لکھنو/مرادآباد: قرآن سے 26 آیتیں ہٹانے سے متعلق وسیم رضوی کی طرف سے سپریم کورٹ میں داخل عرضی کو لے کرمسلم طبقے میں زبردست ناراضگی پائی جاتی ہے۔ وسیم رضوی کی شعیہ اور سنی دونوں فرقے کے لوگ زبردست مخالفت کر رہے ہیں۔ اسی ضمن میں وسیم رضوی کا سرقلم کرنے والے کو 11 لاکھ روپئے کا انعام دینے کا اعلان کیا گیاہے۔ دوسری جانب، لکھنو میں شیعہ – سنی علمائے کرام نے وسیم رضوی کی مذمت کی اور مشترکہ پریس کانفرنس کرکے وسیم رضوی کو اسلام سے خارج کرنے کا فتویٰ جاری کیا۔ٹیلے والی مسجد کے امام مولانا فضل منان رحمانی ندوی نے کہا کہ وسیم رضوی اسرائیل کے ایجنٹ کے طور پر کام کر ر ہاہے۔ مولانا ڈاکٹر کلب سبتین نوری نے کہا کہ وسیم رضوی کے کاموں کو معاف نہیں کیا جاسکتا۔ وسیم رضوی معاشرہ کا حصہ نہیں ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ مسلم معاشرہ کو بدنام کیا ہے۔ وہ ہمارے سماج کا حصہ نہیں ہے۔ دونوں نے وسیم رضوی کو اسلام سے خارج اور مسلم معاشرہ سے بے دخل کرنے کا فتویٰ دیا۔مرادآباد بارایسوسی ایشن کے صدر امیرالحسن جعفری نے کہا کہ ہم وسیم رضوی کی سپریم کورٹ میں داخل کی گئی درخواست کی مخالفت کرتے ہیں۔ قرآن مجید کے بارے میں غلط بیان بازی کرنے والوں کو ایسی سزا دینا کوئی جرم نہیں ہے۔ جعفری نے کہا کہ سرقلم کرنے والے کے لئے انعام کی رقم کا انتظام وہ چندہ لے کر کریں گے۔ ضرورت پڑی تو اپنے بچے کو بیچ دیں گے۔وسیم رضوی کیخلاف ملک بھر میں شدید ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے جبکہ ان کے خلاف کئی فتوے بھی جاری ہوچکے ہیں ۔


اپنی رائے یہاں لکھیں