نیپال: پراچند کے وزیراعظم بننے سے بھارت فکرمند

612

نیپال میں جاری سیاسی تعطل کے درمیان پشپ کمل دہل عرف ‘پراچند’ آج نئے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال رہے ہیں۔ ماؤ نواز تحریک کے رہنما کی اقتدار میں واپسی پہلے سے ہی پیچیدہ تعلقات سے دوچار بھارت کے لیے فکرمندی کا باعث ہو سکتی ہے۔

پراچند نے بھارت کے قریب ترین پڑوسی نیپال میں سن 1996 سے 2006 کے درمیان خانہ جنگی کے دوران ماؤ نواز گوریلا تحریک کی قیادت کی تھی۔ ملک سے 240 سالہ شہنشاہیت کا خاتمہ اور پارلیمانی جمہوریت کے قیام میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف، امریکی صدر جو بائیڈن اور بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی انہیں وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد دی ہے۔

بھارت کی فکرمندی

پشپ کمل دہل نیپال کے 44 ویں وزیر اعظم ہوں گے اور اس عہدے پر تیسری مرتبہ فائز ہورہے ہیں۔ وہ سن 2008 میں نیپال کے پہلے وزیر اعظم بنائے گئے تھے اور سن 2016 میں بھی اس عہدہ پر فائز رہے تھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پراچند کے نیپال کے وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہونے سے بھارت کی فکرمندیاں بڑھ سکتی ہیں، کیونکہ کٹھمنڈو اور دہلی کے درمیان تعلقات پہلے کی طرح خوشگوار نہیں رہے ہیں۔

بھارت کی مخالفت کے باوجود نیپالی پارلیمنٹ میں نیا نقشہ منظور

بین الاقوامی امور کے ماہر اور مشہور تھنک ٹینک آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن میں فیلو ششانک مٹو کا کہنا ہے کہ کرسمس کے روز پراچند کی ڈرامائی واپسی بھارت کے لیے حیران کن ہے۔ بالخصوص اس تناظر میں کہ پڑوسی کے حوالے سے بھارت کی پالیسی اور چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے نیپال دہلی کے لیے خاصا اہمیت کا حامل ہے۔

بھارت اور نیپال کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ

مٹو نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ کم از کم یہ بات تو طے ہے کہ دہلی اور کٹھمنڈو کے درمیان پیچیدہ رشتوں کے تناظر میں پراچند کی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر واپسی بھارت کے لیے فکرمندی کا باعث ہے۔

پراچند اور بھارت کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ

مٹو کا کہنا تھا کہ پراچند اس ماؤ نواز تحریک کے قائد رہ چکے ہیں، جس نے نیپال میں بھارت کے اثرو رسوخ کی مخالفت کی تھی اور بھارت کی حمایت یافتہ نیپال شاہی فوج کے خلاف جنگ کی تھی۔ حالانکہ انہوں نے ماؤنواز جماعتوں کو سیاسی دھارے میں لانے اور ملک میں جمہوری تبدیلی کو مستحکم کرنے میں بھارت کے ساتھ مل کر کام بھی کیا تھا۔

نیپال جیسا چھوٹا ملک بھارت کے سامنے کیسے ڈٹ گیا ہے؟

پشپ کمل دہل نے اپنے ملک میں خانہ جنگی کے دوران ایک طویل عرصے تک بھارت میں روپوشی کی زندگی گزاری اور یہیں سے ماؤ نواز تحریک کی قیادت کی۔ پراچند اور بھارت کے تعلقات میں کافی اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں۔

پراچند نے سن 2009 اور سن2017 میں خود کو اقتدار سے محروم کیے جانے کے لیے بھارت کو مورد الزام ٹھہرایا تھا اور انہوں نے چین کے ساتھ نیپال کی قربت بڑھانی شرو ع کردی تھی۔ بعض علاقائی معاملات پر بھی نئی دہلی کے ساتھ ان کا اختلاف رائے ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود وہ بھارت کے ساتھ وقتاً فوقتاً بات چیت کرتے رہے ہیں اور رواں برس جولائی میں نئی دہلی میں حکمراں بی جے پی کے صدر جے پی نڈا کے ساتھ ملاقات کی تھی۔

نیپال اور چین کی بڑھتی ہوئی قربت

پراچند نے نیپال میں شہنشاہیت کے خاتمے اور جمہوریت کے قیام کے بعد ملک کی تقریباً نصف صدی پرانی ایک روایت توڑدی تھی۔ انہوں نے اپنے پیش رو حکمرانوں کے برخلاف سن 2008 میں ملک کے پہلے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلا دورہ بھارت کا کرنے کے بجائے چین کا کیا تھا۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پراچند اس بار بھی اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر بیجنگ ہی جائیں گے۔

چین اور نیپال کے بعد اب بھوٹان نے بھی بھارت کو آنکھ دکھائی

پراچند کے سب سے اہم اتحادی حلیف کے پی شرما اولی نے اپنے دور حکومت میں بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کا کام تیز کردیا تھا۔ انہی کے دور میں کالا پانی اور لیپو لیکھ سمیت کئی علاقوں میں بھارت اور نیپال کے درمیان علاقائی تنازعات زیادہ ابھر کر سامنے آئے۔

نیپال میں اثرو رسوخ کی جنگ، بھارت اور چین میں مقابلہ

دفاعی امور کے ماہر ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل پرکاش کٹوچ کا کہنا ہے کہ کمیونسٹوں کے نیپال میں ایک بار پھر اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کو یہ توقع رکھنی چاہیے کہ کٹھمنڈو علاقائی مسائل کو ایک بار پھر ہوا دے گا۔ اور یہ ملک بھارت مخالف چین پاکستان اتحاد کی حمایت کرے گا۔(جاوید اختر، نئی دہلی )