اگر آپ امریکی ریاست مشیگن کی ہیمٹریمک نامی شہر کی مرکزی سڑک سے گزریں تو آپ کو ایسا احساس ہوگا گویا آپ نے ایک وقت میں ایک ساتھ دنیا بھر کی سیر کر لی ہے۔آپ کو پولش ساسیج سٹور، مشرقی یورپی بیکری، یمنی ڈپارٹمنٹل سٹور اور بنگالی کپڑوں کی دکان ساتھ ساتھ نظر آ جائيں گی۔ وہاں آپ کو اذان کے ساتھ چرچ کی گھنٹیاں بجتی ہوئی بھی سنائی دیں گی۔ہیمٹریمک اپنے ‘دو مربع میل میں دنیا’ کے نعرے پر قائم ہے۔ اور وہاں پانچ مربع میل کے رقبے میں دنیا کی تقریباً 30 زبانیں بولی جاتی ہیں۔

رواں ماہ 28 ہزار آبادی والے اس شہر نے ایک سنگ میل عبور کیا ہے۔ ہیمٹریمک نے مسلم میئر کا انتخاب کیا ہے اور اس کی شہری کونسل کے تمام اراکین بھی مسلمان ہیں اس کے ساتھ ہی یہ پہلا ایسا شہر بن گیا ہے جہاں امریکی مسلمانوں کی حکومت ہے۔کبھی یہاں مسلمانوں کو امتیازی سلوک کا سامنا تھا لیکن اب مسلمان اس کثیر الثقافتی شہر کے لیے لازم و ملزوم ہیں، اور اب وہاں ان کی نصف سے زیادہ آبادی ہے۔بہر حال اقتصادی چیلنجز اور شدید ثقافتی مباحثوں کے باوجود مختلف مذہبی اور ثقافتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے شہریوں میں ہم آہنگی ہے۔ اور اسی سبب یہ شہر امریکہ میں تنوع کے لیے ایک بامعنی مطالعے کا موضوع بن گیا ہے۔

تو کیا ہیمٹریمک اپنے آپ میں ایک مثال ہی بن کر رہ جائے گا یا اصول؟

ہیمٹریمک کی تاریخ جرمن آباد کاروں کے قصبے کے طور پر شروع ہونے سے لے کر جدید دور تک پہنچی ہے جہاں یہ امریکہ کا پہلا مسلم اکثریتی شہر بن گیا ہے اور اس کے آثار اس کی گلیوں میں نقش ہے۔دکانوں کے سائن بورڈ عربی اور بنگالی میں نمایاں طور پر نظر آتے ہیں اور کہیں کڑھائی والے بنگلہ دیشی لباس دکان کے شیشے سے لبھاتے نظر آتے ہیں تو وہیں یمن کے روایتی خنجر جمبیا بھی نظر آتے ہیں۔ مسلمان باشندے پیکزکی (ایک قسم کا کسٹرڈ سے بھرا پولش ڈونٹ) خریدنے کے لیے قطار میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

ہیمٹریمک کے مرکز میں ایک کیفے کے مالک اور بوسنیائی تارک وطن زلاٹن سعدیکووچ کا کہنا ہے کہ ‘یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے کہ ایک ہی وقت میں آپ کچھ کو منی سکرٹ اور ٹیٹو کے ساتھ اور کچھ کو برقعوں میں ایک ہی سڑک پر چلتے ہوئے دیکھیں۔ یہ سب ہمارے بارے میں ہی ہے۔’

ڈیٹرائٹ کے قریب واقع ہیمٹریمک کبھی امریکہ کی کاروں کی انڈسٹری کے مرکز کا حصہ تھا، جس پر جنرل موٹرز کے کارخانوں کا غلبہ تھا جس نے اپنی سرحد ‘موٹر سٹی’ کے ساتھ گھیر لی تھی۔ پہلی کیڈیلک ایلدورادو سنہ 1980 کی دہائی میں ہیمٹریمک سے ہی تیار ہو کر نکلی تھی۔

20 ویں صدی کے دوران یہ ‘لٹل وارسا’ کے نام سے جانا جانے لگا کیونکہ پولش تارکین وطن کارخانوں میں محنت مزدوری کے لیے یہاں آنے لگے۔ یہ شہر پولینڈ میں پیدا ہونے والے پوپ جان پال دوم کے سنہ 1987 میں کیے جانے والے امریکی دورے کا حصہ بھی تھا۔ سنہ 1970 میں، شہر کی 90 فیصد آبادی پولش نژاد تھی۔

بہرحال اسی دہائی میں امریکی کاروں کی مینوفیکچرنگ میں طویل زوال کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں کم عمر اور امیر پولش نژاد امریکیوں نے مضافاتی علاقوں میں نقل مکانی شروع کی۔ اس تبدیلی نے ہیمٹریمک کو مشیگن کے غریب ترین شہروں میں سے ایک بنا دیا، لیکن پھر یہاں چیزوں کے سستا ہونے نے تارکین وطن کو پھر سے اپنی طرف راغب کیا۔

گذشتہ 30 برسوں میں ہیمٹریمک ایک بار پھر تبدیل ہوا اور عرب اور ایشیائی تارکین وطن، بطور خاص یمن اور بنگلہ دیش سے آنے والوں کے لیے ایک لینڈنگ پیڈ بن گیا۔ آج شہر کے رہائشیوں کا ایک بڑا حصہ یعنی تقریباً 42 فیصد آبادی امریکہ سے باہر پیدا ہوئی تھی اور خیال کیا جاتا ہے کہ نصف سے زیادہ آبادی باعمل مسلمان ہیں۔

نو منتخب حکومت کے خدوخال ہیمٹریمک میں بدلتی ہوئی آبادی کی عکاسی کرتا ہے۔ سٹی کونسل میں دو بنگالی نژاد امریکی، تین یمنی نژاد امریکی اور ایک نومسلم پولش نژاد امریکی شامل ہیں۔68 فیصد ووٹ حاصل کر کے عامر غالب امریکہ میں پہلے یمنی نژاد امریکی میئر ہوں گے۔41 سالہ غالب نے کہا: ‘میں عزت اور فخر محسوس کرتا ہوں، لیکن میں جانتا ہوں کہ یہ ایک بڑی ذمہ داری ہے۔’

یمن کے ایک گاؤں میں پیدا ہونے والے غالب 17 سال کی عمر میں امریکہ پہنچے اور انھوں نے پہلے پہل ہیمٹریمک کے قریب کاروں کے پلاسٹک کے پرزے بنانے والی فیکٹری میں کام کرنا شروع کیا۔ بعد میں انھوں نے انگریزی زبان سیکھی اور میڈیکل تربیت حاصل کی، اور اب وہ صحت کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔

سٹی کونسل کی منتخب رکن امندا جیکزکوسکی نے کہا کہ ہیمٹریمک بہت سی چیزوں کی آمیزش کرنے والے ‘برتن’ یا ‘سلاد کے پیالے’ کے بجائے ایک ‘سات پرتوں والے کیک’ کی طرح ہے جہاں مختلف گروہ ایک دوسرے کے ساتھ قریب قریب رہتے ہوئے بھی اپنی الگ ثقافتوں کو برقرار رکھتے ہیں۔ ‘لوگ اب بھی خاص طور پر اپنی ثقافت پر فخر کرتے ہیں، اور اگر یہ ایک دوسرے میں ضم ہو جائے تو ہم اپنی انفرادیت کھو دیں گے۔’

29 سالہ مز جیکسکوسکی نے کہا: ‘جب آپ ایک دوسرے کے اتنا قریب رہتے ہیں، تو آپ ان اختلافات پر قابو پانے کے لیے مجبور ہو جاتے ہیں۔’

لیکن سبکدوش ہونے والے میئر کیرن ماجوسکی کا کہنا ہے کہ ہیمٹریمک کوئی ‘ڈزنی لینڈ نہیں ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی جگہ ہے۔ اور ہمارے درمیان اختلافات ہیں۔’

سنہ 2004 میں اذان کے نشر کرنے کے معاملے پر ووٹ کے بعد اختلاف پیدا ہوا۔ جبکہ کچھ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مساجد کے قریب شراب خانوں پر پابندی سے مقامی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔

چھ سال پہلے جب یہ مسلم اکثریتی حکومت والا پہلا امریکی شہر بنا تو دنیا بھر سے میڈیا والوں نے ہیمٹریمک کا رخ کیا۔ اس وقت کچھ میڈیا رپورٹس میں اسے بڑی تعداد میں مسلمانوں کی آمد اور ‘کشیدگی’ والے علاقے کے طور پر پیش کیا گيا۔ اس وقت ایک نیشنل ٹی وی اینکر نے پوچھا تھا کہ کیا کیرن ماجوسکی میئر بننے سے خوفزدہ ہیں۔

یہاں تک کہ کچھ لوگوں کی طرف سے یہ قیاس آرائیاں بھی کی جانے لگیں کہ مسلمانوں کے کنٹرول والی سٹی کونسل کہیں شرعی قانون نافذ نہ کر دے۔

کیرن ماجوسکی نے کہا تھا کہ ‘ہیمٹریمک میں لوگ اس قسم کی گفتگو پر ناراض ہوتے ہیں۔’

وہ اس بات پر ‘مشکور’ ہیں کہ ہیمٹریمک ایک قبول کرنے والی کمیونٹی رہی ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ یہ بات ‘فطری’ ہے کہ نئے رہائشی اسے ووٹ کرتے ہیں جو ان کے خیال سے انھیں اور ان کی زبانوں کو سمجھتے ہیں۔

امریکہ میں مردم شماری بیورو مذہب سے متعلق معلومات اکٹھی نہیں کرتا، لیکن ایک تھنک ٹینک پیو ریسرچ سینٹر کا اندازہ ہے کہ سنہ 2020 میں امریکہ میں تقریباً 38 لاکھ مسلمان تھے، جو کہ کل آبادی کا تقریباً 1.1 فیصد تھا۔ اور سنہ 2040 تک مسلمانوں کا امریکہ میں مسیحی برادری کے بعد دوسرا بڑا مذہبی گروہ بننے کا امکان ہے۔

مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے باوجود، امریکہ میں انھیں اکثر تعصبات کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

9/11 کے حملے کے 20 سال بعد بھی اسلاموفوبیا مسلمانوں اور دیگر عرب امریکیوں کو پریشان کر رہا ہے۔ پیو ریسرچ کی ٹیم کو نصف کے قریب مسلم امریکی بالغوں نے سنہ 2016 میں بتایا تھا کہ جب اس وقت کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلم اکثریتی ممالک کے تارکین وطن کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کی تجویز پیش کی تھی تو انھیں ذاتی طور پر کسی نہ کسی قسم کے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ محققین نے یہ بھی پایا کہ تمام مذہبی گروہوں میں سے مسلمانوں کو اب بھی امریکی عوام کے منفی خیالات کا سب سے زیادہ سامنا ہے۔

امریکیوں کی نصف سے زیادہ آبادی کا کہنا ہے کہ وہ ذاتی طور پر کسی مسلمان کو نہیں جانتے، لیکن جو لوگ ذاتی طور پر کسی مسلمان کو جانتے ہیں، ان میں اس سوچ کا امکان کم ہے کہ اسلام دیگر مذاہب کے مقابلے میں تشدد کی زیادہ حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

Presentational grey line
ہیمٹریمک اس بات کی ایک زندہ مثال ہے کہ کس طرح انفرادی طور پر معلومات حاصل کرنے سے اسلاموفوبیا میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

9/11 کے حملے کے فوراً بعد جب شہاب احمد سٹی کونسل کی رکنیت کے لیے انتخابات کے میدان میں اترے تھے تو یہ ان کے لیے ایک مشکل لڑائی تھی۔بنگالی نژاد امریکی شہری شہاب نے کہا: ‘پورے شہر میں ایسے پیمفلیٹ تھے جن میں کہا جا رہا تھا کہ ایک 20 واں ہائی جیکر تھا جو ہوائی جہاز پر سوار نہیں ہو سکا‘۔سنہ 2001 میں الیکشن ہارنے کے بعد، مسٹر شہاب احمد نے اپنا تعارف کرانے کے لیے پڑوسیوں کے دروازے کھٹکھٹائے۔ اور پھر دو سال بعد وہ ہیمٹریمک کے پہلے مسلمان سٹی آفیشل کے طور پر منتخب ہوئے۔اس کے بعد سے شہر میں مسلمان برادری کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔

سنہ 2017 میں جب ٹرمپ انتظامیہ نے چند مسلمان ممالک کے شہریوں کے داخلے پر پابندی لگائی تو وہاں کے رہائشی احتجاج کے لیے اکٹھے ہوئے۔دستاویزی فلم ‘ہیمٹریمک، یو ایس اے’ کے شریک ڈائریکٹر رضی جعفری نے کہا: ‘ایک طرح سے اس بات نے بہت سارے لوگوں کو متحرک اور متحد کیا کیونکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ ہیمٹریمک میں رہنے کے لیے آپ کو ایک دوسرے کا احترام کرنا ہوگا۔’

قومی سطح پر بھی مسلمان امریکی سیاست میں زیادہ نظر آنے لگے ہیں۔ سنہ 2007 میں مینیسوٹا کے ڈیموکریٹ کیتھ ایلیسن پہلے مسلمان کانگریس مین بنے۔ موجودہ امریکی کانگریس میں چار مسلمان ارکان ہیں۔رواں ماہ ہیمٹریمک کے انتخابات کے دن درجنوں رہائشی ایک دوسرے کو خوش آمدید کہنے کے لیے پولنگ سٹیشن کے سامنے جمع ہوئے۔ بہت سے لوگوں نے انتخاب کے دن کی یادگار ‘آئی ووٹِڈ’ کا سٹیکر لگا رکھا تھا۔

تارکین وطن جمہوریت میں حصہ لینے پر پرجوش تھے، کیرن جیکوسکی نے کہا: ‘لوگوں کو یکجا کرنے کے لیے یہ ایک بہت ہی امریکی طریقہ ہے۔’

Presentational grey line
لیکن ملک کے دیگر حصوں کی طرح اس شہر میں بھی شدید ثقافتی مباحثے ہو رہے ہیں۔

جون میں، جب شہری حکومت نے سٹی ہال کے سامنے ’گے پرائڈ‘ یا ہم جنس پرستوں کے افتخار کا جھنڈا لہرانے کی منظوری دی تو کچھ رہائشی ناراض ہو گئے۔ نجی کاروباروں اور گھروں کے باہر لٹکے ہوئے کئی ہم جنس پرستوں کے جھنڈوں کو گرا دیا گیا، جن میں سے ایک اس وِنٹیج کپڑوں کی دکان کے باہر لگا پرچم بھی تھا جو کیرن ماجوسکی کی ملکیت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘اس سے لوگوں کو واقعی ایک خطرناک پیغام جاتا ہے۔’

بھنگ بھی تنازعے کا باعث بن گئی ہے۔ ہیمٹریمک میں کھلنے والی تین ڈسپنسریوں میں مسلمان اور پولش کیتھولک دونوں برادریوں کے کچھ لوگوں نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

دیگر رہائشیوں کو قدامت پسند مسلمان کمیونٹیز میں خواتین کی سیاسی شرکت میں کمی پر تشویش ہے۔

انتخابات کی رات نو منتخب میئر غالب انتخابات کے بعد منعقدہ پارٹی میں ایک پرجوش یمنی نژاد امریکی ہجوم میں گھرے ہوئے تھے اور وہاں بکلاوا اور کباب پیش کیے جا رہے تھے۔ وہاں 100 سے زیادہ حامی تھے اور سب کے سب مرد تھے۔

غالب نے کہا کہ خواتین نے ان کی مہم میں حصہ لیا تھا لیکن محفلوں میں جنس کی بنیاد پر علیحدہ علیحدہ شمولیت روایتی ہے حالانکہ نوجوان نسلوں کی طرف سے اسے چیلنج کیا جا رہا ہے، جنھیں زیادہ ‘امریکی’ سمجھا جاتا ہے۔

ہیمٹریمک کو بھی ’رسٹ بیلٹ‘ یعنی زنگ آلود علاقے کے شہروں کو درپیش بوسیدہ انفراسٹرکچر سے لے کر محدود اقتصادی مواقع جیسے عام چیلنجز کا سامنا ہے۔ موسم گرما میں ہونے والی موسلا دھار بارش نے شہر کی نالیوں میں پانی بھر دیا اور کئی گھروں میں پانی بھر گیا۔ شہر کے پینے کے پانی کے نمونوں میں سیسے کی حد سے زیادہ سطح پائی گئی جس کا ذکر قومی سطح پر کیا گيا۔ شہر کی تقریباً نصف آبادی خط غربت سے نیچے ہے۔ یہ چند ایسے اہم مسائل ہیں جن سے شہر کی نئی قیادت کو نمٹنا ہو گا۔

دستاویزی فلم ساز جعفری نے کہا: ‘مسلم اکثریتی شہر میں جمہوریت کیسی نظر آتی ہے؟ ہر جگہ کی طرح مسائل سے بھری اور پیچیدہ۔’

انھوں نے مزید کہا: ‘لہذا جب نیا پن ختم ہو جائے تو کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔’

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔