوال ہے ۔ مزاح نگار جس ہلکے پھلکے انداز میں بلکہ مزاح کی چاشنی میں زندگی کی تلخیوں کا مذاق بناتا ہے اور اُس کے پس ِ پردہ حقیقت کو اُجاگر کرتا ہے وہ آسان کام نہیں ہے ۔ اسی انسانی رشتوں کے درمیان جو مفاد پرستی اور مکاری حائل ہوکر رشتوں کا استحصال کرتی ہے ایک مزاح نگار اُس پر شوگر کوٹیڈ طنز کرتا ہے وہ ہنسی ہنسی میں برداشت ہوجاتاہے اور مقابل کی آنکھیں بھی کھل جاتی ہیں ۔
غ ۔۔۔ کبھی آپ نے اخبارات میں قلم کاروں پر ایک ملاقات پر مبنی کالم ’’ عوام کی عدالت ‘‘ میں شروع کیا تھا اور پھر بعد میں ریڈیو پر بھی پیش کیا تھا ۔ و کس مقام پر ٹھہرتا ہے ؟
ح ۔۔۔ اخبار کا یہ کالم سماج میں موجود قلم کاروں پر اُن سے ملاقات کرکے تشکیل دیا جاتا تھا ۔ اس کے پیچھے مقصد یہ تھا کہ قلم کاروں سے متعلق جو افواہیں تھیں اُن سے نگیٹیوسوالات کیے جاتے تھے اور اُن سے پازیٹیو جواب طلب کیے جاتے تھے تاکہ اُن کے ادبی مقصد کو واضح کیا جاسکے ۔ ریڈیو پر یہ پروگرام مرحوم قلم کاروں پر کیے جاتے تھے ۔ جس میں عوام کی عدالت میں اُن پر مقدمہ دائر کیا جاتا تھا ۔ وکیل سرکار اُن پر تنقید کی روشنی میں الزام لگاتا تھا ۔ قلم کار خود اپنا دفاع کرتا تھا اور گواہ کی حیثیت سے اُس کے کردار سامنے لائے جاتے تھے ۔ ہر دو پروگرام بہت زیادہ پسند کیے جاتے رہے ہیں ۔
غ ۔۔۔ اپنے قارئین کے لیے آپ کیا کہیں گے ؟
ح ۔۔۔ یہی ایک بات کہ مطالعے کی عادت کو خود بھی اپنائیں اور اپنے دوستوں کو بھی اس طرف راغب کریں ۔
غ ۔۔۔ حسنین صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے ملاقات کا شرف بخشا ۔
ح ۔۔۔ عزیزم شکریہ تو آپ کا بھی کہ آپ نے مجھے اس قابل سمجھا ۔ شکریہ