نیوز اینکر کاحجاب پہننے سے انکار؛ایرانی صدررئیسی نے انٹرویومنسوخ کردیا

281

تہران:(ایجنسیز)ایران کے صدرابراہیم رئیسی نے بدھ کی شب امریکا کے کیبل نیوزنیٹ ورک (سی این این) کی عالمی شہرت یافتہ صحافیہ کرسٹین امان پور کے ساتھ طے شدہ انٹرویو منسوخ کردیا ہے۔ان کے اس فیصلہ کا سبب یہ بنا ہے کہ امان پورنے ابراہیم رئیسی کے مطالبے کے مطابق سرپوش اوڑھنے سے انکارکردیا تھا۔ایرانی نژاد برطانوی صحافی امان پور نے ٹویٹر پر اس معاملے کی تفصیل سے متعلق ایک تھریڈ پوسٹ کیا ہے۔اس میں بتایاہے کہ انٹرویو کے آغاز کے لیے 40 منٹ انتظار کرنے کے بعد انھیں کس رویّے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

وہ لکھتی ہیں:’’انٹرویو کا وقت شروع ہونے کے 40 منٹ بعد، ایک معاون آیا۔اس نے کہا کہ صدرابراہیم مجھے (امان پورکو)حجاب پہننے کا مشورہ دے رہے ہیں کیونکہ یہ محرم اور صفر کے مقدس مہینے ہیں‘‘۔امان پور نے کہا کہ انھوں نے شائستگی سے اس تجویز کو ماننے سے انکار کردیا اور نیویارک میں اپنی موجودگی کا حوالہ دیا اور کہاکہ یہاں کسی بھی قانون یا روایت میں حجاب پہننے کی ضرورت نہیں ہے۔

لیکن معاون نے کہا کہ اگر وہ صدر ابراہیم رئیسی کے مطالبے پرعمل نہیں کرتی ہیں تو کوئی انٹرویو نہیں ہوگا۔ امان پور کے مطابق:’’انھوں نے(معاون) سے کہا کہ یہ ’’احترام کا معاملہ‘‘ تھا اور’’ایران کی صورت حال‘‘ کا حوالہ دیا جہاں نامناسب حجاب اوڑھنے کی پاداش میں ایک نوجوان خاتون کی ہلاکت کے ردعمل میں اس وقت ملک گیر مظاہرے جاری ہیں۔

گذشتہ منگل 13 ستمبر کوایران کی اخلاقی پولیس نے مہساامینی کو تہران میں گرفتار کیا تھا۔ وہ گرفتاری کے کچھ ہی دیر بعد کوما میں چلی گئیں اور تین روز بعد گذشتہ جمعہ کو ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔ان کی پُراسرار ہلاکت کے جواب میں ایرانی سوشل میڈیا اور سڑکوں پر مظاہرے کررہے ہیں اور خاص طور پر خواتین نے ان مظاہروں میں اپنے حجاب جلائے ہیں۔

امان پور نے جمعرات کے روز کہا ہےکہ احتجاجی مظاہرے اورمہسا امینی کی موت ایسے موضوعات ہیں جن کے بارے میں وہ ایرانی صدر سے پوچھنا چاہتی تھیں۔چونکہ ایران میں مظاہرے جاری ہیں اور لوگ مارے جارہے ہیں، اس لیے صدررئیسی کے ساتھ گفتگوایک اہم لمحہ ہوتا۔انھوں نے اپنے چینل سی این این سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے 1995 کے بعد سے ہرایرانی صدر کا انٹرویو کیا ہے اورانھیں ماضی میں کبھی ایران سے باہر اسکارف اوڑھنے کے لیے نہیں کہا گیا تھا۔