’اوپیک پلس‘ معاہدے پر تبادلہ خیال
ریاض : سعودی عرب کے ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز اور روسی صدر ولادی میر پوٹن نے ٹیلیفون پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہ نمائوں نے تیل پیدا کرنے کے لیے اوپیک + معاہدے پر عمل درآمد کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی۔کریملن سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر پوٹن نے ماسکو اور ریاض کے مابین عالمی توانائی کی منڈی کے استحکام کے لیے تعاون کو فروغ دینے کے لیے دو طرفہ تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔’اوپیک’ ممالک کے دونوں رکن ممالک کے سربراہوں نے تنظیم سے باہر پیداوار میں کمی، قیمتوں میں استحکام اور پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کو مربوط کرنے پراتفاق کیا۔بین الاقوامی انرجی ایجنسی نے کہا تھا کہ عالمی سطح پر تیل کی فراہمی اب بھی طلب سے کہیں زیادہ ہے۔ تیل کی رسد میں اضافے اور طلب میں کمی کا بنیادی سبب کرونا وبا پر قابوپانے کے لیے اقدامات ہیں۔ایجنسی کا کہنا ہے کہ کرونا ویکسینز کے دریافت ہونے کے بعد تیل کی طلب میں اضافہ ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کو احتیاطا تیل کو ذخیرہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں