والدین اپنے بچوں کے روشن مستقبل کی صحیح منصوبہ بندی کرے: اسلم فیروز

298

مدکھیڑ(ناندیڑ) : (نامہ نگار) والدین اپنے بچوں کے روشن مستقبل کی صحیح پلاننگ کریں۔ اس طرح کا اظہار خیال معروف کیریئر کونسلر اسلم فیروز صاحب (نیشنل سیکریٹری، آئیٹا) نے کیا۔ وہ مدکھیڑ میں منعقدہ تعلیمی وتربیتی جلسہ برائے سرپرستان سے خطاب کر رہے تھے۔آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس ایسوسی ایشن آئیٹا مدکھیڑ کی جانب سے شہر کے نیا سبھا گرہ میں سرپرستوں کے لئے تعلیمی وتربیتی جلسہ بعنوان "اپنی اولاد کی تعلیمی بنیادیں مضبوط کیسے کریں” منعقد کیا گیا تھا۔

جس کی صدارت اسلم فیروز صاحب نے کی۔ جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر معروف عالمہ انصاری جبین صاحبہ موجود تھیں۔ اس موقع پر جناب اسلم فیروز صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ، جماعت اول تا بارویں تک کی تعلیم بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لئے سرپرست حضرات اس دوران بچوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیں تاکہ انکا مستقبل روشن ہو سکے۔ آپ نے کہا کے بچوں کی صلاحیت کو دھیان میں رکھتے ہوئے رہنمائی کریں نیز بڑے مقاصد طے کر کے انکی حصولیابی کے لئے مسلسل کوشش کریں۔ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت سے متعلق والدین وقت نکال کر اساتذہ سے ملاقات کرتے رہیں اور انسے رہنمائی حاصل کریں۔ نیز انہوں نے یہ بھی کہا کہ بچے جس میڈیم سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اس میڈیم کی زبان کو پختہ کریں۔

جلسہ کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ بعد ازاں عالمہ جبین صاحبہ نے بچوں کی تعلیم و تربیت میں ماں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں منصوبہ بند طریقے سے بچوں کی تربیت کریں اور انہیں عصری علوم کے ساتھ دینی علوم سے روشناس کرائیں ۔ پروگرام میں کثیر تعداد میں سرپرست موجود تھے۔ شرکاءکی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے مقررین نے تشفی بخش جوابات دئے۔اس موقع پر دسویں ، بارویں اور گریجویشن میں سال 2022میں نمایا کامیابی حاصل کرنے والے طلبائ وطالبات کی تہنیت کی گئی۔

واضح رہے کہ، تیسری تا چھٹی جماعت کے ایسے طلبہ جو پڑھائی میں کمزور ہیں انکے لئے 1 اکتوبر 2022 سے فاو¿نڈیشن کلاس شروع کی جا رہی ہے۔ اس سنہری موقع سے زیادہ سے زیادہ طلبہ استفادہ کریں اس طرح کی کی اپیل آئیٹا یونٹ مدکھیڑ کی جانب سے کی گئی۔جلسہ کی نظامت کے فرائض شیخ سمیر سر (سیکریٹری آئیٹا مدکھیڑ) نے بحسن وخوبی انجام دیے جبکہ معین الدین سر نے اظہار تشکر پیش کیا۔ اس طرح یہ پروگرام آئیٹا یونٹ مدکھیڑ کے تمام ممبران کی کاوشوں سے اختتام کو پہنچا۔