تہران : ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اتوار کو ایک نشری تقریر میں کہا ہے کہ’’امریکہ کو تمام پابندیاں ختم کرنی چاہیں۔اس کے بعد ہم اس امر کی تصدیق کریں گے کہ یہ پابندیاں فی الواقع ہٹا دی گئی ہیں۔پھر ہم کسی حیل وحجت کے بغیر نیوکلیئر سمجھوتے کے تمام تقاضوں کو پورا کریں گے۔‘‘انھوں نے کہا کہ ’’امریکہ کے وعدے قابل اعتبارنہیں۔اس لیے امریکہ کو اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ’’ایران بہت زیادہ ضبط وتحمل کا حامل ہے اور اس کو کوئی سمجھوتا طے کرنے کی کوئی جلدی نہیں۔ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ ان مواقع کو ضائع نہیں ہونا چاہیے لیکن ہم عجلت کا مظاہرہ نہیں کریں گے کیونکہ بعض اوقات خطرہ فائدے سے زیادہ بڑا ہوتا ہے۔‘‘امریکہ اور ایران دونوں یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ نیوکلیئر سمجھوتے کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں لیکن ان کے درمیان اس بات پر اتفاق نہیں پایا جاتا ہے کہ پہلے کون اقدام کرے۔صدر جوبائیڈن ایک سے زیادہ یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ ایران سے 2015ء میں طے شدہ نیوکلیئر سمجھوتے میں دوبارہ شمولیت کو تیار ہے لیکن اس سے پہلے ایران نیوکلیئر سمجھوتے کے تمام تقاضوں کو پورا کرے گا۔امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مئی 2018ء میں اس سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور ایران کے خلاف سخت پابندیاں عائد کردی تھیں۔ایرانی حکام کا کہنا ہیکہ ’’ٹرمپ انتظامیہ کی ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی ناکام رہی ہے۔اب اگر جوزف بائیڈن اسی پالیسی کا انتخاب کرتے ہیں تو وہ ناکام رہیں گے۔‘‘


اپنی رائے یہاں لکھیں