• 425
    Shares
از: محمدتقی (ناندیڑ)‘9325610858

لکھیم پور کھیری کے دل دہلا دینے والے دلخراش سانحے سے منگولیہ کی مٹی من دفن چنگیز خان کی روح ‘ ایران میں ہلاکوخاں کی روح ‘ جرمنی میں ہٹلر کی روح ‘ اٹلی میں مسولینی کی روح اور ماسکو میں اسٹالین کی روح یقینا شرمسار ہوگئی ہوگی۔جلیان والا باغ کی یاد تازہ ہوگئی ۔جب انگریز افسر جنرل ڈائر نے آزادیءہند کامطالبہ کرنے والے مجاہدین آزادی پربندوقوں سے گولیوں کی بوچھار کاحکم دیاتھا ۔ پھردیکھتے ہی دیکھتے مظلوموں کی آہ وبکا ‘چیخ وپکار سے علاقہ گونج اٹھاتھا ۔ سینکڑوں آزادی کے متوالوں کے خون سے جلیان والا باغ کاچپہ چپہ سرخ ہوگیاتھا ۔ آج بھی شام کے وقت جب جلیان والا باغ میں سورج رخصت ہونے لگتا ہے تو وہ اپنے پیچھے سرخ شفق چھوڑ جاتا ہے جس میں شہیدوں کے خون کی لالی بھی شامل ہوتی ہے۔اوریہ دل سوز منظر دیکھنے والوں کے دلوں میںوطن سے محبت کا جذبہ ایک انوکھی انگڑائی لے کرابھرنے لگتا ہے۔

بی جے پی دور حکومت میں ایسا سانحہ ہوا کہ ملک کے رکھوالے کے بیٹے نے ہی بے قصور ‘بے گناہ ‘بے بس اورمعصوم احتجاجی کسانوں پردن دھاڑے اپنی کارچلاکر چار کسانوں سمیت 8 لوگوں کو موت کی ابدی نیندسُلادیا ۔مرنے والے سبھی لوگ ہندو دھرم کے ماننے والے تھے ۔ورنہ اکثر ایسا ہوتا رہا ہے کہ آرایس ایس کی ریموٹ کنٹرول بی جے پی حکومتوں میں بے چار ے غریب مسلمانوں پر کبھی گائے فروخت کرنے تو کبھی گائے کاگوشت کھانے کے نام پر ظلم وتشدد کے پہاڑ توڑگئے ۔ کئی مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتاردیاگیا ۔ اس طرح زبردستی مذہب تبدیلی کے الزام کی آڑ میں عیسائیوں کوزندہ نذر آتش کرنے کے دلسوز واقعات سے ملک کی مذہبی اقلیتوں میںخوف ‘ہراس اور دہشت کاماحول پیدا کیاگیا ۔ افسوس کہ یہ بدبختانہ ماحول آج بھی شمالی ہند اور وسطی ہند کی ریاستوںمیں دیکھنے ملتا ہے ۔
3اکتوبر 2021 ہندوستان کی تاریخ میں یوم سیاہ کے طور پر درج ہوچکا ہے ۔ اس دن مرکزی مملکتی وزیر اجئے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا نے اقتدار کی ترنگ اور جوانی کے نشے میں اترپردیش کے لکھیم پور کھیری میںزرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں کے جھُنڈ پراپنی کارچڑھادی تھی ۔ اس منحوس واقع نے ملک کے انسان دوستوں اورامن وانصاف پسند انسانوں کوجھنجوڑ کررکھ دیا ۔ اور ہر سمت سے ملزمین کی بہ عجلت گرفتاری کی آوازیں اٹھنے لگی ۔قاتل کار کاوہ ویڈیو بھی وائرل ہواتھا اور آج بھی ہورہا ہے ۔ جس میںواضح طور پر دیکھائی دے رہاتھا کہ آشیش مشرا اپنے دوستوں کے ساتھ کار میںبیٹھاہوا ہے اور کار بدمست ہاتھی کی طرح معصوم کسانوں کوروندتی چلی جارہی ہے ۔ اس کے باوجود قاتل بیٹے کے باپ اجئے مشرا جو مودی کی مرکزی کابینہ میں مملکتی وزیرداخلہ ہیں بے بانگ دہل جھوٹ بول رہے ہیں کہ ان کاپیارا ‘لاڈلابیٹا بے قصور ہے۔لکھیم پور قتل عام سے اس کاکوئی تعلق نہیں ہے ۔جب اپوزشن اورسماجی رضا کارتنظیموں کے خیموں سے ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ شروع ہوئی تو پولس گہری نیند سے جاگی اور جو ایف آئی آر درج کی گئی اس میں منسٹرصاحب کے بیٹے کو پوری طرح معصوم بتانے کی کوشش کی گئی ۔

حکومت کی جانب سے کوئی قانونی کاروائی نہ ہونے پر خود سپریم کورٹ کوواقعہ کی سماعت کی کاروائی شروع کرنے پر مجبور ہونا پڑا اسی دوران دو و کلاءمفاد عامہ کی دو درخواستیں لے کر سپریم کورٹ پہونچے ۔ جمعہ 8 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران لکھیم پورکھیری تشدد معاملے میںا ترپردیش حکومت اوروہاں کی پولس کے معاندانہ رویہ پرناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ صرف زبانی جمع خرچ سے کام نہیں چلے گا ‘ملزمین کے خلاف فی الفور کاروائی کی جائے۔

ملک کی عدالت عالیہ کایہ ریمارک کیا اس بات کی طرف اشارہ نہیں کہ اترپردیش کی بی جے پی حکومت اپنی پولس اورحکومت کے کارندوں پردباو ڈال کراپنے کسی وزیر یاپارٹی کے کوئی فرد کے خلاف قانونی کاروائی کرنے سے بازرکھنے زبانی احکامات جاری کررہی ہے۔ ریاست کے وزیراعلیٰ بھلے سے ایک سادھو ہیں۔ہمیشہ گیروارنگ کے لباس میں رہتے ہیں ۔انھوں نے ابھی تک کوئی شادی بھی نہیں کی ہے کنوارے ہیں۔ بھگوان رام کے ایک سچے بھکت ہیں۔اگر سچ مُچ ایسا ہے تو پھر انھیںظلم اوردہشت گردی کے خلاف فوری کاروائی کاحکم دیناچاہئے ۔ کیونکہ لکھیم پور کاواقعہ بھی دہشت گردی کی تعریف میں آتا ہے ۔ افسوس کہ ایسا کچھ نہیںہوا ۔ حالات ‘واقعات وسانحات جو منظرنامہ پیش کررہے ہیںان سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ اترپردیش جنگل راج کی سمت اوریہاں کی بھگواحکومت آمریت کی طرف گامزن ہے ۔ وہ دن دور نہیں جب یوپی کے کسان ‘کھیت مزدور‘کچلے ہوئے عوام یوگی اور بی جے پی کواُن کی جگہ دیکھا دیںگے ۔یوگی ‘جوگی ‘مودی کس کھیت کی مولی ۔کسان مولی اگانا جانتے ہیں تومولی اکھاڑپھینکنا بھی جانتے ہیں۔چندماہ بعد مارچ اپریل 2022ءمیں اترپردیش کے عام چناو ہیں ۔ اور کسانوں نے عہد کرلیا ہے کہ اس الیکشن میں وہ یوگی سے شہید ہونے والے اپنے کسان بھائیوں کے خون کے ایک ایک قطرے کاحساب مانگیں گے ۔ بی جے پی اور یوگی کواب نوشتئہ دیوار پڑھ لیناچاہئے ۔ لکھنو کاتخت وتاج ان کے ہاتھ سے نکلنے والا ہے ۔ لکھیم پور سے بی جے پی حکومت کے زوال کاآغاز ہوچکا ہے۔
کیوں غرور کرتے ہو جاکے تم بُلندی پر
شہرتوں کا یہ پرچم دیر تک نہیں رہتا
کون جانے کب کس پر زندگی ٹھہر جاے
کوئی رُستمِ اعظم دیر تک نہیں رہتا
پورا ہندوستان جانتا ہے کہ 2014ءاور2019 کے لوک سبھاالیکشن میں اور 2017 یوپی ۔الیکشن میں ملک کے کسانوں نے بی جے پی کواپنا انمول ووٹ دے کرمثالی کامیابی دلوائی تھی ۔ مودی کے سرپردہلی کاتاج اور یوگی کو لکھنو میں تاج پہنایاگیاتھا ۔لیکن بڑے دُکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دونوں قائدین نے اپنے ہی محسنوں کی جڑیں کاٹنے کاناقابل پسند عمل کیا ۔ یہ کسان مرکزی حکومت کے کسا ن مخالف زرعی قوانین کے خلاف راستوں پرنکل آئے تھے مگر ان کایہ عمل حکومت کے نزدیک جرم قرار پایا! کسان آندولن کے دوران بڑی تعدادمیں کسان مارے گئے لیکن انھوںنے ہمت نہیںہاری ۔ ان کاعزم اب بھی جوان ہے ۔حوصلے بلند ہیں۔ اور وقت کے خداﺅں کےلئے ایک چیلنج بن چکے ہیں۔
سوچتا ہوں کہ وہ کتنے معصوم تھے
کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے
ہم نے پتھر سے جن کو بنایا صنم
وہ خدا ہوگئے دیکھتے دیکھتے

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔