انناؤ۔ بی جے پی کے انناؤ کی نمائندگی کرنے والے رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج نے دعوی کیاہے کہ اے ائی ایم ائی ایم صدر اسدالدین اویسی نے بھگوا پارٹی کی بہار اسمبلی میں مدد کی ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعوی کیاکہ اویسی یوپی اور مغربی بنگال اسمبلی الیکشن میں بھی بی جے پی کی مدد کریں گے۔ جیسے ہی ساکشی مہاراج کا سوشیل میڈیا پر دعوی وائرل ہوا‘ اپوزیشن قائدین نے اے ائی ایم ائی ایم اور بی جے پی دونوں کو نشانہ بناناشروع کردیاہے

یہاں پر اس بات کاتذکرہ ضروری ہے کہ اپوزیشن نے اے ائی ایم ائی ایم کو ہمیشہ بی جے پی کی بی ٹیم کا خطاب دیاہے

یوپی کے پنچایت انتخابات میں اے ائی ایم ائی ایم کا مقابلہ متوقع
درایں اثنا اویسی کی پارٹی توقع کی جارہی ہے کہ اویسی کی پارٹی علاقائی اتحاد کی قیادت کرنے والے ایس بی ایس پی الائنس کے حصہ کے طور پر یوپی میں مجوزہ پنچایت انتخابات میں مقابلہ کرے گی۔

مذکورہ ایس بی ایس پی کی سربراہ اور یوپی کے سابق وزیر اوم پرکاش راج بہار نے چھوٹی علاقائی پارٹیوں کا ایک پلیٹ فارم بھاگیدار سنکلپ مورچہ کے نام سے تشکیل دیاہے۔

مغربی بنگال
مغربی بنگال میں اویسی نے حال ہی میں مسلم لیڈر عباس صدیقی سے ریاست کے مجوزہ اسمبلی انتخابات کے پس منظر میں بات کی ہے۔

بعدازاں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے حیدرآباد ایم پی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اے ائی ایم ائی ایم 2021کے اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کرے گی اور مستقبل قریب میں اپنے امیدواروں کے نام کااعلان کیاجائے گا۔

ممتا بنرجی کی جانب سے اے ائی ایم ائی ایم کو بی جے پی کی بی ٹیم بلائے جانے پر انہو ں نے کہاکہ ”وہ ان کا غرور ہے۔

ممتا بنرجی بے تکی باتیں کررہی ہیں“۔انہوں نے مزیدکہاکہ”کیا صرف بنگال میں مسلمان ہی ہیں اور کوئی اونچی ذات والا ہندو اور پسماندہ طبقات نہیں ہیں؟ہم ریاست کے تمام ووٹرس تک رسائی کریں گے اور ان کے متعلق بات کریں گے“

BiP Urdu News Groups

اپنی رائے یہاں لکھیں