نئی دہلی : کورونا وائرس کے معاملات عالمی سطح پر کم ہوئے ہیں تو ممالک کے درمیان فلائٹس کی شروعات بھی ہورہی ہے۔ طیاروں کی آمد و رفت کے سسٹم کو معمول پر لانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ایسے میں سفر کیلئے اپنے ملک سے ویکسینیشن سرٹیفکیٹ اور سفر کی اجازت جیسے کاغذات لازمی کئے جاسکتے ہیں۔ کئی ممالک میں اس طرح کی شروعات بھی ہوچکی ہے۔ یہ کاغذات ای فارمیٹ یا ڈیجیٹل فارمیٹ میں ہوں گے۔ انہیں ہی ویکسین پاسپورٹ کہا جارہا ہے۔ سال 2020 میں ایئرلائن صنعت کوتقریبا 118.5 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے اور سال 2021 میں مزید 38.7 ارب ڈالر کا نقصان ہونے کا اندازہ ہے۔ وہیں 2019 کے موازنہ میں دیکھا جائے تو بین الاقوامی ہوائی سفر 90 فیصد تک کم ہوچکے ہیں۔ معیشت کو جو جھٹکے کورونا وائرس کی وجہ سے لگے ہیں ، ان کی وجہ سے ہوابازی شعبہ میں 1.8 ٹریلین ڈالر تک کی کمی آئے گی ، جس سے باہر نکلنے میں طویل عرصہ لگ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جلد از جلد معیشت کو پٹری پر لانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ ویکسین پاسپورٹ جاری کرنے کا بڑا مقصد دوسرے ممالک کا ڈر ختم کرنا ہے۔ ابھی یا تو زیادہ تر ممالک نے کئی متاثرہ ممالک کیلئے سرحدیں بند کر رکھی ہیں یا پھر اگر سفر ہو بھی رہا ہے تو پہلے غیرملکیوں کی جانچ ہوتی ہے اور پھر کوارنٹائن میں رکھا جاتا ہے۔ یہ وقت اور مال کا ضیاع بھی ہے۔ ایسے میں یہ پاسپورٹ ڈر اور پیسوں کی بربادی سے راحت دے سکتا ہے۔سب سے پہلے سال 2020 کے اکتوبر میں بین الاقوامی ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے یہ بات کی تھی۔ یہ ایک طرح کا ڈیجیٹل پاسپورٹ ہوگا ، جس میں مسافر کے کورونا ٹسٹ ، ٹیکہ کاری سرٹیفکیٹ جیسی جانکاریاں درج ہوں گی ، تاکہ مسافر کو سفر کے دوران پریشانی نہ کے برابر ہو۔ اسی ڈیجیٹل پاسپورٹ میں سفر کے حقیقی پاسپورٹ کی کاپی بھی اپ لوڈ ہوگی ، جس سے اس کی شناخت ہوسکے گی۔
یہ کسی آئی ڈی سے وابستہ ہوگا ، جس کو ڈالتے ہی پتہ لگے گا کہ سامنے والا شخص کورونا ویکسین لے چکا ہے یا نہیں۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ انٹرنیشنل ٹریولر کو کوارنٹائن میں وقت نہیں گزارنا ہوگا بلکہ دوسرے ملک میں پہنچتے ہی وہ اپنے کام میں مصروف ہوسکتا ہے۔ اس سے کاروبار سے لے کر اعلی تعلیم تک کیلئے سفر آسان ہوسکے گا۔
کون سے ملک ویکسین پاسپورٹ استعمال کررہے ہیں ؟
اسرائیل سب سے پہلا ملک ہے ، جس نے ایسا بندوبست لاگو کیا ہے۔ وہاں اس کو گرین پاسپورٹ کہا جارہا ہے۔ بتادیں کہ اسرائیل گزشتہ سال بھر سے ٹھپ پڑی معیشت میں تیزی لانے کیلئے کافی مشقت کررہا ہے۔ وہ دنیا بھر میں سب سے تیزی سے کورونا کا ٹیکہ لگانے والے ملک کے طور پر بھی ابھرا ہے۔ بتادیں کہ وہاں کی آبادی نو ملین ہے اور اس مہینے کے آخر تک وہاں کی تقریبا 70 فیصد آبادی کی ٹیکہ کاری ہوجائے گی۔
دوسرے ممالک بھی قطار میں ہیں
بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق تھائی لینڈ میں بھی جلد ہی ویکسین پاسپورٹ جاری ہونے جارہا ہے۔ تھائی لینڈ کی معیشت ویسے بھی سیاحت پر مبنی ہے۔ ایسے میں پاسپورٹ بندوبست جاری کرنے پر وہاں غیر ملکی سیاحوں کا آنا آسان ہوسکے گا۔ اس کے علاوہ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن سفری پاس جاری کرنے کی بھی کوشش میں ہے۔ ساتھ ہی ورلڈ اکنامک فورم اور کامنس پروجیکٹ فاونڈیشن جیسے ادارے لندن سے نیویارک کے درمیان فلائٹس میں کامن پاس ایپ کو ڈیولپ کرنے کے بعد ٹسٹ کرچکے ہیں۔
ہندوستان میں کیا ہے حالت ؟
ملک میں فی الحال اسرائیل جیسا ویکسین پاسپورٹ سسٹم نظر نہیں آرہا ہے ، لیکن اس پر غور ضرور ہونے لگا ہے۔ بین ریاستی سطح پر ہی کئی ریاستوں نے ایک دوسری ریاست کے شہریوں کو اپنی سرحد میں داخل ہونے کیلئے کورونا نگیٹیو سرٹیفکیٹ دکھانے کو لازمی قرار دیا ہے۔ جن لوگوں کو کورونا کی ویکسین کا دوسرا ڈوز لگ رہا ہے ، انہیں سرٹیفکیٹ بھی دیا جارہا ہے۔
کیا ڈبلیو ایچ او ویکسین پاسپورٹ کے خلاف ہے ؟
8مارچ کو عالمی صحت تنظیم کے ایمرجنسی چیف ڈاکٹر مائیکل راین نے کہا کہ اس طرح کا پاسپورٹ جاری کرنا غیر اخلاقی ہے۔ ان کے مطابق دنیا میں ابھی وافر ویکسین دستیاب نہیں ہوسکی ہیں اور جتنی ویکسین ہیں ، اس کی بھی مساوی طریقہ سے تقسیم نہیں ہوئی ہے۔ ایسے میں پاسپورٹ جاری کرنا یعنی محروم لوگوں کے ساتھ بھید بھاو کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ڈبلیو ایچ او یہ بھی کہہ رہا ہے کہ فی الحال اس بات کی بھی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ ویکسین کا اثر کتنے وقت تک رہے گا اور یہ کنتی موثر ہوگی۔


اپنی رائے یہاں لکھیں