وزیراعظم ترکیہ ایردوان اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان ملاقات

151

اسرائیلی وزیراعظم یائرلپیڈ کے دفتر کے ایک بیان کے مطابق وزیر اعظم اور ترکیہ صدر رجب طیب ایردوآن نے غزہ کی پٹی میں حماس کے زیر حراست اسرائیلیوں کی رہائی کے امکانات اور ان کے مستقبل کے بارے میں بات چیت کی۔ایردوآن اور لپیڈ کی ملاقات نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہوئی، جو کہ ایک ماہ کے طویل عرصے کے بعد اپنے ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کی واپسی کے بعد اہم پیش رفت قرار دی جاتی ہے۔ایردوآن نے 2008 کے بعد پہلی بار کسی اسرائیلی وزیر اعظم سے ملاقات کی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ "حماس” نے چار اسرائیلیوں کو حراست میں لیا ہوا ہے، جن میں دو فوجی بھی شامل ہیں۔ان کے بارے میں تل ابیب کا کہنا ہے کہ 2014 کی جنگ کے دوران مارے گئے تھےتاہم فلسطینی تحریک حماس نے ان کے زندہ یا مردہ ہونے کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ترکیہ کے صدر سے ملاقات کے دوران اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور "صدر ایردوآن کے انٹیلی جنس تعاون پر شکریہ ادا کیا۔گزشتہ مہینوں میں اسرائیل اور ترکیہ لے باہمی تعلقات میں گرمجوشی دیکھنے میں آئی ہے۔

ترک حکومت وفود تل ابیب جب کہ اسرائیلی صدر ترکیہ کا سرکاری دورہ کرچکے ہیں۔دونوں ملکوں نے17 اگست کو دو طرفہ سفارتی تعلقات کو مکمل طور پر معمول پر لانے اور سفیروں کی سطح پر واپسی کا اعلان کیا تھا۔دونوں ممالک کے درمیان تعلقات 2010 میں مرمرہ میں ترک بحری جہاز پر اسرائیلی کمانڈوز کی خونی حملے کے بعد کشیدہ ہو گئے تھے۔ یہ امدادی مشن غزہ کی پٹی تک انسانی امداد پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا اور یہودی ریاست کی طرف سے فلسطینی علاقے پر مسلط کردہ محاصرے کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں ایردوآن نے مشرقی یروشلم پر مشتمل ایک فلسطینی ریاست کے قیام کے مطالبے کا اعادہ کیا۔دوسری جانب ترک صدر نے کہا کہ نہ صرف خطے بلکہ اسرائیل، فلسطینی عوام اور ہمارے لیے مستقبل کے امن اور استحکام کی خاطر اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دینا ان کی خواہش ہے۔