• انت پرکاش بی بی سی

انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق سپنر انیل کمبلے نے بدھ کو ریاست اتراکھنڈ کی کرکٹ ٹیم میں مبینہ طور پر مذہب کے نام پر تفریق پھیلانے کے الزام کا سامنا کرنے والے سابق انڈین کرکٹر وسیم جعفر کی حمایت میں ٹویٹ کیا تھا۔

42 سالہ وسیم جعفر انڈیا کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ کھیل چکے ہیں۔

وسیم جعفر نے کچھ دن پہلے کھلاڑیوں کی سلیکشن پر کرکٹ بورڈ کے حکام کے ساتھ اختلافات کے بعد کوچ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد وسیم جعفر پر طرح طرح کے الزامات سامنے آئے جس میں ٹیم میں مذہبی بنیادوں پر امتیاز برتنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔

استعفیٰ دینے کے بعد وسیم جعفر نے جمعرات کو اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایسے عہدے کا کیا فائدہ، جب کوچ کے ساتھ بدسلوکی کی جائے اور اس کی سفارشات کو نظر اندز کیا جائے۔

جعفر نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خود پر مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے الزامات کی تردید کی ہے۔

اس کے بعد وسیم جعفر اور کرکٹ ایسوسی ایشن آف اترا کھنڈ کے درمیان اس تنازع میں عرفان پٹھان اور انیل کمبلے جیسے انڈین کرکٹر بھی شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے جعفر کی حمایت کی ہے۔

کھلاڑیوں کے علاوہ کرکٹ دیکھنے اور سمجھنے والے صحافیوں اور ماہریں نے بھی سوشل میڈیا پر وسیم جعفر کی حمایت کی ہے۔ ان لوگوں نے کہا ہے کہ ’وسیم جعفر کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اس کا نقصان اترا کھنڈ کی کرکٹ ٹیم کو بھگتنا پڑے گا۔‘

لیکن کرکٹ ایسوسی ایشن آف اتراکھنڈ کے سیکرٹری مہم ورما کا موقف ہے کہ وسیم جعفر پر لگائے جا رہے تمام الزامات ’بےبنیاد‘ ہیں۔

جب کرکٹ بورڈ کا موقف بھی وسیم جعفر کے حق میں ہے تو ایسے میں سوال یہ ہے کہ آخر وسیم جعفر پر ٹیم کو ’مذہبی رنگ دینے، مسلمان کھلاڑیوں کو ترجیح دینے اور ڈریسنگ روم میں مولویوں کو بلانے‘ کے الزامات کہاں سے شروع ہوئے؟

اس سوال کے جواب سے پہلے ایک نظر ان الزامات پر ڈالتے ہیں جو جعفر پر لگائے گئے ہیں۔

مذہبی بنیادوں پر امتیاز کے الزامات

اترا کھنڈ کرکٹ ٹیم کے کوچ کے طور پر استعفی دینے کے بعد ان پر مذہب کے نام پر تفریق پھیلانے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ مقامی میڈیا میں اس بارے میں رپورٹس شائع ہوئیں اور وسیم جعفر کے رد عمل کے بعد معاملے نے طول پکڑنا شروع کر دیا۔

وسیم جعفر نے کرکٹ ایسوسی ایشن آف اتراکھنڈ یا سی اے یو پر دخل اندازی کا الزام لگایا تو میڈیا رپورٹس کے مطابق کرکٹ ایسوسی ایشن آف اتراکھنڈ کے سیکرٹری ماہم ورما نے وسیم جعفر پر ٹیم میں مذہبی بنیادوں پر امتیاز برتنے اور فیلڈ میں مولویوں کو مدعو کرنے جیسے الزمات لگائے۔

وسیم جعفر پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ انھوں نے امتیازی سلوک کرتے ہوئے اقبال نامی کھلاڑی کو ٹیم کا کپتان مقرر کیا۔

ان الزامات کے بعد اپنی ٹویٹ میں جعفر نے لکھا ’میں نے جے بستا کو کپتان بنانے کی صلاح دی تھی لیکن سی اے یو کے حکام نے اقبال کی حمایت کی۔ میں نے مولویوں کو نہیں بلایا۔ میں نے استعفیٰ دیا کیونکہ سلیکٹر اور سیکرٹری ان کھلاڑیوں کو بڑھاوا دے رہے ہیں جو قابل نہیں ہیں۔ ٹیم سکھ برادری کا ایک نعرہ لگاتی تھی، میں نے مشورہ دیا کہ اس کی جگہ ’گو اتراکھنڈ‘ کا نعرہ لگایا جا سکتا ہے۔‘

وسیم جعفر کا موقف

 اپنے خلاف مذہبی بنیادوں پر امتیاز کے الزامات پر اے این ںئی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو وہ استعفی نہ دیتے بلکہ انہیں عہدے سے ہٹا دیا جاتا۔

انھوں نے کہا ’یہ بہت افسوس ناک ہے کہ مجھے یہاں بیٹھ کر مذہبی بنیادوں پر امتیاز کے بارے میں بات کرنی پڑ رہی ہے۔ ایک شخص جو پندرہ بیس سال سے کرکٹ کھیل رہا ہے، اسے یہ سب سننا پڑ رہا ہے، یہ بےبنیاد الزام ہیں۔ یہ دیگر مسائل کو چھپانے کی کوشش ہے۔ میں نے عزت کے ساتھ کرکٹ کھیلی ہے۔ میں خوش نہیں تھا، اس لیے میں نے استعفیٰ دیا۔ اگر میں فرقہ پرست ہوتا تو مجھے نکال دیا جاتا۔‘

استعفیٰ دینے کے بعد جعفر نے، جو کہ خود ایک فرسٹ کلاس کرکٹر رہ چکے ہیں، کہا تھا کہ ’اس عہدے پر رہنے کا کیا فائدہ جب کوچ کے ساتھ بدسلوکی کی جائے اور اس کی سفارشات کو نظر انداز کیا جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ اپنے کوچ کے عہدے کے بارے میں نہایت سنجیدہ تھے، یہاں تک کہ انھوں نے بنگلہ دیشی ٹیم کے بیٹنگ کوچ کے عہدے سے بھی اسی وجہ سے انکار کیا تھا۔کرکٹ ایسوسی ایشن کا موقف: وسیم کے خلاف کوئی باضابطہ شکایت نہیں

بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کرکٹ ایسوسی ایشن آف اتراکھنڈ (سی اے یو) کے سیکرٹری ماہم ورما نے وسیم جعفر سے متعلق میڈیا پر سامنے آنے والے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا ’مجھے بھی اس بارے میں اطلاعات اخبار سے ہی ملی ہیں، اور یہ پوری طرح سے بےبنیاد الزام ہیں۔ اگر وسیم جعفر اس طرح کے شخص ہوتے تو انہیں میں کوچ کے طور پر کیوں لے کر آتا؟وہ ایسے شخص نہیں ہیں۔‘

بی بی سی ہندی نے ماہم ورما سے ہوچھا کہ کیا انھوں نے کبھی خود جعفر کو ایسا کچھ کرتے ہوئے دیکھا ہے اور کیا ٹیم کی طرف سے ان کے اقدامات کی کبھی مخالفت کی گئی ہے؟

اس پر ماہم ورما نے کہا ’میں ایسے کسی بھی واقع کا گواہ نہیں رہا ہوں۔ میں نے یہ سب اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا اور نہ ہی اپنے کانوں سے سنا ہے۔‘

اس کے بعد جب بی بی سی نے ماہم ورما سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس وسیم جعفر کے خلاف کھلاڑیوں یا سپورٹ سٹاف کی طرف سے کسی طرح کی کوئی تحریری شکایت درج کی گئی ہے، تو ماہم ورما نے کہا ’ہمارے پاس اب تک کسی کی طرف سے کوئی شکایت درج نہیں کرائی گئی ہے۔‘

کرکٹ ایسوسی ایشن آف اترا کھنڈ کے خزانچی پرتھوی سنگھ نیگی نے بھی بی بی سی کو بتایا کہ نو فروری تک وسیم کے خلاف کسی طرح کی کوئی شکایت درج نہیں کرائی گئی ہے۔

انھوں نے کہا ’یہ بہت افسوس ناک ہے۔ ایسا ہونے کا سوال ہی نہیں اٹھتا کیونکہ اگر ایسا ہوا ہوتا تو ایپیکس کاؤنسل میں اس بارے میں شکایت درج کرائی گئی ہوتی، جو نو فروری تک نہیں کرائی گئی ہے۔ میں کاؤنسل کا رکن ہوں اور مجھے ایسی کسی شکایت کا علم نہیں ہے۔‘

پھر ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر وسیم جعفر کے خلاف کوئی شکایت درج ہی نہیں کرائی گئی اور ماہم ورما نے وسیم جعفر کے خلاف الزامات نہیں لگائے، تو پھر کس نے لگائے؟ یہاں پر کہانی میں آتے ہیں نونیت مشرا۔

نونیت مشرا کون ہے؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ماہم ورما نے اتراکھنڈ ٹیم کے مینیجر نونیت مشرا کا ذکر کیا۔ ماہم ورما نے کہا ’یہ بیان ہمارے ٹیم مینیجر نونیت مشرا کی طرف سے دیا گیا ہے، میں نے ان سے اس بارے میں تحریری جواب طلب کیا ہے کہ انھوں نے کیا دیکھا اور جب یہ سب کچھ ہوا تو اس بارے میں مجھے اطلاع کیوں نہیں دی گئی۔‘

نونیت مشرا وہ شخص ہیں جو بظاہر اس پورے تنازع کے مرکز میں نظر آتے ہیں۔ ماہم ورما کے مطابق نونیت مشرا نے ہی سب سے پہلے میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ بیان دیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نونیت مشرا نے کہا ’میرے پاس مقامی میڈیا کے ایک رپورٹر کا فون آیا تھا، جس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا چار پانچ بار مولوی آئے تھے، تو میں نے جواب میں کہا کہ چار پانچ بار نہیں صرف ایک دو بار آئے تھے۔ میں نے اس سے آگے ایک لفظ نہیں کہا ہے۔‘

بی بی سی نے جب نونیت مشرا سے پوچھا کہ اگر انھوں نے یہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا تو انھوں نے ایپیکس کاونسل میں شکایت درج کیوں نہیں کرائی، اس پر انھوں نے کہا کہ ’دورہ ختم ہونے کے بعد اپنی رپورٹ میں یہ ساری بات ڈالتے لیکن ابھی کیسے شکایت کر سکتے تھے۔‘

بی بی سی نے نونیت مشرا سے یہ بھی پوچھا کہ کیا انھوں نے میڈیا کو یہ بھی بتایا تھا کہ وسیم جعفر مبینہ طور پر ہندو دیوی دیوتاؤں کے نعروں کے بجائے ٹیم کو ’اسلامی‘ بنا رہے تھے؟

اس سوال کے جواب میں نونیت مشرا کہتے ہیں کہ انھوں نے اس طرح کی باتیں میڈیا سے نہیں کیں۔

 42 سالہ وسیم جعفر (دائیں) نے انڈیا کی طرف سے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ فروری 2000 میں ممبئی میں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلا تھا اور آخری ٹیسٹ میچ بھی اسی ٹیم کے خلاف کانپور میں کھیلا تھا۔

ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ جب کرکٹ ایسوسی ایشن آف اتراکھنڈ وسیم جعفر کے خلاف لگے الزامات سے دامن جھاڑتی ہوئی نظر آ رہی ہے تو اس پورے تنازع کی جڑ کون ہے؟

کیا کرکٹ ایسوسی ایشن آف اتراکھنڈ اس اخبار کے خلاف کارروائی کرے گی جس میں یہ الزامات شائع ہوئے؟ یا پھر کیا وہ اخبار اس ریکارڈنگ کو منظر عام پر لائے گا جس میں کرکٹ ایسوسی ایشن آف اتراکھنڈ کے عہدہ داروں نے مبینہ طور پر وسیم جعفر کے خلاف الزامات لگائے؟

کیونکہ ان مبینہ الزامات کی بنا پر وسیم جعفر کو ٹرول کیا جا رہا ہے۔ماضی میں وسیم جعفر کے کوچ رہنے والے سابق انڈین کھلاڑی کرشن دھاوری اسے ایک افسوس ناک لمحہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں ’وسیم اس طرح کے لوگوں جیسا نہیں ہے جو اس طرح کا کام کریں۔ کرکٹ کے بارے میں وہ بہت ہی ایمان دار رہے ہیں۔ انھوں نے انڈیا اور ممبئی کی نمائندگی کی ہے۔ وہ صرف اپنی ٹیم کے لیے بہتریں کارکردگی چاہتے ہیں۔

’کرکٹ میں کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ کرکٹ اپنے آپ میں ایک مذہب ہے۔ انڈیا میں جب سے کرکٹ شروع ہوئی ہے تب سے سبھی مذاہب کے لوگ کھیلتے آئے ہیں۔ اور انڈیا میں اس بنا پر ترجیح نہیں دی جاتی، اگر دی جاتی تو نواب پٹودی، مشتاق علی، اور اس سے پہلے افتخار خان علی پٹودی اس سطح پر کرکٹ نہیں کھیل پاتے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں ’اور میں وسیم کو بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں، جب وسیم ایک کھلاڑی کے طور پر کھیل رہے تھے، تو میں ان کا کوچ تھا۔ ایسے میں، میں وسیم کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ ان لوگوں جیسے نہیں ہیں۔‘

وسیم جعفر کے کرکٹ پر گہری نظر رکھنے والے سپورٹس صحافی وجے لوکپلی کا خیال ہے کہ اس تنازع سے وسیم جعفر کی سماجی حیثیت اور ساکھ کو جو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ کیسے کیا جائے گا۔

وہ کہتے ہیں ’کئی لوگ ان الزامات کو سچ مانیں گے، یہ کتنے لوگ پڑھیں گے کہ وسیم جعفر نے کیا کہا ہے۔ لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ کھلاڑیوں پر اس طرح کے الزامات لگانا بہت ہی غلط بات ہے۔‘

وسیم جعفر کے رویے سے متعلق الزامات

کچھ عرصہ پہلے اتراکھنڈ ٹیم کے کوچ بننے والے وسیم جعفر نے ایسوسی ایشن کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے اپنے عہدے سی استعفی دے دیا ہے۔

ماہم ورما سے لے کر نونیت مشرا تک وسیم جعفر پر یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ وہ ان سے ’عزت سے بات نہیں کرتے تھے‘۔ وسیم جعفر نے ٹیم انتظامیہ سے متعلق تمام الزامات پر اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔

خبررساں ادارے اے این آئی نے رپورٹ کیا تھا کہ کرکٹ ایسوسی ایشن آف اتراکھنڈ (سی اے یو) کے سیکرٹری نے الزام لگایا ہے کہ جعفر نے کئی بار ان کے ساتھ ’بدسلوکی‘ کی تھی اور ’کئی بار وہ چاہتے تھے کہ سلیکشن کمیٹی ان کی ہر بات مانے‘۔

انھوں نے کہا ’وسیم کو کئی مسائل تھے، وہ جو بھی کہہ رہے ہیں، غلط کہہ رہے ہیں۔ ان کی باتوں میں سچائی نہیں ہے۔ ہم نے ان کے کہنے پر کئی کام کیے۔ انھوں نے سلیکشن میچ بھی کروایا۔ جعفر کہتے تھے کہ اگر چیزیں ان کے مطابق نہیں ہوئیں تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ٹرینر اور بولنگ کوچ ان کی پسند کے ہوں گے، جس پر ہم راضی ہو گئے۔ سلیکشن کمیٹی نے کہا کہ انہیں جو ٹیم چاہیے ہم دیں گے لیکن اگر کارکردگی اچھی نہیں رہی تو ایکشن لیا جائے گا۔‘

خبر رسان ادارے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے جعفر نے کہا ’یہ دل توڑنے والی بات ہے۔ میں نے پوری لگن سے کام کیا اور اتراکھنڈ کے کوچ کے فرائض نبھائے۔ میں ہمیشہ صحیح کھلاڑیوں کو آگے لانا چاہتا تھا۔ مجھے لگنے لگا تھا کہ مجھے ہر چھوٹی چیز کے لیے لڑنا پڑ رہا تھا۔ سلیکٹرز کا اتنا دخل تھا کہ کئی بار وہ کھلاڑی جو قابل نہیں ہیں، انھیں آگے لایا جا رہا تھا۔’

انھوں نے مزید کہا کہ ‘آخری دنوں میں ان لوگوں نے وجے ہزارے ٹرافی کے لیے بنا مجھے بتائے ٹیم سلیکٹ کر لی۔ انھوں نے کپتان بدل دیا، گیارہ کھلاڑی بدل دیے، اگر چیزیں ایسے چلیں گی تو کوئی کیسے کام کرے؟ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ مجھے ٹیم کو سلیکٹ کرنا ہے، لیکن اگر آپ میری رائے نہیں لیں گے، تو پھر میرے وہاں ہونے کا کیا مطلب ہے؟’

کرکٹ مینیجمنٹ سے جڑا تنازع

انڈین کرکٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب کوچ اور کرکٹ حکام کے درمیان تنازع کھڑا ہوا ہو۔ تاہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اس سے پہلے کبھی کسی کوچ کو اس طرح کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے؟

سپورٹس صحافی لوکپلی کا خیال ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا ہے کہ کوچ پر اس طرح کے الزامات لگائے گئے ہوں۔

وہ کہتے ہیں ’ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ کوچ اور کرکٹ حکام کے درمیان ٹکراؤ ہوا ہو۔ کیونکہ کرکٹ انتظامیہ ہمیشہ چاہتی ہے کہ ان کے کسی چہیتے شخص کو ٹیم میں شامل کر دیا جائے۔ یہ ہم ہمیشہ سنتے ہیں اور ہوتا آیا ہے۔ کریگ چیپل جیسے کوچ کے بی سی سی آئی سے اختلافات ہو گئے تھے۔ ٹیم کے کھلاڑیوں نے ان کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔ اس کے بعد ان کو نکالا گیا تھا۔

’لیکن اب جو کچھ سامنے آ رہا ہے کہ کسی اخبار کا فون آگیا اور یہ سب ہو گیا۔ ارے بھائی، سیکرٹری تب کیا کر رہے تھے جب یہ سب ہو رہا تھا؟ اب جب انھوں نے استعفیٰ دے دیا ہے تب آپ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔ سب سے پہلے تو انتظامیہ کو ہٹایا جانا چاہیے کیونکہ وہ اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام رہی ہے۔‘