نئی دہلی:وزیر اعظم نے ملک میں آکسیجن کی دستیابی کو بڑھانے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لینے کے لئے ایک اجلاس کی صدارت کی۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیکل گریڈ آکسیجن کی فراہمی کو بڑھانے کی فوری ضرورت ہے اس کے علاوہ گھر اور اسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال کے لئے درکار سامان کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ تمام وزارتوں اور محکموں کو آکسیجن اور طبی سامان کی دستیابی بڑھانے کے لئے ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ حال ہی میں ریمڈیشویر اور اس کے API پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ حاصل ہے۔ جس کے بعد یہ فیصلہ لیاگیا کہ مریضوں کو آکسیجن فراہم کرنے سے متعلق سازوسامان کی درآمد میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ ان کی تیاری اور دستیابی کو بڑھانے اور بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لئے ، آکسیجن اور آکسیجن سے متعلقہ سامان سے متعلق اشیاء کی درآمد پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی اور ہیلتھ سیس سے فوری طور پر تین ماہ کی مدت تک مکمل چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کوڈ ویکسین کی درآمد پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی کو بھی فوری طور پر 3 مہینوں کے لئے مستثنیٰ کردیا جائے۔ اس سے ان اشیاء کی دستیابی کو بڑھاوا ملے گا ،وزیر اعظم نے محکمہ ریونیو کو ہدایت کی کہ ایسے سامان کی ہموار اور فوری کسٹم کلیئرنس کو یقینی بنایا جائے۔ آئی اے ایف کے طیارے سنگاپور سے کرائیوجنک آکسیجن ٹینک لیکر آرہے ہیں۔اسی طرح کل ایک اہم فیصلے میں مرکزی حکومت نے پردھان منتری غریب کلیان یوجنا کے تحت اگلے دو مہینوں کیلئے فی کس پانچ کلو گرام مفت اناج دینے کا اعلان کیا ہے۔ غریبوں کیلئے یہ اناج مئی اور جون 2021 کے لئے دئے جائیں گے۔ مرکزی حکومت کی اس پہل سے 80 کروڑ لوگوں کو فائدہ ملنے کی امید ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں