وہی ہے راہ میں تیرے عزم و شوق کی منزل ✒️ عالیہ خانم ۔ اردھاپور’ ناندیڑ

3

کفرو شرک کی ظلمتوں اور جہالت کے اندھیروں کو ختم کرنے کے لیے رب دو جہاں نے عرب کی تاریک فضا میں ایک شمع روشن کی جس کی روشنی نے دنیا کے ہر گوشے کو روشن کر دیا یہ وہ شمع ہے جسے دنیا نبی آخرالزماں محمدﷺ کے نام سے جانتی ہے اس شمع رسالت کی بشارت ہر نبی نے اپنی امت کو دی تھی غرض یہ کہ اہل کتاب یہود و نصاری کی کتاب ، توریت اور انجیل میں بھی اس کی خوشخبری دی گئی تھی چنانچہ جب رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے عرب کی اس تاریک فضا میں اللہ کے حکم سے حق کی دعوت دی تو چند باایمان پروانوں کے سوا کوئی اس پر ایمان نہ لایا اور باطل پورے زور کے ساتھ اس شمع رسالت کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھانے پر آمادہ ہوگیا لیکن اللہ نے اپنا وعدہ پورا کیا اورکافروں کا سر نیچا کیا اس بات کو اللہ تعالی نے نے سورۃ توبہ میں یوں فرمایا

يُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يُّطۡفِـئُــوۡا نُوۡرَ اللّٰهِ بِاَ فۡوَاهِهِمۡ وَيَاۡبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنۡ يُّتِمَّ نُوۡرَهٗ وَلَوۡ كَرِهَ الۡـكٰفِرُوۡنَ ۞

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں مگر اللہ اپنی روشنی کو مکمل کیے بغیر ماننے والا نہیں ہے خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو.(التوبہ 32)

چنانچہ اللہ رب العزت نے اپنا وعدہ پورا کیا رفتہ رفتہ لوگ اسلام کے قافلہ امن میں پناہ لینے لگے سب سے پہلے اس قافلے امن ورحمت میں جگہ پانے والی ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ تھی مردوں اور عورتوں میں یہ پہلی خاتون ہی تھی جس نے دعوت حق پر لبیک کہا اور سابقون الاولون کی جماعت میں سبقت حاصل کی اور اپنا جان مال سب کچھ اللہ رب العزت کے لئے قربان کر دیا حضرت خدیجہ نے اسلام کی تبلیغ کے لئے جو خدمات انجام دیں اسے رقم کرنے کے لیے گویا کہ قلم بھی قاصر ہے۔ بے شک تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور وہ اپنے فضل سے جو چایے، جسے چاہے دے اور سب کچھ اس کی طرف سے ہوتا ہے جہاں ایک سب سے بڑی طاقت "یا ایھالمزمل” اور "یاایھالمدثر” پکار پکار کر اپنی رحمت کہ کرشمے دکھارہی تھی وہی خدا کی ایک اور حمایت ماں خدیجہؓ آپﷺ کے قلب کا سامان کیے ہوئ تھی اگرچہ یہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ اللہ تعالی نے ام المومنین خدیجہؓ کو آپﷺ کی حمایت پر لا کھڑا نہ کر دیتا تو تحریک اسلامی کے ابتدائی مرحلے ایسے روشن اور تابناک نہ ہوتے جیسے ہم دیکھ رہے ہیں ام المومنین خدیجہؓ نے دیکھا کہ اسلامی تحریک کی ذمہ داری آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد آئی تو انہوں نے گھر کا سارا نظم اپنے کندھوں پر لے لیا یا چھوٹے بڑے، بچوں کی دیکھ بھال ان کی پرورش ان کی تربیت اور گھر کے بندوبست سے رسولﷺ کو بالکل فارغ کر دیاام المومنین حضرت خدیجہؓ کی حمایت نے آپ کو بڑی توانائی بخشی آپ یکسو ہو کر اسلام کی تبلیغ میں لگ گئے ام المومنینؓ کی وہ تجارت جو آپﷺ کی محنت اور کارگزاریوں سے بام عروج کو چھو رہی تھی یک دم سے ٹھپ ہو کر رہ گئی لیکن ام المومنینؓ نے کبھی اس کے بارے میں آپﷺ سے نہیں پوچھا، پوچھا تو یہ پوچھا کہ آج مکہ کے سرداروں سے کیا بنی؟ آپ کا مزاج کیسا ہے ؟آج دین کا کچھ کام ہوا ہے یا نہیں؟ اتنا ہی نہیں جب مشرکین مکہ نے اہل ایمان کا بائیکاٹ کر دیا اور شعیب ابو طالب کی گھاٹی میں محصور ہوئے تو خوب صبر و حکمت سے کام لیا اور اپنے شوہر آقا دو جہاںﷺ کی دلجوئی کرتی رہی حتی کہ اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں لٹا دیا یہی وہ عورت تھی جس کے بارے میں آپ صلی وسلم فرماتے کہ خدیجہ سے بڑھ کر میں نے کسی کو نہیں دیکھا اور یہ کہہ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے۔

؂ فضیلت یہ حاصل ہوئ انھیں کو
کہ ہمت کی کملی اڑھائ نبیﷺکو
کل امت سے پہلے مسلماں ہوئ
تو گویا ہماری مشعل راہ ہوئ یہ

ایک مرتبہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ "تم میں سےکوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اسے میرے ساتھ ماں باپ اولاد اور باقی سب رشتوں سے بڑھ کر محبت نہ ہو”

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تصدیق آپ کے صحابہ و صحابیات کرام نے اپنے جس طرز عمل اور جس طرح سے کی تاریخ عالم اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے شمع رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان پروانوں نے راہ حق میں جو مصائب و آلام برداشت کیے ان کا حال پڑھ کر جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے ان پروانوں کی دل سوزی اور جانگدازی کی عجیب شان تھی تھی دین حنیف کی ترویج و اشاعت اور حق کی سربلندی کے لیے انہوں نے زندگی کے ہر میدان میں وہ قربانیاں دیں کہ ان کا اجتماعی و انفرادی کردار تا قیامت تک کے تمام ایمان توحید کے رکھوالوں کے لیے مشعل راہ بن گیا ان قدسی صفات انسانوں نے رضا الہی کی خاطر ماں باپ کو چھوڑا اہل و عیال سے جدائی اختیار کی قبیلے اور وطن عزیز کو خیرباد کہا اور گھر بار لٹایا،فاقے پر فاقے سہے ہر قسم کے جسمانی اذیتیں برداشت کیں یہاں تک کہ ضرورت پڑنے پر راہ حق میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے پیچھے نہ ہٹے۔

یہاں وہ خاتون قابل ذکر ہے جس نے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر اپنی جان کا ایسا نذرانہ پیش کیا کہ جو کوئی اسے پڑھتا ہے اشک بار ہو جاتا ہے تاریخ گواہ ہے کہ جب رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کی دعوت دی تو اس پر جس نے بھی لبیک کہا انہیں دشمنان اسلام نے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا اس میں مرد اور عورت کی کوئی تخصیص نہ تھی اسی زمانے میں سرور عالم صلی وسلم نے ایک دن راستے سے گزرتے ہوئے دیکھا کہ کفار قریش نے ایک ضعیف العمر خاتون کو لوہے کی زرہ پہنا کر دھوپ میں زمین پر لٹا رکھا ہے اور پاس کھڑے ہو کر قہقہے لگا رہے ہیں ساتھ ہی اس خاتون سے کہتے ہیں کہ "محمدﷺ کا دین قبول کرنے کا مزہ چکھ” خاتون کی بےبسی دیکھ کر حضورﷺ آبدیدہ ہو گئے اور ان سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ صبر کرو تمہارا ٹھکانا جنت میں ہے وہ خاتون جسے آپﷺ نے دنیا میں جنت کی بشارت دی حضرت سمیہؓ تھی اس خاتون جنت کو دنیا میں جس طرح کا عذاب دیا گیا، لوہے کی زرہ پہنا کر مکہ کی تپتی ریت پر لٹانا ان کی پشت کو آگ کے انگاروں سے داغنا اور پانی میں غوتے دینا کو کفاروں کا روز کا معمول بن چکا تھا چنانچہ ایک دن حضرت سمیہؓ دن بھر سختیاں سہنے کے بعد شام کو گھر واپس آئیں تو ابوجہل نے ان کو گالیاں دینی شروع کر دیں اور پھر اس کا غصہ اس قدر تیز ہوا کہ سمیہؓ کو اپنا برچہ کھینچ کر مارا جو ان کے ناف پر لگا اور وہ اسی وقت زمین پر گر گئی اور اپنی جان، جان آفرین کے سپرد کردی

؂ اف یہ جادۂ کہ جسے دیکھ کہ جی ڈرتا ہے
کیا مسافر تھے جو اس راہ گزر سے گزرے
اسلام کی مومنہ خواتین ہر شعبے میں اپنی مثال آپ تھی خواہ عبادت کا معاملہ ہو گھر کی ذمہ داری ہو دعوت دین ہو حجاب، حیا،پردہ ، شوہر کی اطاعت وفرمانبرداری ہوعلم دین ہویامیدان جہاد غرض ہر شعبے میں اتر کر سبقت لے جانے کی کوشش کرتی تھی حیا کے معاملے میں سرورکائنات صلی وسلم کی صاحبزادی فاطمہ بنت محمدﷺ کی نظیر نہیں ملتی حیا وحجاب کے بارے میں صرف انکا اتنا قول کافی ہے کہ "میرا جنازہ رات کے وقت لے جانا تاکہ کوئی دیکھ نہ سکے” سیدہ فاطمتہ الزہرا گھر کے کام کاج میں بھی پیچھے نہیں تھی خود ہاتھوں سے چکی پیستی حتی کہ ہاتھوں میں آبلے پڑ جاتے عبادت میں راتیں گزارتی بچوں کی تربیت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی کون تھی فاطمہؓ؟ سرکار دو عالم محمدﷺ کا لخت جگر خاتون جنت فاطمہ الزہرہ۔ زینب بنت علیؓ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی صاحبزادی تھیں تھی ان کی فصاحت و بلاغت کا یہ عالم تھا کہ عرب کے فصیح ترین آدمی بھی کہا کرتے تھے کہ "واللہ علیؓ کی بیٹی! تمہارے بڈھے سب بڈھو سے تمہارے جوان سب جوانوں سے تمہاری عورتیں سب عورتوں سے اور تمہاری نسل سب نسلوں سے بہتر ہے جو حق بات کہنے میں کسی سے نہیں ڈرتی”
صحابیات رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہر صحابیہ کوئی نہ کوئی خاص خوبی سے ممتاز تھیں انہیں میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا تھی جو فقہہ میں مہارت رکھتی تھی اور ان کے شاگردوں نے ان سے خوب دین سیکھا۔ بڑی بے باک زاہدہ مجاہدہ شخصیت تھی فیاضی تو گویا ان کے گھر کی لونڈی تھی کبھی سائل کو خالی ہاتھ نہ جانے دیا اور دین کی ترویج میں اپنی جان ومال لگا دیا ۔عورت چاہے ماں، بہن، بیوی، اور بیٹی ہر روپ میں قدرت کا قیمتی تحفہ ہے اس کے بغیر کائنات کی ہر شے پھیکی اور ماند ہیں بقول شاعر کے "وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ” اللہ تعالی نے مردوں کو اس کا محافظ اور سائبان بنایا ہے لیکن عورت ایک تناور درخت کی مانند ہے جو ہر قسم کے سرد و گرم حالات کا دلیری سے مقابلہ کرتی ہے اسی عزم و ہمت اور استقامت کی بنیاد پر اللہ تعالی نے جنت کو اس کے قدموں تلے بچھا دیا ۔ تاریخ اسلام خواتین کی قربانیوں اور خدمات کار کے بغیر نامکمل رہتی ہے اسلام کی دعوت وتبلیغ میں مردوں کے ساتھ عورتوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تمام آزمائشوں اور مصیبتوں کو سہتے ہوئے ثابت قدم رہیں ان خواتین پر مصیبتوں اور ظلم و ستم کی انتہا کر دی گئی لیکن انھوں نے اپنے ایثار اور تقویٰ و پرہیزگاری سے ثابت کردیا کہ خواتین کسی صورت میں مردوں سے پیچھے نہیں ہے ایسی ہی ایک خاتون عمارہؓ تھیں جری اور بہادر میں اپنی مثال آپ تھی ان کے جوش وشوق شہادت کے جذبے کو تاریخ نے اس طرح قلم کیا کہ "حضرت ام عمارہ غزوہ احد میں شریک ہوئیں اور ایسی شجاعت جانثاری عزم و ثبات کا مظاہرہ کیا کہ کہ تاریخ میں "خاتون احد” کے لقب سے مشہور ہوئیں احد کے موقع پر جب مجاہدین انتشار کا شکار ہوگئے تو اس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گنتی کے چند سرفروش باقی رہ گئے تھے حضرت ام عمارہ نے یہ کیفیت دیکھی تو انہوں نے مشکیزہ پھینک کر تلوار اور ڈھال سنبھالی اور حضور ﷺکی طرف جو بھی دشمن آتا وہ اسے جہنم واصل کر دیتی آخر تک لڑتی رہیں یہاں تک کہ ان کے جسم پر بارہ زخم آ گئے یہی وہ خاتون ہے جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "میں جدھر نظر دوڑاتا ہوں عمارہ کو ہی پاتا تھا” جب مسلمہ کذاب نے نبوت کا جھوٹا دعوی کیا اور عمارہ کے بیٹے حبیب بن زیدؓ نے اس کا انکار کیا لیکن اتفاق سے وہ مسلمہ کذاب کے ہاتھوں لگ گئے تو مسلمہ کذاب نے ان کے جسم کے ہر حصے کو کاٹ ڈالا عمارہ ؓ کو جب خبر پہنچی تو جوش و غضب میں انتقام کی آگ سے بھڑک اٹھی اور جنگ یمامہ میں عمارہؓ صفوں کو چیرتے ہوئے مسلمہ کذاب کے پاس جا پہنچی وہ اس کو قتل کرنے والی ہوتی ہے کہ ان کے فرزند عبداللہ اور حبشی رضی اللہ تعالی عنہم نے اسے قتل کر دیا تھا عمارہؓ سجدہ شکر بجا لائیں
جب عمارہ اپنے بیٹے سے کہتی تھی کہ آگے بڑھ کر لڑو تو آپﷺ ان سے کہتے تھے کہ تم سے بہتر نہیں لڑسکتا”
ام خلادؓ کے بیٹے نے جب شہادت پائ تو وہ با حجاب اپنے بیٹے کو دیکھنے گئ لوگوں کہا اس موقع پر بھی حجاب کررہی ہو تو انھوں جواب دیا” میں نے اپنا بیٹا کھویا ہے اپنی حیا نہیں کھوئ” ایسی حالت جس میں ماوں کے حواس باختہ ہوجاتے ہیں اس موقع پر حکم خداوندی کی لاج رکھنا یہ ہماری صحابیات کا ہی جگر تھا
یہ وہ مائیں تھیں جو اپنے بچوں کی شہادت پر ماتم کرنے کی بجائے فرط مسرت سے سرشار ہو جاتی تھی حضرت اسماء بنت ابو بکر صدیق جو اپنی عمر کے سو سال کو پہنچ چکی تھی اور نابینا تھی اس وقت اپنے بیٹے کو جنگ کے لئے یوں نصیحت کرتی ہے کہ "اے میرے فرزند اگر تم حق پر ہو تو مردوں کی طرح لڑ کر شہادت پر فائز ہو جاو کسی قسم کی ذلت برداشت نہ کرو اور اگر تمھارا مقصد دنیا کے لئے تھا تو تم سے برا کوئی شخص نہیں جس نے اپنی آخرت خراب کی اور دوسروں کو بھی ہلاک کر ڈالا”
آہ!!! کیا مائیں تھیی جس عمر میں مائیں اولاد کو بڑھاپے کا سہارا بنتے دیکھنا چاہتی ہے اس عمر میں اپنے بیٹے کو میدان کارزار میں شہادت کی تعلیم دے رہی تھی یہی اوصاف خنساؓ اور صفیہؓ کے بھی تھے اور دیگر صحابیات کے بھی۔

دور جدید کہ مجاہد خواتین نے بھی انہی کو اپنا رول ماڈل بنایا جس میں زینب الغزالی، ڈاکٹر عذرا بتول ڈاکٹر عافیہ صدیقہ جیسی قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے والی اسلام کی مجاہدہ خواتین قابل ذکر ہے زینب غزالی نے تحریک اسلامی کے لیے جو قربانیاں دیں اور قید و بند کی سختیاں برداشت کیں اسے لکھنے کے لیے قلم بھی شرمسار ہے اس بوڑھی خاتون کو الٹا لٹکا کر پانچ سو کوڑے مارنا، ان پر کتے چھوڑ نا ان کو رات بھر ٹھنڈے پانی میں رکھنا جیسے گھناؤنی تکلیفیں دی جاتی تھی ظلم کرنے والے بھی کون؟؟ دنیا پرست نام نہاد مسلمان تھے ایسی سزا شاید ہی کسی قانون میں عورت کو دی جاتی ہوگی ہوگی جنھیں دیکھ کر تو یہود و نصاری بھی سر جھکالیں بقول شاعر ؀ یہ وہ مسلماں ہیں جنھیں دیکھ کر شرمائیں یہود؂

ڈاکٹر عافیہ صدیقہ کا تو آج بھی قید و بند کی سختیاں برداشت کر رہی ہیں محترمہ کے ساتھ جیل میں ان کے بچوں کے سامنے بدکاری کی جاتی ہے ان پر ظلم و تشدد کیا جاتا ہے ان کو کھانے کو نہیں دیا جاتا ان سے کہا جاتا ہے کہ قرآن پر چل کر دکھاؤ تو ہم تمہیں چھوڑ دیں گے ان ظالموں کے کلیجے پتھر کے ہو گئے اس لئے ان پر ہر بات بے اثر ہیں بہرحال افسوس کی بات ہے کہ آج امت مسلمہ کی اکثریت ان خواتین کو چھوڑ کر مغربی تہذیب اور غیر قوموں کی تقلید کرنے لگی ہے جس شمع رسالتﷺ اور ان کے پروانو کو خدا نے ہمارے لیے مشعل راہ بنایا وہ خود اپنے ہاتھوں سے اس سے اس پاکیزہ راہوں کو چھوڑ کر مغربی تہذیب کی زد میں آ رہے ہیں اور دنیا پرستی کو اپنا مقصد بنالیا جس کا تباہ کن نتیجہ بے راہ روی ،بدکاری و بے حیائی نکلا جس کے بھیانک اثرات نے معاشرے کو تباہ و برباد کردیا

صنف نازک مغرب کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان کو محسوس کرتے ہیں مولانا طالب ہاشمی لکھتے ہیکہ” جب کوئی قوم اپنی ماضی کی تابناک روایت کو فراموش کر دیتی ہے اور دوسری اقوام کی اندھا دھند تقلید کو اپنی زندگی کا شعار بنا لیتی ہے اس وقت اس قوم کا انحطاط شروع ہو جاتا ہے” آج ملت اسلامیہ ایک دوراہے پر کھڑی ہے ایک طرف مغربی تہذیب اور اس کی ظاہری چمک دمک ہے دوسری طرف اسلامی تہذیب اور اس کی پاکبازی اور شرم و حیاء کی تعلیم ہے دونوں میں سے ایک راستہ اختیار کرنا ہے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے فلاح کی راہ کون سی ہے ؟ وہی راہ جو اسلاف نے اپنائ تھی ۔

مغرب میں عورت کی زندگی کا مقصد وحید یہی ہے کہ وہ مصنوعی تزئین و آرائش سے ایک لعبت حسین بن جائے مغربی عورت صفات نسوانی سے عاری ہے اسے شمع محفل سمجھئے یا عیاش مردوں کے لیے ضیافت نظر۔ اس کے چہرے پر رنگ و غازہ کی رونق ہے لیکن اس کا باطن بے حیائی اور مکروحیلہ سے سیاہ ہے اس انسانیت سوز آزادی کو اسلام نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے افسوس کہ ہمارے ملک میں بھی ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں مغرب کی نقالی کرنا چاہتا ہے جہاں تک سائنس اور تحقیق کا تعلق ہے اس معاملے میں تو مغرب کی تقلید اور قابل فہم ہے لیکن اس طبقے کی خواتین جس سراعت سے اپنے آپ کو مغربی تہذیب میں رنگ رہی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک اسلامی مملکت کی خواتین اس راستے پر چل کر کس طرح اسلام کے تقاضوں کو پورا کرسکیں گی ۔ ابھی بھی وقت ہے کہ یہ مغرب زدہ خواتین اپنے ماضی کی تاریخ کے اوراق الٹیں اور اپنے رنگ و نغمہ سے بھرپور مصنوعی زندگی کو (جو اپنے جلو میں ہلاکت آفرینی اور بربادی کا سامان لیے ہوئے ہے) ترک کرکے ان مقدس خواتین کے اتباع کو دلیل راہ بنائیں جنھیں قرآن حکیم نے "مومنات اور صالحات” کہہ کر پکارا ہے۔
؂نہ دیکھ رشک سے تہذیب کی نمائش کو
کہ سارے پھول یہ کاغذ کے ہیں خدا کی قسم
وہی ہے راہ تیرے عزم و شوق کی منزل
جہاں ہے عائشہؓ و فاطمہؓ کے نقشِ قدم

اللہ رب العزت سے دعائیں ہیکہ وہ امت کی خواتین کوصحابیات اور اسلام کی جانباز پاکیزہ خواتین کی نقش قدم پر چلنے والا بنا دے ۔

:✒️ عالیہ خانم حافظ نذراللہ خان۔ اردھاپور ضلع ناندیڑ