جب رب پاک کی زات ہمیں کوئی حکم دیتی ہے تو اسے ماننا ہم پر ہر حال میں لازم ہوجاتا ہے۔ لیکن اللہ کا کوئی بھی حکم اس کے بندوں کے لئے مصلحت سے خالی نہیں ہوتا یہ الگ بات ہے کہ ہم حکم مان کر روحانی فائدے حاصل تو کرلیتے ہیں لیکن دنیاوی اور طبی فوائد پر غوروفکر نہیں کرتے۔ روزہ بھی ایک ایسا ہی فرض ہے جو سال میں ایک بار 30 دن کے لئے فرض کیا گیا ہے۔ رمضان کا چاند نظر آتے ہی پورے عالمِ اسلام پر نور کی چادر تنی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔مسلمانوں کا رہن سہن، جینے کا ڈھب ہی بدل جاتا ہے اس کے ساتھ ہی رمضان ہمارے لئے صحت کے ایسے خزانے لے کر آتا ہے جس کے اثرات پورے ایک سال تک باقی رہتے ہیں۔ ان فائدوں کی صداقت اس بات سے ثابت ہوتی ہے کہ ان پر تحقیق غیر مسلموں نے کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ کس طرح 30 دن کا روزہ رکھنا انسانی صحت کے لئے مفید ہے۔ یہ فوائد کیا ہیں آئیے دیکھتے ہیں

1- روزہ ذیابیطس کو کنٹرول کرنے میں مددگار ہے
ایک تحقیق کے مطابق شوگر کے تین مریضوں کو جب ہفتے میں تین دن روزے رکھوائے گئے تو ایک مہینے کے اندر ہی وہ اپنے مرض کو اس حد تک قابو کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ انسولین کا استعمال ترک کردیا اور دوسری دوائیں بھی پہلے کے مقابلے میں آدھی ہوگئیں۔ روزہ ٹائپ ٹو شوگر کے مریضوں کی صحت بہتر کرنے میں کافی مددگار ثابت ہوتا ہے کیونکہ روزہ کے دوران جسم میں گلوکوز کم بنتا ہے۔

2- جسم کو زہریلے مواد سے پاک کرتا ہے
ہمارے جسم میں بہت سی ایسی چیزیں بناتا ہے جن کی زائد مقدار جسم کے اندر زہر کا کام کرنے لگتی ہے۔ روزے میں چونکہ معدہ کا کام کم ہوجاتا ہے اس کے ساتھ ہی تمام جسم پر مسلسل کھانے کو ہضم کرنے کا بوجھ نہیں رہتا تو جسم ہماری اندرونی صفائی کرنے لگتا ہے جس سے اندر موجود تمام فاضل چیزیں خارج ہوجاتی ہیں۔

3- وزن کم کرنے میں مددگار
اگر روزے میں غیر ضروری اشیاء نہ کھائی جائیں تو یقیناً رمضان میں وزن کم کرنا انتہائی آسان ہے اور بہت سارے لوگ رمضان میں اپنا وزن کم کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں لیکن اس کے ضروری ہے کہ تیل اور چینی والی اشیاء سے گریز کیا جائے ویسے بھی روزہ کھانے پینے کا نہیں بلکہ تزکیہ نفس کا ہی نام ہے جو پورے رمضان ہی جاری رہتا ہے۔

4- کینسر کے خلیات ختم کرتا ہے
سارے دن بھوکے پیاسے رہنے کے بعد جب ایک مقررہ وقت پر افطار کیا جاتا ہے تو جسم خون کے سرخ ذرات پیدا کرتا ہے جس سے اینیمیا کے ساتھ ساتھ کینسر سے لڑنے میں بھی مدد ملتی ہے کیونکہ پرانے کینسر زدہ خلیات کی جگہ نیے خلیات لے لیتے ہیں۔ یوشینوری اوہسومی جنھیں طب کے شعبے میں نوبل پرائز سے نوازا گیا جب ان سے ان کی دریافت کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ انھوں نے کینسر سے بچنے کی احتیاط ڈھونڈھ لی ہے کینسر جسم کا سڑا گلا حصہ ہوتا ہے اور بھوکا رہنے کی صورت میں جب جسم کو کم غزائیت ملتی ہے تو جسم اس سڑے گلے حصے کو کھانا شروع کردیتا ہے اور یوں کینسر کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ یوشینوری کے مطابق سال میں 25 دن روزہ رکھنا اس سلسلے میں بہترین حل ہے۔

5- بڑھاپے کے اثرات کم کرتا ہے
جِلد کے ماہرین کے مطابق روزے کے دوران انسانی جسم میں ایسے ہارمونز حرکت میں آجاتے ہیں جو بڑھاپے کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں جس سے جِلد مضبوط ہوتی ہے اور جھریاں کم ہوتی ہیں۔

6- ناخن اور سر کے بالوں کی مضبوطی
روزہ بیکٹیریا کی افزائش روکتا ہے جس سے جسم اور جلد پر پھوڑے پھنسی نکلنا بند ہوجاتے ہی۔ طہارت اور باوضو رہنے سےجلد صاف اور چمکدار ہوجاتی ہے اس کے علاوہ ہارمونز سر کے بالوں اور ناخنوں کو چمکدار اور طاقت ور بناتے ہیں