شیعہ سنٹرل وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی پر شیعہ اور سنی طبقہ سمیت تمام مسلم مذہبی پیشواؤں میں ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اسی تعلق سے کچھ علماء نے جمعرات کو دہلی کی شیعہ جامع مسجد میں میٹنگ کی اور اس میں رضوی کے ذریعہ داخل مفاد عامہ عرضی پر ناراضگی ظاہر کی۔ علماء نے مرکزی وزیر داخلہ کو میمورینڈم بھیج کر رضوی کی جلد گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

 آل انڈیا شیعہ کونسل کی طرف سے بھیجے گئے عرضداشت میں کہا گیا ہے کہ ’’وسیم رضوی نامی شخص نے پاکیزہ قرآن کی 26 آیتوں کی غلط، بے بنیاد اور غلط فہمی پر مبنی تشریح کرتے ہوئے انھیں قرآن سے ہٹانے کی عرضی سپریم کورٹ میں داخل کر دی ہے۔ ان کی اس حرکت سے پورے ملک میں مسلمانوں میں غم و غصہ ہے۔ قرآن دنیا کو امن، بھائی چارہ اور انسانیت کا پیغام دیتا ہے، اس کی بے عزتی کسی بھی حالت میں برداشت نہیں کی جا سکتی۔‘‘

کونسل کا کہنا ہے کہ ’’قرآن کریم مسلمانوں کی اسلامی تعلیمات اور اعتقادات کی بنیاد ہے، جس میں نہ تو تبدیلی ممکن ہے اور نہ ہی کوئی شخص اس میں اضافہ یا کمی کر سکتا ہے۔ وسیم رضوی نام کا شخص پہلے بھی ملک کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر چکا ہے۔ اس لیے یہ گزارش کی جاتی ہے کہ قومی سالمیت کے اس دشمن کو جلد سے جلد گرفتار کیا جائے۔‘‘

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو بھیجے گئے اس عرضداشت میں علماء نے یہ بھی کہا ہے ’’پہلی بات یہ کہ وسیم رضوی قرآن کی بے عزتی کر اسلام کے دائرے سے باہر ہو چکا ہے، یعنی اسلام سے بے دخل ہو چکا ہے۔ ساتھ ہی رضوی کو اب مسلمان نہ مانا جائے۔ شیعہ مسلمانوں اور مذہبی لیڈروں کا اتفاق رائے سے یہی فیصلہ ہے۔ دوسری بات یہ کہ رضوی ملک کے اتحاد و سالمیت کا دشمن ہے، فرقہ وارانہ خیر سگالی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ اس لیے فوری اثر سے رضوی کو گرفتار کیا جائے اور ملک میں نفرت پھیلانے کے جرم میں مقدمہ چلایا جائے۔‘‘ آگے یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’وسیم رضوی کے ماضی میں کیے گئے کاموں اور حالیہ حرکتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے اس بات کی جانچ کی جائے کہ کن ملک مخالف طاقتوں اور ایجنسیوں کے اشارے پر ملک کی سالمیت کے خلاف کام کرتے ہوئے ہنگامہ، افرا تفری مچائی جا رہی ہے۔‘‘