اورنگ آباد: 29 جنوری ( یو این آئی) اورنگ آباد شہر کے جالنہ رورڈ پر واقع کروڑوں روپیوں کی قیمتی زمین کو تمام قوانین کو بالئے طاق رکھ کر غیر قانونی طور پر اور دھڑلے سے خرید و فرخت کرنے والے اور انکا ساتھ دینے والے تمام افراد کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اورنگ آباد کے رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل نے اعلان کیا کہ اگر ان خاطیوں کے خلاف فوری تحقیقات کرکے کارروائی نہیں کی گئی تو وہ اپنے ایک ہزار ساتھیوں کے ساتھ 26 فروری 2021 کو ضلع کلکٹر آفس کے سامنے بھوک ہڑتال کریں گے۔اورنگ آباد میں آج ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، جس میں ایم ائی ایم کے صدر شارق نقشبندی اور ایڈوکیٹ فاروق پٹیل بھی موجود تھے،

امتیاز جلیل نے بتایا کہ، کسی بھی وقف جائیداد کی خرید و فروخت نہیں کی جاسکتی، سپریم کورٹ کا بھی اس ضمن میں فیصلہ ہے کہ ایک بار وقف کی گئی زمین و جائیداد ہمیشہ کے لیے وقف ہی رہے گی۔ لیکن واضح قوانین کے باوجود شہر کے جالنہ روڈ پر واقع جہاں زمین کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں اور سب سے مہنگی ہیں اس علاقے میں وقف کی ایک لاکھ اسکوائر فٹ ( 20 ایکر 9 گنٹے زمین) پر غیر قانونی طور پر ایک شاپنگ کمپلیکس تعمیر کر کے وہاں بنائی گئی 80 دوکانیں کی خرید و فروخت کے ذریعے سے 100 کروڑ روپیوں سے زیادہ کا لین دین کیا گیا ہے۔

اس ضمن میں پولیس کمیشنر کو دیے گئے اپنے محضر میں انھوں نے کہا کہ، وقف بورڈ کی زمین پر 100 کروڑ سے زیادہ کا گھوٹالہ کرنے والے اور اس میں انکا ساتھ دینے والے تمام افراد کے خلاف فوجداری مقدمات داخل کیے جائیں، بصورت دیگر وہ ہزار افراد کے ساتھ 26 فروری کو بھوک ہڑتال کریں گے۔تفصیلات بتاتے ہوئے امیتاز جلیل نے الزام لگایا ہےکہ اس پورے معاملے میں، اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن کا شعبہ ٹاؤن پلاننگ، اے ایم سی کی اس قانونی مشیر، وقف بورڈ کے ملازمین، لینڈ ریکارڈ آفس اور رجسٹری آفس کے ملازمین و متولی ذمہ دار ہیں۔اورنگ آباد میں جالنہ روڈ پر واقع درگاہ حضرت سید داؤد صاحب لشکری کی ملکیت ہے ، جسے متولی سدشاہ قطب الدین نے 1964 میں کیلاش بافنا کو 99 سال لے لیے لیز پر دیاتھا۔ وقت سے ساتھ ساتھہ زمیں کروڑوں کی ہو گئی۔ اور بعدازاں وقف بورڈ کی اس قیمتی زمین پرکیلاش بافنا، جوگل کشورکپاڈیا، راجو تنوانی نے ایک معاہدہ کر کے یہاں ایک عالی شان شاپنگ کمپلیکس تعمیر کرنے کے لیے اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن سے اجازت مانگی۔

ابتداء میں اے ایم سی نے جواب دیا کہ زمین وقف بورڈ کی ہے اور حسب ضابطہ و قانون کے تحت وقف بورڈ کا این او سی لائے۔ لیکن بعد میں خلاف قانوں اور وقف بورڈ کی این او سی کے بغیر ہی عمارت تعمیر کرنے کی اجازت دے دی گئ۔ جس پر80 دوکانوں پر مشتمل ایک شاپنگ کمپلیکس کر دیا گیا۔ اور 100 کروڑ سے زیادہ میں یہ دوکانیں فروخت کی گئیں۔امتیاز جلیل نے بتایا کہ وقف ٹریبنل نے 2018 میں اپنے فیصلے میں کہا کہ اے ایم سی کی جانب سے عمارت کی تعمیر کی اجازت دینے سمیت ابتداء 1964 سے ہی غلط، بوگس و غیر قانونی ہے، اور اس فہصلےکو سب رجسٹرار کے پاس روانہ کر کے اس معاملے میں کسی بھی طرح کی خرید و فروخت کی رجسٹری نہ کرنے کے احکامات دئے۔

انھوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ اس کے باوجود رجسٹری آفس میں 2018 کے بعد سے آج تک اس وقف جائیداد کی رجسٹریاں کی گی۔ انھوں نے الزام لگایاکہ اس میں بڑے پیمانے پر رشوت بھی دی گئ، "میں پوری ذمہ داری کے ساتھ کہتا ہوں کی ایک ایک رجسٹری کے لہے 25 لاکھ دیے گئے۔امتیاز جلیل نے بتایا کہ اس ضمن میں انھوں نے ریاستی وزیز برائے اوقاف نواب ملک کو بھی لکھا کہ کس طرح سے وقف کے زمیں کی غیر قانونی طور پر دھڑلے سے خدید و فروخت کی جا رہی ہے۔ جسکے جواب میں نواب ملک نے ایک خط کے ذریعے سےبتایا کہ وقف بورڈ نے ایک اشتہار کے ذریعے سے اس جائیداد کی خرید و فروخت سے عوام کو منع کر دیا ہے۔ امتیاز جلیل نے سوال کہا کہ یہ اشٹہار کس اخبار میں چھپا یہ معلوم نہیں،اور ضابطہ کے مطالق اسے ایک قومی سطح کے بڑے اخبار اور ایک علاقائی سطح کی کسی مقبول اخبار میں شائع ہونا جائے۔انھوں نے کہا یہ اس ضمن میں انھوں نے کل اورنگ آباد میں وزیر داخلہ انیل دیشمکھ سے بھی ملاقات کی اور تفصیلات سے واقف کرایا، جس پر انیل دیشمکھ نے علاقائی کمشنر کو اس معاملےکی تحقیقات کرنے کے لیے کہا ہے۔اس پورے معاملے میں سب سےدلچسپ بات جو امتیاز جلیل نے بتائی وہ یہ ہے کہ 100 کروڑ سے زیادہ کے اس پورے غیر قانونی لین دین کے معاملے میں وقف بور کو صرف ایک لاکھ پچاس ہزار اور متولی کو چار لاکھ پچاس ہزار دے کر جملہ 6 لاکھ میں نمٹا دیا گیا۔