ویلنٹائن ڈے کے تاریخی پس منظر کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں رومی بادشاہ کلاڈیس ثانی نے فوجی جوانوں کی شادی پر پابندی لگا دی تھی وجہ یہ تھی کہ لوگ اپنے بیوی بچوں کی محبت کی بناء پر جنگ پر جانا پسند نہیں کرتے تھے پس ویلنٹائن نامی پادری نے شادی کی خواہش رکھنے والے فوجی جوانوں کا خفیہ طور پر نکاح کرانا شروع کر دیا اس جرم کی پاداش میں بادشاہ نے اس پادری کو جیل میں ڈال دیا ،جیل میں وہ پادری جیلر کی لڑکی کے عشق میں مبتلا ہوگیا حتّٰی کہ وہ لڑکی بھی اس کے عشق میں مبتلا ہوگئی جب بادشاہ کو اس کا علم ہوا تو اس نے پادری کو حکم دیا کہ اگر تم رومی مذہب اختیار لو ! عیسائیت کو ترک کردو ، تو میں تمہاری نہ صرف اس لڑکی سے شادی کرا دوں گا بلکہ تمہیں اپنے خاص ساتھیوں میں داخل کر لوں گا ، اس پادری نے عیسائیت کو ترک کرنا گوارہ نہیں کیا پس14فروری کو اس پادری کو پھانسی دیدی گئی۔

بعض حضرات نے اس قصہ کو یوں بیان کیا ہے کہ جیل میں وہ پادری اور جیلر کی لڑکی ایک دوسرے کے عشق میں مبتلا ہوگئے حتّٰی کہ لڑکی نے اپنا مذہب چھوڑ کر عیسائیت کو قبول کرلیا ، جب بادشاہ کو اس کا علم ہوا تو اس نے پادری کو پھانسی دینے حکم دے دیا،جب پادری کو اس بات کا علم ہوا کہ بادشاہ نے اس کی پھانسی کا حکم دیدیا ہے تو اس نے اپنی موت سے قبل ایک محبت نامہ کارڈ کی صورت میں اپنی معشوقہ کے نام بھیجا جس کے آخرمیںتحریر تھا :ویلنٹائن کی طرف سے ۔ اس پادری کو14 فروری کوپھانسی دی گئی ا س کے بعد سے14فروری کو محبت کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے، اور اسی پادری کے نام کی مناسبت سے اس دن کا ویلنٹائن ڈے رکھا گیا ہے ۔

ویلنٹائن ڈے اور مسلمانوں کا طرزِ عمل :

اس تہوار کو منانے کا جتنا اہتمام مسلمان ممالک میںکیا جاتا ہے اتنا ان ممالک میں نہیں کیا جاتا جن کا یہ تہوار ہے ، یہ 14فروری کا دن گویا کہ نفسانی اور سفلی جذبات کی تسکین کے لیے آتا ہے اس دن میں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں آپس میں ایک دوسرے کے سامنے اظہارِ محبت کرتے ہیں ، شرم و حیاء کی تمام ہی حدود کو عبور کرتے ہوئے آپس میں ساتھ وقت گزارتے ہیں، باہمی طور پر تحائف کا لین دین ہوتا ہے ،اس دن میں فحاشی و عریانی کا سیلاب گویا اپنے پورے زور پر ہوتا ہے ہر قسم کی بے حیائی ،اور عیاشی کے کام کئے جاتے ہیں ، اس دن میں اچھے ،معزز خاندان سے تعلق رکھنے لڑکے ،لڑکیاں ایسے ایسے گھناونے کام کر بیٹھتے ہیں جنہیں لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا ، cofee shopes

, ice cream parlour وغیرہ کے نام پر کھلے قبحہ خانوں میں ، ہوٹلوں کے بند کمروں میں پیار محبت ، عشق کے نام پر ایسے ایسے کام کئے جاتے ہیں کہ جس کے تصور سے ایک حسّاس مسلمان کی روح تک کانپ جاتی ہے ، گفٹ شاپس اور پھولوں کی دکان پر ایسا رش ہوتا ہے گویا کہ اشیاء مفت تقسیم کی جا رہی ہیں عشق و محبت کے خبط میں مبتلا نوجوان لڑکے لڑکیاں اس دن کی تیاری کے لیے بازاروں میں یوں جمع ہوتے ہیں جیساکہ گندگی کے ڈھیر پر مکھیاں جمع ہوتی ہیں ۔

مغربی ممالک جہاں فحاشی اور بے حیائی کونیز جنسی بے راہ روی کو مکمل قانونی حمایت حاصل ہے وہاں بھی اس دن میں ہونے والے جنسی تخریب کاری کو بہت زیادہ محسوس کیا جا رہا ہے ، اس دن میں سفلی جذبات کا جو طوفان اٹھتا ہے اس کے نتیجے میں کئی کمسن لڑکیاں بغیر شادی کے حاملہ ہوجاتی ہیں ، اس دن کو منانے کے سبب معاذ اللہ عزوجل بد نگاہی، بے پردگی، فحاشی عریانی، اجنبی لڑکے لڑکیوں کی دوستیاں ، اس ناجائز و حرام دوستی اور محبت کو پختہ کرنے کے لئے تحائف کا لین دین بلکہ شادی کے بعد جائز ہونے والے تمام ہی امور کوبغیر نکاح کر لیا جاتا ہے ۔

محبت کا اعلان یا بے شرمی و بے حیائی کا اظہار ؟

ہمارے نوجوان لڑکے ، لڑکیاں عشق و محبت کے خبط میں مبتلا ہو کر ایسی باتیں کر جاتے ہیں جنہیں سن کر باحیاء لوگ شرم سے پانی پانی ہو جائیں اس کی چند امثال ملاحظہ کیجیے اور دیکھیں کہ حیاء ہمارے معاشرے سے کس طرح ناپید ہو گئی ہے

(۱)میں نے فلاں سے محبت کی ہے کوئی گناہ تو نہیں کیا۔(۲) فُلاں لڑکی/لڑکے سے مجھے والہانہ عشق ہو گیا ہے، وہ نہ ملی /ملا تو میں خود کشی کر لوں گا۔(۳)فلاں لڑکی کو میں بچپن سے چاہتا ہوں مگر دو مہینے ہوئے ہیں والدین نے اُس کی دوسری جگہ شادی کر دی ہے میں اس لڑکے کو جان سے مار دوں گا جس نے میرا پیار مجھ سے چھین لیا۔(۴)اُس لڑکی کی یاد مجھے تڑپاتی ہے شراب حرام ہے لیکن اس کے غم کو بھلانے کیلئے تھوڑی پی لیتا ہوں۔(۵) اگر مجھے میری محبت نہ مل سکی تووہ دن میری زندگی کا آخِری دن ہو گا۔(۶)میں ہروقت اُس کی یادوں میں گم رہتا /رہتی ہوں کھانا پینا کچھ بھی کرنا اچّھا نہیں لگتا ۔

(۷) اس کی یا د میری زندگی ہے وہ اگر مجھے نہیں ملے گی تو میں خودکُشی کر لوں گا /گی ۔(۸)اگرکالج فرینڈسے میری شادی نہیں ہوئی تو میں اسے بھگا کر لے جاؤں گا کورٹ میرج کر لوں گا.(۹) میں فُلاں سے سچی محبت کرتا ہوں /کرتی ہوں اُس سے جدائی کا دن میری زندگی کا آخری دن ہوگا ۔(۱۰) اگر دنیا والے ہماری محبت کے دشمن ہوئے اور ہمیں ایک نہیں ہونے دیا تو ہم دنیا والوں سے ٹکرا جائیں گے ۔ (۱۱)میں اس سے اتنی محبت کرتا ہوں / کرتی ہوں کہ اگر میں ایک دن اسے نہ دیکھ سکوںتو میرا دل بے چین ہو جاتا ہے ۔(۱۲))وہ میرے دل و دِماغ میں بس چکی /بس چکا ہے اب کسی اور کا تصوُّر بھی نہیں کرسکتا /کر سکتی ۔

نیک آدمی کے نام عشق بھرا خط اور اس کا جواب :

کہتے ہیں : کسی راستے میں ایک نیک شخص کے سامنے ایک عورت ظاہر ہوئی اس نیک آدمی نے اس عورت کی طرف بالکل بھی توجہ نہیں کی پس جب رات ہوئی تواسی عورت نے اس نیک آدمی کے نام خط لکھا : جس میں تحریر تھا : میرے جسم کا ہر ہر عضو تمہاری محبت میں مشغول ہو گیا ہے ۔ پس جب اس نیک آدمی نے اس خط کو دیکھا تو خوفِ خدا کے سبب اس کا دل دہل گیا اس نے ایک جوابی خط لکھا : اس میں یہ تحریر تھی : جب بندہ پہلی بار اللہ تعالی کی نافرمانی کرتا ہے تو اللہ تعالی صفتِ حلم کی تجلی فرماتا ہے پھر جب بندہ دوسری مرتبہ اس کی نافرمانی کرتا ہے تو اللہ ا س کی پردہ پوشی فرماتا ہے ، پس جب بندہ تیسری بار اس کی نافرمانی کرتا ہے تو اللہ تعالی اس پر ایسا غضب فرماتا ہے جسے برداشت کرنے کی طاقت آسمان اور زمین بھی نہیں رکھتے ہیں ،پس اللہ تعالی کے غضب کو برداشت کرنے کی طاقت کون رکھتا ہے ؟ پس جب اس عورت تک خط پہنچا ہے اور اس نے وہ خط پڑھا تو اُس نے توبہ کر لی ہے اور خود کو اپنے گھرتک محدود کر لیا ۔(الزہر الفائح : ص ۔۳۱)

عشق و محبت کے نام پر دیئے گئے تحائف کا حکم :

عشق مجازی میں مبتلا لڑکے لڑکیاں آپس میں ایک دوسرے کو جو تحائف دیتے ہیں یہ رشوت ہے، علماء کرام فرماتے ہیں : یعنی : عاشق ومعشوق آپس میں ایک دوسرے کوجو تحائف دیتے ہیں وہ رشوت ہے،اس میں ملکیت ثابت نہیں ہوتی ، تحفہ دینے والے پر لازم ہے کہ وہ اس تحفہ کو واپس لے لے کیونکہ رشوت میں دیئے گئے مال میں ملکیت ثابت نہیں ہوتی ۔(مجمع الضمانات ، باب فی المتفرقات ، ص :۴۵۸)

اپنی ملّت پر قیاس اقوامِ مغرب کو نہ کر :

مغربی ممالک کی بلند و بالا چمکتی عمارتوں اور ان کی مادی ترقی سے جن لوگوں کی آنکھیں چکا چوند ہیں وہ ان کافروں ، فاسقوں کے پست اور گھناونے کردار کو بھی دیکھیں ! اُن کی سفید چمڑی سے مرعوب ہونے والے ان کے سیاہ قلوب کو بھی دیکھیں ! مؤرخین لکھتے ہیں : دوسری جنگِ عظیم میں امریکہ کی فوج جب اپنے دوست ملک برطانیہ کی مدد کے لئے برطانیہ گئی اوروہاں چند سال قیام کے بعد جب وہ فوج واپس گئی تو سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ان کی حرام کاریوں کے نتیجے میں ستّر ہزار بچّے پیدا ہوئے ، آج بھی مغربی ممالک میں بغیرشادی کے پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد میں بدستور اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ، بے حیائی کے نتیجے میں ستّر ہزار بچّے پیدا ہوئے ، آج بھی مغربی ممالک میں بغیرشادی کے پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد میں بدستور اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ، بے حیائی کے طوفان کے سامنے شرم و حیاء کا بند نہ باندھنے کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں بھی اب ایسے واقعات رونما ہونے کی خبریں سنائی دیتی ہیں ، کبھی کچرا کونڈی سے نومولود بچہ کی لاش ملتی ہے ، تو کہیں کچرے ہی کے ڈھیر سے نومولود زندہ تو ملتا ہے مگر کتّوں اور دیگر موذی جانوروں کے پنچوں اور دانتوں سے خون خون ہوتا ہے ، کبھی کسی نوزائیدہ بچے کی لاش کسی گندے نالے سے ملتی ہے ، ایک خبر کے مطابق پنجاب کے ایک دور افتادہ گاؤں کی ایک خاتون ڈاکٹر گائنا کالوجسٹ نے مشہورصحافی انصار عباسی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ ہمارے پاس چھوٹی کنواری بچیوں کو ان کی مائیں اسقاطِ حمل کرانے کے لیے آتی ہیں اور ایک ماں نے تو ڈاکٹر صاحبہ کو یہ تک کہہ دیا کہ اگر آپ نے ہماری بات مانتے ہوئے ہماری بیٹی کا اسقاط ِ حمل نہیں کیا تو ہم اسے زہر پلا دیں گے ۔

اللہ پاک ہم سب کو عقل سلیم ، ایمان کامل اور عمل صالح اور بالخصوص شرم وحیا کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین