Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

ویلنٹائن ڈے کا فتنہ عروج پر معاشرے کی اصلاح وقت کی اہم ترین ضرورت

انسان چونکہ فطرتاً جلد باز اور جدت پسند ہوتا ہے اگر اپنی عقل سے احکام شریعت کو سمجھ کر اس کے دائرے میں زندگی بسر نہ کرے تو یہ عادت اسے قدم قدم پر برائی میں مبتلا کرتی رہتی ہے اور اسے اپنے گناہ کا احساس بھی نہیں ہوتا برائی کے بھنور میں ایسا پھنسا رہ جاتا ہے کہ اس سے نکلنا اس کے لیے بے حد دشوار ہو جاتا ہے اور موجودہ زمانے میں امت مسلمہ کے اندر برائیاں بدکاریاں بداخلاقی عام ہوتی جارہی ہیں، اور نفسانی لذات و شہوات کے چکر میں اپنا سکون برباد ہو رہا ہے، جس کی بنا پر ہر کوئی اپنے مقصد سے ہٹا ہوا نظر آ رہا ہے، اور اس پر بھرپور منظم طریقے سے برائی کی نشرواشاعت کا کام بہت تیزی کے ساتھ ہو رہا ہے، جس سے کافروں کے طور و طریقے اور نافرمانوں کی نت نئی نافرمانیاں منٹوں سکینڈوں میں ساری دنیا میں پھیل رہی ہیں اس لیے مسلم معاشرے میں تباہ کن اثرات زیادہ ظاہر ہورہے ہیں اور یہ باتیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں، اور انکے خرابیوں اور بداخلاقیوں میں مبتلا ہونے کی بڑی وجہ دنیا طلبی اور نفسانی لذات و شہوات کی اسیری ہے، جو انہیں راہ حق سے دور کرتے کرتے بہت دور لے جاتی ہے، اور ویلنٹائن ڈے انہیں خرافات کا نام ہے، جو دائرہ اسلام سے خارج ہے،

*ویلنٹائن ڈے کا پس منظر*
اب ویلنٹائن ڈے کا تاریخی پس منظر اور اس دن ہونے والی خرافات کو بیان کرنا ضروری معلوم ہو رہا ہے، تاکہ مسلمانوں پر واضح ہو کہ ان گناہوں سے بھرے ہوئے دن کی حقیقت کیا ہے؟ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ایک پادری جس کا نام ویلنٹائن تھا، تیسری صدی عیسوی میں رومی بادشاہ کلاڈ لیس ثانی کے زیر حکومت رہتا تھا، کسی نافرمانی کی بنا پر بادشاہ نے پادری کو جیل میں ڈال دیا پادری اور جیلر کی لڑکی کے مابین عشق ہوگیا، حتیٰ کہ لڑکی نے اس عشق میں اپنا مذہب چھوڑ کر پادری کا مذہب یعنی نصرانیت قبول کرلیا اب لڑکی روزانہ ایک سرخ گلاب لے کر پادری سے ملنے آتی تھی، بادشاہ کو جب ان باتوں کا علم ہوا تو اس نے پادری کو پھانسی دینے کا حکم دیا، جب پادری کو اس بات کا اندازہ ہو گیا کہ بادشاہ نے اس کی پھانسی کا حکم دے دیا ہے تو اس نے اپنے آخری لمحات اپنی معشوقہ کے ساتھ گزارنے کا ارادہ کیا، اور اس کے لئے ایک کارڈ اس نے اپنی معشوقہ کے نام بھیجا، اور تحفے تحائف پیش کیے، بلآخر 14فروری میں اس پادری کو پھانسی دے دی گئی اس کے بعد سے ہر 14فروری کو یہ محبت کا دن اس پادری کے نام ویلنٹائن ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے،

*ویلنٹائن ڈے منانے کا انداز*
اس تہوار کو منانے کا انداز یہ ہوتا ہے کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی بے پردگی و بے حیائی کے ساتھ میل ملاپ تحفے تحائف کے لین دین سے لے کر فحاشی وعریانی کی ہر قسم کا مظاہرہ کھلے عام یا چوری چھپے جس کا جتنا بس چل سکتا ہے عام دیکھا سنا جاتا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق فیملی پلاننگ کی ادویات عام دنوں کے مقابلے میں ویلنٹائن ڈے میں کئی گنا زیادہ بکتی ہیں، اور خریدنے والوں میں اکثریت نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی ہوتی ہے گفٹ شاپس پھولوں کی دکان پر ازدحام کا اضافہ ہوجاتا ہے، اور ان اشیاء کو خریدنے والے بھی نوجوان لڑکے لڑکیاں ہوتی ہیں،
بعض ممالک میں کھلی چھوٹ نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان جوڑوں کو محفوظ مقام کی تلاش ہوتی ہے، اسی مقصد کے لئے اس دن شراب کا بے تحاشہ کاروبار ہوتا ہے، ساحل سمندر پر بے پردگی اور بے حیائی کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دکھائی دیتا ہے، انتہائی دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس دن کافروں کی طرح بے حیائی کے ساتھ منانے والے بہت سے مسلمان بھی اللہ رب العزت اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عطا کئے ہوئے پاکیزہ احکامات کو پس پشت ڈالتے ہوئے کھلم کھلا گناہوں کا ارتکاب کرکے نہ صرف یہ کہ اپنے نامہ اعمال کی سیاہی میں اضافہ کرتے ہیں، بلکہ مسلم معاشرے کی پاکیزگی کو بھی ان بے ہودگیوں سے ناپاک کرتے ہیں اور بد نگاہی بے حیائی فحا شی عریانی اجنبی لڑکے لڑکیوں کا میل ملاپ ہنسی مذاق اور اس ناجائز تعلق کو مضبوط کرنے کے لئے تحفے تحائف کا تبادلہ اور آگے زنا اور دواعئ زنا تک کی نوبت آتی ہے، یہ سب وہ باتیں ہیں جو اس روز عصیاں میں زوروشور سے جاری رہتی ہیں، یہ وہ باتیں ہیں جن کے ناجائز اور حرام ہونے میں کسی مسلمان کا ذرہ برابر بھی شبہ نہیں ہو سکتا ہے،

*ویلنٹائن ڈے میں دئے گئے تحائف کا حکم*
ویلنٹائن ڈے والے دن اجنبی مرد و عورت کے مابین جو ناجائز محبت کا تعلق قائم ہوتا ہے آپس میں جو تحائف کا تبادلہ ہوتا ہے اس کے بارے میں حضرات فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ یہ رشوت کے حکم میں داخل ہے، اس لئےاس کا لین دین ناجائز اور حرام ہے، ایسے گفٹ لینا اور دینا دونوں ہی ناجائز اور حرام ہیں اگر کسی نے یہ تحفے تحائف لیے ہیں تو اس کا لوٹانا اس پر لازم اور ضروری ہے چنانچہ البحر الرائق میں ہے (ما يدفعه المتعاشقان رشوة يجب ردها ولا تملك :البحرالرائق، کتاب القضاء، ٤٤١/٦) عاشق و معشوق ناجائز محبت میں گرفتار آپس میں ایک دوسرے کو جو تحائف دیتے ہیں وہ رشوت ہے ان کا واپس کرنا واجب ہے اور وہ تحفہ تحائف لینے والے کی ملکیت میں داخل بھی نہیں ہوتے، اور جو لوگ اس ناجائز محبت میں شادی بیاہ کرتے ہیں ان کی زندگی میں سرخروئی اور آپس کی محبت ختم ہو جاتی ہے، ایسے لوگ اپنے ماں باپ کی نافرمانی میں وافر حصہ لیتے ہیں اور عموما ان سے اولاد بھی نافرمان ہی پیدا ہوتی ہیں، اور جو لوگ سنت طریقے کے مطابق نکاح کرتے ہیں ان کا رشتہ دیرپا اور آپس میں محبت و سرخروئی کا سرچشمہ ہوتی ہیں، چنانچہ مشاہدہ بھی یہی ہے کہ محبت میں گرفتار لڑکے اور لڑکیوں کی شادی کے بعد حالات بھی ایسے آتے ہیں جو قابل ذکر نہیں ہیں،

*حرف آخر*
میں ان محبت میں مستغرق لڑکے لڑکیوں سے دست بستہ گزارش کرتا ہوں کہ ویلنٹائن ایک غیر مسلم تھا اور ہم مسلمان ہوتے ہوئے اس کے نقش قدم پر چل رہے ہیں، مگر ہم نے کبھی اللہ کے احکامات اور نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے طریقوں پر اتنی شدت کے ساتھ چلنے کے لئے سوچا ہے؟ افسوس کہ آج مسلمان مغربی تہذیب و کلچر سے متاثر ہوکر ارتداد کے گڈھے میں کود رہا ہے، اور بداخلاقی کے سمندر میں غوطہ زن ہے، بس اب اللہ رب العزت سےہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ نصیب فرمائے (آمین)

از :مفتی عبدالرزاق بنگلوری

Abdurrazzaq825@gmail.com