حالیہ برسوں میں انڈیا اور پاکستان کے تلخ تعلقات کی جھلک سوشل میڈیا پر دکھائی دینا بہت عام سی بات ہے۔ لیکن رواں برس اپریل کے اواخر میں جب انڈیا کورونا کی حوفناک دوسری لہر عروج پر تھی تو پاکستان کے شہریوں نے اپنے تمام تر اختلافات بھلا کر سوشل میڈیا پر انڈیا کی حمایت میں ’انڈیا نیڈز آکسیجن‘ اور ’پاکستان سٹینڈ ود انڈیا‘ جیسے ہیش ٹیگز کا آغاز کیا تھا۔

ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ حمایتی پیش ٹیگز کا ہمیشہ مطلب یہ نہیں ہوتا کے اس ٹرینڈ کے تحت کی جانے والی تمام ٹوئٹس مثبت ہی ہوئی ہوں گی۔ اکثر صارفین ٹاپ ٹرینڈز کو استعمال کرتے ہوئے بالی وڈ فلمسٹارز یا کرکٹرز کو جنم دن کی مبارکباد دینے سے لے کر ٹرول کرنے کے لیے ’ہائی جیک‘ کر لیتے ہیں۔

لیکن مصنوعی ذہانت ’آرٹیفیشل انٹیلیجنس‘ کے تحت کی جانے والی ایک تحقیق میں ایسی ہزاروں ٹویٹس کا مشاہدہ کیا گیا ہے جو 21 اپریل سے چار مئی کے درمیان پاکستانی صارفین کی جانب سے ان ہیش ٹیگز کو استعمال کرتے ہوئے کی گئیں۔ اور اس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان حمایتی پیش ٹیگز میں بہت بڑی تعداد مثبت ٹویٹس ہی کی تھی۔

امریکہ کی کارنیج میلن یونیورسٹی کے محققین نے عاشقر خدابخش کی سربراہی میں ہونے والی تحقیق میں مصنوعی ذہانت کے طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے ایسی ٹویٹس کی نشاندہی کی ہے جن میں پاکستانی صارفین کی جانب سے ہمدردی، یکجہتی اور شفقت کا اظہار کیا گیا تھا۔

محققین نے تین بڑے ہیش ٹیگز ’انڈیا نیڈز آکسیجن‘، ’پاکستان سٹینڈز ود انڈیا‘، اور انڈیا سے چلنے والے ٹرینڈ ’سوری ٹو کشمیر‘ کے تحت ہونے والی تین لاکھ ٹویٹس کا جائزہ لیا۔

ان تین لاکھ ٹویٹس میں سے 55712 ٹویٹس پاکستان سے، 46651 انڈیا سے اور باقی دنیا بھر کے مختلف ممالک سے کی گئیں تھیں۔
محققین نے ان ٹویٹس کو جانچنے کے لیے ’ہوپ سپیچ کلاسیفائر‘ ٹول کا استعمال کیا، یہ مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا طریقہ ہے جس میں آپ کسی بھی زبان میں کیے جانے والے مثبت تبصروں کو جانچ سکتے ہیں۔

انھوں نے ان ٹویٹس کے جائزہ میں یہ جاننے کی کوشش کی کہ ان ٹویٹس میں جارحیت پسندی کے رحجان کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے یا ان میں دعا، ہمدردی، یکجہتی اور دکھ جیسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔

انھوں نے اپنے تجزیے سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ان حمایتی ہیش ٹیگز میں پاکستان سے کی جانے والی ٹویٹس کی تعداد، غیر حمایتی ہیش ٹیگز میں کی جانے والی ٹویٹس کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی اور اس کو زیادہ لوگوں نے لائک اور ری ٹویٹ بھی کیا تھا۔

اس تحقیقی ٹیم کے سربراہ خدا بخش کا کہنا تھا کہ ’ہماری تحقیق سے یہ پتہ چلتا ہے کہ دنیا بھر میں لوگوں کے جذبات کا اظہار تقریباً ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ اگر آپ تلاش کریں تو آپ کو اس عرصے کے دوران 44 فیصد سے کچھ زیادہ مثبت یا حمایت میں کی جانے والی ٹویٹس ملیں گی، ہماری تحقیق نے اس عرصے کے دوران کی جانے والی ٹویٹس میں 83 فیصد مثبت ٹویٹس کی نشاندہی کی ہے۔‘

اپریل کے اواخر اور مئی کے آغاز میں انڈیا میں ہسپتالوں میں بستر کم پڑ گئے تھے، لوگ آکسیجن کی کمی کے باعث ہلاک ہو رہے تھے اور 24 گھنٹے مرنے والوں کی آخری رسومات ادا کی جا رہی تھیں۔ ایسے میں سرحد پار سے لوگوں نے بہت سے یکجہتی اور ہمدردی کے پیغامات بھیجے تھے۔لاہور میں تاریخ کی استاد پروفیسر عارفہ زہرا کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس وقت پاکستان میں بھی کورونا کی صورتحال سنگین ہو رہی تھی۔

’یہاں بھی حالات کافی بدتر تھے، ہماری امیدیں دم توڑتی جا رہی تھی، ہمارا ’دشمن‘ بھی ایسے ہی حالات میں تھا، ہماری سرحدیں اتنی قریب ہیں کہ ہمیں ایک دوسرے کے ہاں کچھ بھی ہو اس کا اثر پڑتا ہے۔‘

لیکن پروفیسر عارفہ زہرا کا کہنا ہے کہ یہ تمام مثبت پیغامات دیکھ کر ’مجھے خوشی ہوئی تھی اور یہ اس بات کی یقین دہانی ہے کہ ہم میں اب بھی انسانیت باقی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ایک وبا کسی سرحد کی تفریق نہیں کرتی، چاہے یہ جغرافیائی ہو یا نظریاتی۔ اور جب آپ مشترکہ مشکل میں ہوں تو دعا دینے میں کوئی حرج نہیں۔ اور یہ ہی پاکستانی ٹوئٹر صارفین نے کیا۔‘ایک پاکستانی ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ’ہماری دعائیں اور ہمدردیاں آپ کے ساتھ ہیں، ہم ہمسائے ہیں دشمن نہیں۔‘

ایک اور صارف نے لکھا تھا کہ ’ہم ہمسائے ہیں، دشمن نہیں، ہم حریف ہیں لیکن مخالف نہیں، ہماری سرحدیں ہیں لیکن دلوں میں کوئی سرحد نہیں۔‘ایک اور پاکستانی صارف نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’ہمارے ہمسائے میں صورتحال دیکھ کر دکھ پہنچا ہے، پاکستان کی جانب سے محبت اور دعائیں۔ اللہ اس وبا کے دوران انسانیت کی مدد فرمائے۔‘

محقق خدا بخش کا کہنا ہے کہ مثبت پیغامات کی نشاندہی کرنے اور اس کو بڑھاوا دینے کے طریقے سے لوگوں کے حوصلوں کو بڑھایا جا سکتا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد دی جا سکتی ہے.
وہ کہتے ہیں کہ ’جب کوئی ملک قومی سطح پر کورونا وبا جیسے کسی صحت کے بحران سے گزر رہا ہوں ایسے میں امید جیسے الفاظ بہت اہم ہوتے ہیں اور منفی باتیں کوئی نہیں سننا پسند کرتا۔‘

ایسی بہت سی تحقیق اور مطالعے موجود ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ اگر آپ بہت زیادہ نفرت انگیز مواد پڑھتے ہیں تو یہ آپ پر اثر کرتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کے طریقہ تحقیق سے نفرت آمیز مواد کے خلاف لڑائی لڑی جا سکتی ہے۔

’جب جنگ یا صحت کے بحران میں خراب صورتحال ہو تو ایسے میں منفی مواد کو روکنے کی بجائے مثبت مواد کو اجاگر کرنا چاہیے کیونکہ یہ اس احساس کو جنم دیتا ہے کہ دوسری جانب سے لوگ بھی رحمدل اور ہمدرد ہیں۔‘

لیکن اگر ٹیکنالوجی کو استعمال مثبت یا ہمدردانہ مواد کو سینسر کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو کیا ہو گا؟

خدا بخش کہتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر کسی بھی طرح کے بیانیے کے لیے سپیچ فلٹرنگ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ’اس کو ہمدردانہ مواد کو سینسر کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور اسی وجہ سے ان نظاموں کو متعین کرنے سے پہلے دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ ہمارا کام مضبوط نظام کی تعمیر ہے۔‘