ڈھاکہ : وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ بنگلہ دیش پر وزیراعظم شیخ حسینہ نے حضرت شاہ جلال بین الاقوامی ایرپورٹ پر خیرمقدم کیا ۔ شیخ حسینہ کی دعوت پر وزیراعظم مودی بنگلہ دیش کے قیام کی گولڈن جوبلی اور بنگا بندھو شیخ مجیب الرحمن کی صدسالہ تقریبات میں شرکت کیلئے یہاں پہنچے ہیں ۔ وزیراعظم مودی کے دورہ کے خلاف ڈھاکہ کی جامع مسجد میں شدید احتجاج کیا گیا ۔ پولیس نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیاس شیل برسائے اور ربر کی گولیاں چلائیں جس میں 4 افراد ہلاک اور کئی افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ مظاہرین اور عہدیداروں کے درمیان جھڑپوں کے بعد احتجاجیوں کو منتشر کیا گیا ۔

ڈھاکہ کی بیت المکرم مسجد کے باہر نماز جمعہ کے بعد سینکڑوں افراد جمع ہوگئے اور مودی کے خلاف نعرے لگائے ۔ ایک گروپ نے مودی کے خلاف اپنے جوتے اور چپل لہراتے ہوئے احتجاج کیا ۔ دوسرے گروپ نے ان احتجاجیوں کو روکنے کی کوشش کی ۔ حکمراں عوامی لیگ پارٹی کے خلاف بھی جوتے دکھاتے ہوئے احتجاج کرنے کی کوشش کی گئی ۔ مودی کے دورہ کے دوران ڈھاکہ میں بدامنی پیدا ہوئی ۔ مقامی ٹی وی کی تصاویر میں بتایا گیا ہے کہ احتجاجیوں نے پولیس پر سنگباری بھی کی ۔ مسجد کے قریب پولیس کی بھاری جمعیت کو تعینات کیا گیا تھا ۔ پولیس ملازمین اور احتجاجیوں کے درمیان جھڑپ کے دوران صحافیوں کے بشمول 50 افراد زخمی ہوئے ۔ جنہیں ڈھاکہ میڈیکل کالج ہاسپٹل میں شریک کیا گیا ۔ وزیراعظم مودی گزشتہ سال کورونا وائرس کی وباءپھیلنے کے بعد سے پہلے بیرونی دو روزہ دورہ پر ڈھاکہ پہنچیں ہیں ۔ 10 روزہ تقاریب میں سری لنکا ، نیپال ، بھوٹان اور مالدیپ کے قائدین بھی شریک ہیں ۔ پولیس عہدیدار رفیق الاسلام نے کہا کہ ہم نے ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیاس شیل برسائے اور ربر کی گولیاں چلائیں ۔ یہ لوگ پولیس اسٹیشن میں گھس کر توڑ پھوڑ کرنے کی کوشش کررہے تھے ۔ چٹگانگ میں اسلامی گروپ نے مودی کے دورہ پر تنقید کی اور کہا کہ مودی ہندوستان میں ہندو ایجنڈے پر عمل کررہے ہیں ۔

ان کا دورہ بنگلہ دیش ہماری توہین ہے ۔ چٹگانگ میں ایک اور پولیس عہدیدار محمد علاءالدین نے کہا کہ فائرنگ میں زخمی ہونے والے 8 افراد کو دواخانہ میں شریک کیا گیا جن میں سے 4 افراد زخموں سے جانبر نہ ہوسکے ۔ احتجاج کے دوران ابتداءمیں 300 مظاہرین شریک تھے بعد ازاں 2000 طلباءبھی شامل ہوگئے ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے مودی حکومت کی کارروائیوں اور نفرت پھیلانے والی مذہبی کشیدگی کے خلاف کئی بنگلہ دیشیوں نے کہا کہ ہم مودی کے دورہ کے مخالف ہیں کیونکہ ان کی حکومت نے ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف کئی قوانین لائے ہیں اور انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنادیا ہے ۔ ہم مودی کو بنگلہ دیش میں دیکھنا نہیں چاہتے ۔ حفاظت اسلام تنظیم کے سکریٹری جنرل مولانا ممون الحق نے کہا کہ مودی جیسے لیڈر کو بنگلہ دیش کی آزادی کی 50 ویں سالگرہ میں شرکت کی اجازت نہیں دی جانی چاہئیے ۔ بنگلہ دیش اسٹوڈنٹس یونین کے صدر فیض اللہ نے کہا کہ نریندر مودی کی بنگلہ دیش کی تقریب میں شرکت جنگ آزادی کے جذبہ کے مغائر ہے ۔ احتجاجیوں نے ہندوستانی سرحدوں پر بنگلہ دیشیوں کی ہلاکت کے خلاف بھی غم و غصہ کا اظہار کیا ۔