نیکر پہن کر فٹ بال کھیلنے والوں کو طالبان نے میدان سے نکال دیا

586

طالبان حکام نے وسطی صوبہ بامیان میں ایک فٹ بال میچ کو صرف اس لیے روک دیا کیوں کہ کھلاڑیوں نے ’غیر اسلامی‘ لباس یعنی نیکر پہن رکھے تھے۔

یہ واقعہ رواں ہفتے پیش آیا جہاں مقامی ذرائع نے نشریاتی ادارے ’آمو ٹی وی‘ کو بتایا کہ طالبان نے پیر کو بامیان شہر کے شاہد مزاری سٹیڈیم میں دو ٹیموں کے درمیان فٹ بال میچ میں خلل ڈالا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ طالبان فورسز نے میچ روکنے کے بعد کھلاڑیوں سے کہا کہ ایسا اس لیے کیا گیا ہے کیوں کہ انہوں نے اسلامی ڈریس کوڈ کی پاسداری نہیں کی۔

بدھ کو طالبان نے طالبات کو یونیورسٹی میں داخل ہونے سے روک دیا تھا، جب کہ منگل کو طالبان حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں افغانستان کی تمام سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں سے کہا گیا تھا کہ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا جائے۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر سے طالبان پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

2021 میں افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے سے قبل ملک میں خواتین کی فٹ بال ٹیم بھی موجود تھی اور اس نے کئی بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیا۔

سٹیڈیم میں موجود ایک عینی شاہد نے آمو ٹی وی کو بتایا کہ طالبان کی وزارت ’امر بالمعروف او نہی عن المنکر‘ (اخلاقی پولیس) کے عہدیداروں نے کھیل روکنے کے بعد تمام کھلاڑیوں کو ان کے ’غیر اسلامی لباس‘ کی وجہ سے سٹیڈیم سے نکال دیا۔

ان نکالے گئے کھلاڑیوں نے فٹبال کا آفیشل لباس یعنی سپورٹس شرٹس، نیکر، موزے اور جوتے پہن رکھے تھے۔

ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ طالبان کے ایک رکن نے سٹیڈیم میں داخل ہونے پر چیختے ہوئے کہا: ’تم اسلامی لباس کی پابندی کیوں نہیں کر رہے؟ تم اپنے جسموں کو ڈھانپ لو۔‘

اس کے بعد کھلاڑیوں کو سٹیڈیم سے نکال دیا گیا اور انہیں کھیل جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ طالبان حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کھلاڑی اب غیر اسلامی لباس میں فٹ بال نہیں کھیل سکتے۔