وہ بہادر ماں جس نے اپنے 15 ماہ کے بچے کو شیر کے منہ سے نکال لیا

2,010

یہ ایک ایسی ماں کی کہانی ہے جو جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے 15 ماہ کے بچے کو شیر سے بچانے میں کامیاب ہو گئی۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ارچنا اپنے بیٹے کے ساتھ انڈیا کی ریاست مدھیہ پردیش کے بندھو گڑھ ٹائیگر ریزرو سے متصل روہنیا گاؤں میں گھر کے قریب ایک کھیت میں کام کر رہی تھیں۔

اسی دوران ایک دیوہیکل شیر جھاڑیوں سے باہر نکلا جس نے ان کے بچے کو دبوچ لیا۔

ارچنا ہکا بکا رہ گئی تھیں لیکن انھوں نے خود کو سنبھالتے ہوئے فوراً اپنے بیٹے کو شیر سے بچانے کی کوشش کی تو شیر نے ان پر بھی حملہ کر دیا۔

شور کی آواز سن کر گاؤں کے لوگ لاٹھیاں لے کر وہاں پہنچ گئے۔ اس دوران ارچنا اپنے بیٹے کو شیر کے جبڑے سے آزاد کروا چکی تھیں۔ شیر نے لوگوں پر بھی حملہ کرنے کی کوشش کی لیکن گاؤں والوں نے اسے بھگا دیا۔

1500 مربع کلومیٹر پر پھیلے بندھو گڑھ ٹائیگر ریزرو کے آس پاس کے گاؤں میں رہنے والے دیہاتی اس واقعے کے بعد سے خوف میں مبتلا ہیں۔

کچھ عرصے سے شیر کبھی دن میں اور کبھی رات کو گاؤں میں گھس آتا ہے۔

سرجن ڈاکٹر مٹھی روہیلہ نے بی بی سی کو بتایا کہ بچے کے جسم پر زخم اتنے سنگین نہیں تھے لیکن ماں کو شدید زخم آئے۔

ارچنا کا 15 ماہ کا بچہ

ڈاکٹر مٹھی روہیلہ نے بتایا کہ ’عام طور پر، ہم ان لوگوں کو اینٹی ریبیز انجیکشن دیتے ہیں جن پر جنگلی جانوروں نے حملہ کیا ہو۔‘

’ہم نے ان دونوں کو وہی دیا لیکن خاتون کی کمر پر گہرے زخم تھے۔ شیر کے پنجے گہرے تھے اور انفیکشن پھیپھڑوں تک پہنچ گیا تھا۔‘

سرجن ڈاکٹر سیف نے بتایا کہ ’زخم بہت گہرے تھے‘، اس لیے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے دونوں کو جبل پور بھیج دیا گیا، جو یہاں سے 165 کلومیٹر دور ہے۔‘

جبل پور کے میڈیکل کالج ہسپتال میں میڈیا کو داخلے کی اجازت نہیں۔

ارچنا کو ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ یعنی آئی سی یو میں رکھا گیا ہے، جہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں۔

ارچنا کے گھر والے آئی سی یو کے باہر بیٹھے ہیں اور سب کو یقین ہے کہ ارچنا ٹھیک ہو جائیں گی اور ان کے پھیپھڑوں میں انفیکشن بھی ٹھیک ہو جائے گا۔

ٹائیگر ریزرو سے بھٹک کر گاؤں میں آنے والا شیر

مان پور کے سب ڈویژنل فاریسٹ آفیسر آر تھروکرال نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال محکمہ جنگلات کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ٹائیگر ریزرو سے بھٹک کر گاؤں میں آنے والے شیر کو واپس لانا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم نے بہت سے اقدامات کیے ہیں۔ محکمہ جنگلات کا پورا عملہ ہے، پولیس کے دستے بھی ہیں جو ضرورت پڑنے پر گولی چلا سکتے ہیں۔‘

’ٹائیگر کو بے ہوش کرنے کے لیے ایک ڈارٹ گن بھی ہے۔ اگر شیر نظر آ جائے تو اسے بے ہوش کر کے اس کے علاقے میں چھوڑا جا سکتا ہے۔ اس کام کے لیے ڈرون کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔‘

بندھو گڑھ ٹائیگر ریزرو کے آس پاس کے گاؤں میں رہنے والے لوگوں کی مشکلات صرف شیروں کی وجہ سے ہی نہیں۔ اس علاقے میں 46 جنگلی ہاتھیوں کا ریوڑ بھی گھومتا ہے، جو سنہ 2018 میں یہاں پہنچا تھا۔

اب بندھو گڑھ ٹائیگر ریزرو ہاتھیوں کا بھی گھر ہے، جس کی وجہ سے آس پاس کے گاؤں والوں کی پریشانیاں اور بڑھ گئی ہیں۔

وائلڈ لائف ٹرسٹ آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس ریزرو میں پہلے ہاتھیوں کی موجودگی نہیں تھی۔ گاؤں والوں کے مطابق حال ہی میں ہاتھیوں کا ایک غول ان کے گھروں میں گھس آیا اور ان کی فصلوں کو نقصان پہنچایا۔

سماجی تنظیموں اور محکمہ جنگلات کے عملے نے جنگل میں رہنے والے دیہاتیوں کو چوکنا کرنے کے لیے ریپڈ ایکشن پلان بھی تیار کیا ہے۔ اس کام کے لیے 10 گاؤں کا انتخاب کیا گیا ہے، جن میں سے مان پور بھی ایک ہے۔

لیکن اس سب کے باوجود ان جنگلات کے آس پاس کے دیہاتوں میں رہنے والے لوگ پریشان ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ کب کیا ہو جائے۔

گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ بندھو گڑھ ٹائیگر ریزرو کے آس پاس کے دیہات میں لوگ ہر رات پہرہ دیتے ہیں تاکہ جب جانور حملہ کریں تو وہ سب کو خبردار کر سکیں اور ان کا مقابلہ کر سکیں۔