نواب علی اختر

قرآن کریم کے منکر اور حبیب خدا حضرت محمد مصطفیؐ کی ذات پاک کے تعلق سے اپنی دریدہ دہنی کا ثبوت دینے والے وسیم مرتد کو اس کے کئے کی سزا ملنا شروع ہوگئی ہے۔ حال ہی میں اختتام پذیر ہوئے یوپی شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کا انتخاب جہاں علی زیدی عرف زین کے لیے فتح اور کامرانی کا اعلان ہے، وہیں وسیم اور اس جیسے ناہنجار افراد کے لیے باعث عبرت بھی ہے۔ حالانکہ شیعہ وقف بورڈ کی چیئرمینی کی چاہ میں وسیم مرتد نے پوری ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا تھا مگر اس معاملے میں انتظامیہ اور حکومت سے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے تیار کچھ ہمدردان قوم اور شیطانوں کو بھی زمین پر ناک رگڑنے کے لیے مجبور کر دینے والے افراد نے کانٹوں بھری راہ پر مسکراتے ہوئے چل کر شیعہ وقف بورڈ کو ایک لامذہب سے آزاد کرانے میں کامیابی حاصل کی۔

تاریخ پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو پتہ چلے گا کہ کلام اللہ اور نبی آخرالزماںؐ کی توہین کرنے کی جسارت کرنے والے شیطان ہر زمانے میں سر اٹھاتے رہے ہیں مگر ان شیطانوں کے لیے فدائین اسلام بھی ہمیشہ ابابیل ثابت ہوئے ہیں، جنہوں نے دیر سے ہی صحیح، منکر قرآن اور شاتم رسولؐ کو ان کے اصل مقام تک پہنچا کر ہی دم لیا ہے۔ تسلیمہ نسرین، سلمان رشدی، وسیم مرتد اورلارس ولکس تو بہت معمولی نام ہیں جو اپنے انجام کو پہنچے ہیں۔ ایسے لوگوں کی ایک طویل فہرست ہوسکتی ہے مگر میرا مقصد خاص وسیم جیسے موجودہ قرآن کے منکر اور شاتم رسولؐ کو آئینہ دکھانا ہے جو دنیاوی خواہشات میں اندھے ہوکر اپنے نطفے کو بھی غلط ثابت کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں نے اس دنیائے فانی کو ہی اپنا سب کچھ سمجھ لیا ہے جو شیطان کیا کرتا تھا۔

اس پورے معاملے میں وسیم کو ایک مہرہ کہا جاسکتا ہے جسے مسلمانوں کے درمیان رہ کر اسلام اور مبلغین اسلام کے خلاف زہرافشانی کرکے ملک کی اس سب سے بڑی اقلیت کو مشتعل کرنے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے اور یہ وہی کر رہا ہے جو اس کے ’مائی باپ‘ کہہ رہے ہیں۔ وہ جو کچھ کر رہا ہے وہ بڑی سازش کا حصہ ہے اور یہ سازش بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے۔ اس کا ثبوت وسیم جیسے لوگوں کے خلاف کسی طرح کی کارروائی کا نہ ہونا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ جس ملک میں سوشل میڈیا پر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پر تنقید کرنے کے لیے جیل بھیج دیا جاتا ہے وہاں ایک قدیم اور بڑے مذہب اور اس کے محافظ کو بدنام کرنے والے کو کھلا گھومنے کی اجازت دی جاتی ہے جو شرانگیزی کرکے ملک کی اقلیت اور اکثریت میں کشت وخون پرآمادہ ہے۔

آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ جس شخص کی وجہ سے ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے اس کو آزاد گھومنے دیا جا رہا ہے؟ سبھی جانتے ہیں کہ یوپی شیعہ سینٹرل وقف بورڈ میں خرد برد کی شکایات کے تحت وسیم کے خلاف متعدد ایف آئی آر درج ہیں یہاں تک کہ وقف بورڈ میں بدعنوانی کی شکایت پر وسیم کے خلاف سی بی آئی جانچ بھی چل رہی ہے، باوجود اس کے موجودہ حکومتیں ایسے لوگوں کی پناہ گاہیں بنی ہوئی ہیں۔ حکومتوں کی سرد مہری سے کیا یہ سمجھا جائے کہ چند ماہ بعد کئی ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں خاص طور پر فرقہ وارانہ طور سے حساس اترپردیش کے انتخابات حکمراں بی جے پی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اسی لیے پولرائزیشن کی خاطر وسیم کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ اس نے جن لوگوں کو اپنی چتا جلانے کا ٹھیکہ دیا ہے وہ ناراض نہ ہوجائیں؟۔

وطن عزیز کے نام نہاد عوامی نمائندوں کی سیاست کا بھی جواب نہیں۔ یہ لوگ تعلیم سستی کرنے، سی اے اے واپس لینے کا مطالبہ کرنے و رزرعی قوانین کی مخالفت کرنے والے کسانوں کو خاموش کرنے کے لیے جیل بھیج دیتے ہیں مگر ایک بڑے مذہب کے پیروکاروں کی دل آزاری ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی ہے۔ کچھ دیر کے لیے ہم مان لیتے ہیں کہ وسیم کی شیطنت صرف مسلمانوں سے جڑا معاملہ ہے، اس کا دوسرے مذاہب سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس لیے بی جے پی حکومت چٹخارے لے رہی ہے مگر کنگنا رناوت تو کھلے عام 1947 کی آزادی کو بھیک بتا کر ہزاروں مجاہدین آزادی کی توہین کر رہی ہے۔ اس اداکارہ کے خلاف غداری کے تحت تو کارروائی کا جواز بنتا ہے مگر حکومت تو ایسے لوگوں کو سیکورٹی فراہم کرکے مزید زہر افشانی کرنے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔

آنے والے انتخابی موسم میں کچھ اور بھی ناخوشگوار چیزیں ہوسکتی ہیں مگر ان پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ موجودہ حکومت کے رویئے سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ جو بھی کرتے ہیں، سیاسی نفع ونقصان کو ملحوظ رکھ کر کرتے ہیں۔ ان کے ہر فیصلے میں نفع ونقصان کا بڑاعمل دخل ہوتا ہے۔ وسیم اور کنگنا جیسے لوگوں کے خلاف فی الحال کسی بھی طرح کی کارروائی کرنے کا مطالبہ فضول ہے کیونکہ ان لوگوں کی حرکتیں فرقہ پرستوں کے لیے جڑی بوٹی کا کام کر رہی ہیں اور جب تک یہ لوگ ایسا کرتے رہیں گے وہ حکومتوں کے منظور نظر بنے رہیں گے اور جس دن زبانیں بند ہوں گی اسی دن یہ لوگ اپنے انجام کو پہنچا دیئے جائیں گے اور بعید نہیں کہ انتخابات ختم ہوتے ہی وسیم، کنگنا جیسے لوگ کچھ دنوں کے لئے سہی، سلاخوں کے پیچھے نظر آئیں، مگر فی الحال ایسا سوچنا خام خیالی ہوگا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔