واٹس ایپ نے متعارف کیے کمال کے نئے فیچرز : گروپ سے نکلنے پر کسی کو بھی ۔۔۔

1,527

واٹس ایپ کے مالکانہ حقوق رکھنے والی کمپنی میٹا نے واٹس ایپ صارفین کے لیے پرائیویسی کے نئے فیچرز کا اعلان کیا ہے۔نئے متعارف کروائے گئے فیچرز کے تحت صارفین ناصرف خاموشی سے (کسی کے علم میں لائے بغیر) گروپ چیٹس چھوڑ سکیں گے بلکہ انھیں یہ اختیار حاصل ہو گا کہ اُن کے آن لائن سٹیٹس کون دیکھ سکتا ہے اور کون نہیں۔ اسی طرح ‘ویو ونس’ فیچر کے تحت کوئی بھی صارف یہ تعین کر سکے گا کہ اس کے میسجز کا کوئی سکرین شاٹ نہ لے۔

میٹا کے چیف ایگزیکٹیو مارک زکربرگ نے کہا ہے کہ اس سے واٹس ایپ پر ہونے والی بات اور مسیجز بالکل ویسے ہی محفوظ ہو جائیں گے جیسا کہ ’دو افراد کے درمیان آمنے سامنے ہونے والی نجی گفتگو۔‘

واٹس ایپ کے یہ نئے فیچرز رواں ماہ میں دستیاب ہوں گے اور انھیں برطانیہ میں اسی ماہ شروع ہونے والی ایک عالمی مہم میں نمایاں کیا جائے گا۔

خاموشی سے گروپ چھوڑیے

واٹس ایپ کی موجودہ سیٹنگز کے تحت جب گروپ کا کوئی ممبر اپنے آپ کسی گروپ کو چھوڑتا ہے یا گروپ ایڈمن کی جانب سے اسے نکالا جاتا ہے تو اس کا نوٹیفیکیشن گروپ کے تمام ممبران تک پہنچ جاتا ہے۔

اگرچہ انفرادی چیٹس میں اس فیچر کو غیر فعال کرنے کے طریقے موجود ہیں تاہم کسی بھی واٹس ایپ گروپ کے ممبر کو خاموشی سے (بغیر کسی کے علم میں لائے) گروپ چھوڑنے کا آپشن اس وقت پیش نہیں کیا جاتا جب وہ کسی گروپ سے نکلنے کا بٹن دباتے ہیں۔

کسی بھی ممبر کے لیے کسی گروپ کو چھوڑ جانا یا ایڈمن کی جانب سے نکال دیے جانا بعض اوقات شرمندگی یا ڈرامے کا سبب بنتا ہے اور اس سب کو دیکھنے والوں میں تمام گروپ ممبر موجود ہوتے ہیں۔

واٹس ایپ پراڈکٹ کے سربراہ ایمی ورا کا کہنا ہے کہ اس سب کا مقصد ’مصنوعات کو ان خطوط پر استوار کرنا ہے جس کے تحت لوگوں کو اپنے پیغامات پر زیادہ کنٹرول اور رازداری برتنے کی سہولت دستیاب ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ نجی بات چیت کے لیےواٹس ایپ سب سے محفوظ جگہ ہے۔ اس پیمانے پر کوئی دوسری میسجنگ سروس اپنے صارفین کے پیغامات، میڈیا، صوتی پیغامات، ویڈیو کالز، اور چیٹ بیک ایپس کے لیے اس سطح کی سکیورٹی فراہم نہیں کرتی ہے۔‘

اس اپ ڈیٹ میں صارفین کو یہ اختیار بھی دیا جائے گا کہ وہ صرف مخصوص افراد (یا کسی کو بھی نہیں) کو اس بات کی اجازت دیں کہ وہ جان پائیں کہ آپ واٹس ایپ پر کب فعال ہیں۔

دی ایلن ٹورنگ انسٹیٹیوٹ کے ریسرچ ایسوسی ایٹ جینس وونگ نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’صارفین کو زیادہ کنٹرول دینا ہمیشہ اچھا لگتا ہے، صارفین کو اپنی بات چیت پر زیادہ کنٹرول کرنا پسند ہوتا ہے اور اس کی ضرورت بھی ہے۔‘