• 425
    Shares

سلیم: تملناڈو کے سلیم سے ایک تکلیف دہ واقعہ سامنے آیا ہے جس میں میڈیکل انٹرنس کے لیے نیشنل ایلیجبیٹی اینڈ انٹرنس ٹیسٹ( این ای ای ٹی-نیٹ) نہ پاس کرپانے کی خوف سے ایک لڑکے نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ پولیس نے بتایا کہ لڑکے کی شناخت دھنش کے طور پر ہوئی ہے۔

وہ ریاست کے ضلع میٹّور کے کولائییُر میں آج صبح نیٹ امتحان کے شروع ہونے سے قبل گھر میں مردہ پایا گیا۔ دھنش نے سنہ 2019 میں بارہویں کا امتحان پاس کیا تھا اور وہ گزشتہ دو برس سے نیٹ کی تیاری کر رہا تھا۔ دھنش کل دیر رات تک تیسری کوشش کے لیے امتحان کی تیاری کر رہا تھا۔

پولیس نے کہا کہ آج صبح جب اس کے والدین اسے بیدار کرنے کے لیے کمرے میں آئے تو اسے مردہ پایا۔ اس واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور انہوں نے لاش کو اپنے قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے میٹّور سرکاری اسپتال بھیجا۔

وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن نے دھنش کی خودکشی پر اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ تملناڈو کو نیٹ کے دائرے سے مستقل طور پر آزاد کرنے کے مطالبے والی ایک تجویز اسمبلی سیشن کے آخری دن پیش کی جائے گی، اور اس کے لیے صدر کی اجازت لینی ہوگی۔ تملناڈو کو نیٹ امتحان سے چھوٹ دینے کے لیے مرکزی حکومت کا اڑیل رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسٹالن نے کہا کہ اس بابت قانونی جد و جہد شروع ہو گئی ہے اور امید ہے کہ اس میں ان کی جیت ہوگی۔

ڈی ایم کے نے اپنے انتخابی منشور میں نیٹ امتحان کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اے آئی اے ڈی ایم کے کے شریک کوآرڈینیٹر اور سابق وزیراعلیٰ ای پلانی سوامی نے لڑکے کے مکان پہ جا کر تعزیت پیش کی اور سوگوار اہل خانہ کے تئیں ہمدردی کا اظہار کیا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔