مذہب اسلام کا مذاق اڑانے کے ساتھ ساتھ کاتب وحی حضرت امیر معاویہ ؓ کی شان میں بھی گستاخیرضا اکیڈمی ممبئی سمیت ، مولانا کلب جواد، خالد رشید فرنگی محلی، مولانا یعسوب عباس ودیگر کا فلم پر پابندی عائد کیے جانے کامطالبہ*

Wasim-Rizvi-700

لکھنو۔۲۰؍نومبر:ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کو لے کر ایک طرف وشو ہندو پریشد دھرم سبھا کی زور شور سے تیاریوں میں مصروف ہے وہیں مندر کی حمایت میں کھڑے شیعہ وقف بورڈ کے وسیم رضوی نے رام جنم بھومی پر فلم بنا دی ہے۔ وسیم رضوی نے سوموار کو اس فلم کاٹریلر لانچ کیا ہے۔ اس فلم کے ایک سین میں شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی نے یزید کے ساتھ ساتھ فاتح شام کاتب وحی حضرت امیر معاویہ ؓپر (نعوذباللہ )لعنت بھیجی ہے ۔ وسیم رضوی نے اس سین میں کہا ہے کہ ’لعنت ہو یزید اور اس کے باپ معاویہ پر جس کی پیروکاری نے تمہارے دلوں سے حق پرستی چھین لی‘۔ اس فلم میں وسیم رضوی بھی بندوق لے کر مسلمانوں پر حملہ کرتے نظر آرہے ہیں۔ وسیم رضوی نے ایک بار پھر دہرایا ہے کہ ہم اس جگہ کو مسجد نہیں مانتے ہیں، مندروں کو توڑ کر مسجد بنائی گئی ہے۔ ایودھیا میں رام جنم ہوا تھا دنیا اسے جانتی ہے۔ وسیم رضوی نے کہاکہ میں سمجھوتے کی کئی بار کوشش کی مگر کامیاب بھلے نہیں ہوا لیکن ناامید نہیں ہوں۔ اس نے کہاکہ میری یہ فلم ایودھیا میں کارسیکوں پر گولیاں چلانے سے شروع ہوتی ہے۔ اس فلم کے تعلق سے وسیم رضوی کا کہنا ہے کہ مسلمانوں میں شدت پسندی کے خلاف ہم نے آواز اُٹھائی ہے۔ اس فلم میں طلاق کا بھی مذاق اڑایاگیا ہے ۔مذہب اسلام کا مذاق اڑاتے ہوئے اس فلم کے ایک سین میں اداکارہ کہتی ہے ’ہم ایک ایسے مذہب میں پیدا ہوئے جہاں گھر کی بہو کے ساتھ حلالہ کے نام پر سسر ہم بستر ہوا کرتے ہیں‘۔ واضح رہے کہ اس فلم کے کہانی کار وسیم رضوی ہی ہیں ۔اس فلم میں سدانند شاستری کا اہم کردار ہے، ویلن کے رول میں مولانا جعفر خان کا نام ہے جو پاکستان کاا یجنٹ ہے، شرعی دفتر کھول کر ملک کے مسلمانوں کو بھڑکاتے ہیں لاسٹ میں اس کی اصلیت معلوم پڑجاتی ہے تو وہ ملک چھوڑ کر فرار ہوجاتا ہے۔ وسیم رضوی نے کہاکہ مخصوص مذہب کو فلم میں ٹارگیٹ نہیں کیاگیا ہے ایک اچھا اور برا کریکٹر دکھایاگیا ہے۔ وسیم رضوی نے کہاکہ مغلوں کے جد امجد بابر کے کچھ بھٹکے ہوئے حامی ۱۶؍ویں صدی میں ایودھیا میں میر باقی کے ذریعے بنائے گئے متنازعہ ڈھانچے کے نام پر ملک کا ماحول خراب کررہے ہیں۔ رضوی نے کہاکہ میر باقی شیعہ تھا، لہذا بابری مسجد شیعہ وقف بورڈ کی ملکیت ہے۔ بورڈ کے صدر ہونے کے ناطے میں اس زمین پر اپنا دعویٰ چھوڑ رہا ہوں اور مندر بنائے جانے کا مطالبہ کررہا ہوں۔ انہوں نے اس مسئلے کو لے کر دونوں فریق کو ساتھ لے کر متنازعہ مقام پر مندر بنانے او رلکھنو میں مسجد امن بنانے کا مشورہ دیا تھا لیکن ان کے مشورہ کو تسلیم نہیں کیاگیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ فلم رام جنم بھومی میں ۳۰ اکتوبر سے ۲؍نومبر ۱۹۹۰ کے درمیان ان وارداتوں کو بنیاد بناکر فلمایاگیا ہے جب کارسیکوں پر گولیاں چلائی گئی تھیں۔ رضوی نے دعویٰ کیا ہے کہ دسمبر میں ریلیز ہونے جارہی اس فلم میں کسی مذہب پر نشانہ نہیں سادھا گیا ہے بلکہ اس میں طلاق ثلاثہ اور حلالہ جیسی سماجی برائیوں کو ظاہر کیاگیا ہے۔ تقریباً سوا دو گھنٹے کی اس فلم میں منوج جوشی، گووند نامدیو، نازنین پٹنی اور راجویر سنگھ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہیں رضاا کیڈمی کے صدر الحاج محمد سعیدنوری صاحب کی قیادت میں ایک وفد نے آج جوائنٹ پولیس کمشنر دوین بھارتی سے ملاقات کرکے ’’رام جنم بھومی‘‘ نامی فلم کے ٹریلر کے خلاف ایک میمورنڈم پیش کیا جس میں مذکورہ ٹریلر کے متنازع حصوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس پر فوراً پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ۔ مذکورہ ٹریلر میں ہندو مسلم کشیدگی کے علاوہ شیعہ سنی اختلافات کو بھڑکانے کی نہایت مذموم کوشش کی گئی ہے ۔ وفد کے اراکین نے جناب دوین بھارتی کو اس شر پسندانہ کوشش کو ناکام کرنے کے لئے اس فلم کے تیار کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور اسے یو ٹیوب سے ہٹوانے کے لئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ جناب دوین بھارتی کی ہدایت پر رضا اکیڈمی کی جانب سے جے جے مارگ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی گئی ہے ۔ وفد میں مولانا خلیل الرحمٰن نوری ، مولانا اعجاز کشمیری ، قاری عبد الرحمٰن ضیائی ،ابراہیم طائی اور عرفان شیخ شریک تھے۔ ’’رام جنم بھومی‘‘ پر مسلم مذہبی رہنماؤں اور مسلم تنظیموں کے سربراہان نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔فلم پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے شیعہ مذہبی رہنما مولانا قلب جواد نقوی نے فلم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے منگل کو کہا کہ رضوی کو شیعوں نے پہلے ہی خارج کردیا ہے اوروہ آئے دن ایسے کام کر رہے ہیں جس سے وہ اسلام سے بھی خارج ہوگئے ہیں۔شیعہ عالم دین نے کہا کہ فلم کے ریلیز ہونے سے سماج میں نفرت پھیلے گی اور ایک مخصوص سیاسی پارٹی کو اس کا فائدہ پہونچے گا۔مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری و امام جمعہ مولانا کلب جواد نے کہا کہ جس طرح کا ٹریلر جاری کیا گیا ہے اس پر سخت کاروائی کی جانی چاہئےانہوں نے کہاکہ اگر حکومت اس ضمن میں کوئی اقدام نہیں کرتی ہے تو فلم کی ریلیز کو روکنے کے لیے عدالت کا دورازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کے ترجمان مولانا یعسوب عباس نے کہا کہ فلم کے ذریعہ ہندو ملسمانوں کو لڑانے کی ایک منظم کوشش کی جارہی ہے۔ اس طرح کی ناپاک سازش نہیں کی جانی چاہئے۔ بابری مسجد رام جنم بھومی کا تنازعہ عدالت میں زیر التوا ہے اور عدالت کا جو بھی فیصلہ کرے گی اسے دونوں فریق کے لئے قابل قبول ہوناچاہئے۔انہوں نے کہا کہ وسیم رضوی پروقف املاک کو غیر قانونی طور سے فروخت کرنے کا الزام ہونے کے باوجود کوئی کاروائی ننہیں کی جا رہی ہے جس سے محسوس ہوتاہے کہ وسیم رضوی کو حکومت کا پورا تعاون حاصل ہے اور وہ حکومت کے اشارے پر کام کررہے ہیں۔امام عید گاہ خالد رشید فرنگی محلی نے فلم اور وسیم رضوی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فلم قابل اعتراض ہے اوریہ رضوی کی سماجی ہم آہنگی کونقصان پہنچانے اور نفرت پھیلانے کی ایک کوشش ہے۔ فلم کے ٹریلر میں جس طرح سے طلاق اور حلالہ کو فلمایا گیا ہے وہ غیر اسلامی اور غیر شرعی ہے جس کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔مولانا نے کہا کہ ٹریلر میں اسلامی ہستیوں کو لیکر جو غلط الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ وہ ناقابل برداشت ہے ۔ ایسے کام اور اس طرح کی فلموں کوکسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔وہیں الامام ویلفیئر اسوسی ایشن نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو میمورنڈم دے کر فلم کے ریلیز پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔الامام ویلفیئر اسوسیشن کے صدر عمران صدیقی نے وزیر اعلی کو میمورنڈم بھیج کر فلم کے ریلیز پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وسیم رضوی اس طرح سے کام کررہے ہیں کہ ریاست میں لاقانونیت کا بول بالا ہو اور باربار قابل اعتراض بیانوں سے مسلماوں کی جذبات کو مجروح کررہے ہیں۔سابق کابینی وزیر و سماجوادی کے قد آور لیڈ محمد اعظم خان کے خاص صلاح کار رہےوسیم رضوی کے اس کام پر خان کے بیٹے اور ممبر اسمبلی عبداللہ اعظم نے کہا کہ وسیم رضوی ایسا ایک سازش کے تحت کر رہے ہیں۔عبداللہ نے کہا کہ کئی ریاستوں میں ہو رہے اسمبلی انتخابات کو دیکھتے ہوئے بی جے پی مختلف طریقوں سے مندر۔ مسجد تنازعہ کو ہوا دینے کی کوشش کرہی ہے۔فلم تنازعہ پر بی جے پی لیڈر عمیل شمشی کا کہنا ہے کہ فلم بناناوسیم رضوی کا ذاتی معاملہ ہے۔ فلم اگر ملک کےاتحاد اور آپسی بھائی چارے کے خلاف ہے تو ہو اس کی سخت لفظوں میں مذمت کرتے ہیں۔ان کے مطابق فلم میں اگر ایسا کچھ ہے تواسے قانونی طور پر نپٹا جائے گا۔







اپنی رائے یہاں لکھیں