ہندوستان کے سابق کرکٹر وسیم جعفر نے ریاست اتراکھنڈ کی کرکٹ ٹیم کے کوچ کی حیثیت سے استعفی دے دیا ہے کیونکہ ان کے اوپرکھلاڑیوں کے ساتھ مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک کرنے کےالزامات لگائے گئے تھے جن کی انہوں نے سخت الفاظ میں تردید کی ہے۔

وسیم جعفر نے کرکٹ ایسوسی ایشن آف اتراکھنڈ یعنی سی اے یو پر دخل اندازی کا الزام لگایا تو میڈیا رپورٹس کے مطابق کرکٹ ایسوسی ایشن آف اتراکھنڈ کے سیکرٹری ماہم ورما نے وسیم جعفر پر ٹیم میں مذہبی بنیادوں پر امتیاز برتنے اور فیلڈ میں مولویوں کو مدعو کرنے جیسے الزمات لگائے۔ ساتھ میں وسیم جعفر پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ انھوں نے امتیازی سلوک کرتے ہوئے اقبال نامی کھلاڑی کو ٹیم کا کپتان مقرر کیا۔

ان الزامات کے بعد اپنے ٹویٹ میں جعفر نے لکھا ’میں نے جے بستا کو کپتان بنانے کی صلاح دی تھی لیکن سی اے یو کے حکام نے اقبال کی حمایت کی۔ میں نے مولویوں کو نہیں بلایا۔ میں نے استعفیٰ دیا کیونکہ سلیکٹر اور سیکرٹری ان کھلاڑیوں کو بڑھاوا دے رہے ہیں جو قابل نہیں ہیں۔ ٹیم سکھ برادری کا ایک نعرہ لگاتی تھی، میں نے مشورہ دیا کہ اس کی جگہ ’گو اتراکھنڈ‘ کا نعرہ لگایا جا سکتا ہے۔‘